برطانیہ میں مقیم پانچ لاکھ مہاجرین کو عام معافی دی جائے بیدخلی انسانی حقوق کیخلاف ہے :بیرسٹر امجد ملک

برطانیہ میں مقیم پانچ لاکھ مہاجرین کو عام معافی دی جائے بیدخلی انسانی حقوق ...
برطانیہ میں مقیم پانچ لاکھ مہاجرین کو عام معافی دی جائے بیدخلی انسانی حقوق کیخلاف ہے :بیرسٹر امجد ملک

  


لندن (بیور ورپورٹ) اے پی ایل برطانیہ اور راچڈل لاءسوسائٹی کے صدر بیرسٹر امجد ملک نے کہا ہے کہ ہوم سیکرٹری تھریسا مئے کی طرف سے  جاری ہونے والے نئے قوانین دراصل نسلی تعصب کے مترادف ہیں,نئے نافذ ہونے والے ایمگریشن قوانین سے برطانیہ میں افراتفری مچ جائیگی حکومت اس پالیسی پر عمل درآمد کی بجائے, برطانیہ میں مقیم پانچ لاکھ غیر قانونی تارکین وطن کو عام معافی دینے کا اعلان کرے جس سے برطانوی معیشت جو پہلا ہی ڈنواں ڈول ہے کو سنبھالا دیا جا سکتا ہے.’’ روزنامہ پاکستان ‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے امجد ملک  نے کہا کہ نئے قوانین کے تحت ڈاکٹر‘ وکیل ‘ بینک کے ملازمین کو کسی بھی شخص کا ایمگریشن سٹیٹس چیک کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے جس سے نسلی تعصب کی بو آتی ہے انہوں نے کہا کہ پہلے پولیس گوروں کو کم اور کالوں کو زیادہ چیک کرتی تھی ا ور اب برطانیہ میں مقیم غیر قانونی مہاجرین کو انکی بنیادی سہولیات سے بھی محروم کیا جا رہا ہے اگر خدا نخواستہ کسی غیر قانونی مہاجر کا حادثہ ہو جائے تو ڈاکٹر اسکا علاج کرنے سے قبل اسکا ایمگریشن معیار چیک کریگا تو پھر اسکا علاج ہو گا انہو ں نے کہا کہ برطانیہ میںایسے خاندان بھی موجود ہیں جن کے بچے نرسری ‘ سکینڈری ‘ اور حتی کہ یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہیں مگر انہیں آج بھی غیر قانونی مہاجرین تصور کیا جاتا ہے اگر ان لوگوں کو بیدخل کیا گیا تو ان کے بنیادی اور انسانی حقوق سخت متاثر ہونگے انہوں نے انکشاف کیا کہ بدھ کے روز نافذ ہونے والے قوانین کے تحت غیر قانونی مہاجر کو ملازم رکھنے والے کو اب بیس ہزار پاﺅنڈ جرمانہ عائد ہو گا جو اس سے قبل دس ہزار پاﺅنڈ تھا بیرسٹر امجد ملک نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ انسانی حقوق کے علمدار اس ملک میں انسانیت کا احترام کرتے ہوئے ان لوگوں کو عام معافی دیدی جائے جس سے برطانوی معیشت کو سنبھالا جا سکتا ہے ۔

مزید : بین الاقوامی /اہم خبریں


loading...