امریکی وزیرخارجہ جان کیری کا افغانستان کا غیر اعلانیہ دورہ

امریکی وزیرخارجہ جان کیری کا افغانستان کا غیر اعلانیہ دورہ

 کابل (آن لائن) امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری افغان صدر حامد کرزئی سے مذاکرات کے لیے غیر اعلانیہ دورے پر افغانستان پہنچے جہاں انہوں نے کابل میں افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات کی جس میں 2014ءکے بعد افغانستان میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کے بارے میں دفاعی معاہدے کی ان دو نکات پر بات ہوئی جن سے یہ پورا معاہدہ ہی خطرے میں پڑگیا ہے۔بی بی سی کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ صدر کرزئی اور جان کیری کے درمیان ملاقات میں ان نکات پر کوئی پیش رفت ہوئی ہے کہ نہیں۔امریکہ چاہتا ہے کہ اس اہم نوعیت کا دفاعی معاہدے کو اکتوبر کے اختتام تک طے کر لیا جائے۔ دوسری جانب افغان صدر حامد کرزئی کہہ چکے ہیں کہ وہ آئندہ سال اپریل میں صدارتی انتخابات کے بعد تک انتظار کر سکتے ہیں اس معاہدے سے ہی 2014ءکے بعد زیادہ تر غیر ملکی فوجوں کے افغانستان سے چلے جانے کے بعد اس بات کا تعین ہوگا کہ امریکی فوجی افغانستان میں کیسے رہیں گے۔ معاہدے طے کرنے میں ناکامی کی صورت میں تمام امریکی فوجیوں کو افغانستان سے واپس جانا پڑے گا۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک خبر میں کہا کہ وائٹ ہاو¿س افغانستان سے طویل المعیاد دفاعی معاہدے کو ترک کرنے پر آمادہ ہو رہا ہے۔اخبار کے مطابق امریکی وزارتِ دفاع صبر کی تلقین کر رہی ہے جبکہ باقی امریکی انتظامیہ کرزئی کے رویے سے تنگ آ گئی ہے اور افغانستان ان کی نظر میں اہمیت کھوتا جا رہا ہے۔عراق میں بھی امریکی فوجیوں کو مقامی قوانین سے استثنیٰ دینے کے معاملے پر عدم اتفاق سے معاہدہ طے نہیں پا سکا تھا اور تمام امریکی فوجیوں کو عراق سے واپس بلا لیا گیا تھا۔

مزید : علاقائی


loading...