ڈیموں کی تعمیرمیں مشکلات، ایٹمی بجلی گھر بنائے جائیں‘اکانومی واچ

ڈیموں کی تعمیرمیں مشکلات، ایٹمی بجلی گھر بنائے جائیں‘اکانومی واچ

کراچی(اکنامک رپورٹر) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ ڈیموں کی تعمیر میں مشکلات حائل ہیں جنھیں دور کرنے کی کوششوں کے ساتھ جوہری بجلی گھروں کی تعمیر پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ توانائی کا بحران حل ہونے سے ملکی معیشت ترقی کر سکے۔بعض سیاستدانوں نے کالا باغ ڈیم کے تکنیکی معاملہ کو سیاسی بنا کر ملکی سلامتی سے جوڑ دیا ہے جبکہ دیامر بھاشا ڈیم 2006سے التوا کا شکار ہے جسکی لاگت اب چودہ ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم کی غیر موجودگی میں ملک نہ صرف 4500میگاواٹ بجلی سے محروم رہے گا بلکہ تربیلا ڈیم کی عمر میں بھی پینتیس سال کااضافہ ہو سکے گا نہ سیلاب کی روک تھام ممکن گی۔ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان اپنے وسائل سے دیامر ڈیم نہیں بنا سکتا۔

 ورلڈ بینک اور ایشائی ترقیاتی بینک بھارت کی مرضی کے مطابق سرمایہ کاری کے وعدے سے منحرف ہو گئے ہیں جبکہ امریکہ کی مدد بیانات تک محدود ہے جبکہ اس نے بھارت کی طرز پر پاکستان سے سول نیوکلئیر ڈیل سے بھی صاف انکار کیا ہوا ہے اسلئے توانائی کے دوسرے سب سے سستے زریعے ایٹمی بجلی گھروں کی تعمیر ضروری ہے۔پر امن مقاصد کیلئے جوہری ٹیکنالوجی کے استعمال میں پاکستان کی استعداد، تجربہ، صلاحیت اورحفاظت کا معیار بین الاقوامی معیار کے مطابق ہیں ۔پاکستان کا پہلا نیوکلئیر پاور پلانٹ بیالیس سال سے بغیر کسی حادثہ کے کامیابی سے چل رہا ہے جو ماہرین،پالیسی سازوں اور عوام کے اعتماد کیلئے کافی ہونا چائیے۔ڈاکٹر مغل کے مطابق سینکڑوں جہاز اور آبدوزیں جوہری توانائی سے چل رہی ہیں، اکتیس ممالک میں چار سو تیس ایٹمی پاور پلانٹس کام کر رہے ہیں جبکہ ستر زیر تعمیر ہیں اسلئے چند حادثات کواسکے خلاف جواز بنا کر پاکستان میں توانائی کے اس زریعے کے پھیلاﺅ کو روکنا غلط ہے۔

مزید : کامرس