امریکہ نے عراقی افواج کو کھانے پینے کی اشیاءاور اسلحہ فراہم کر دیا

امریکہ نے عراقی افواج کو کھانے پینے کی اشیاءاور اسلحہ فراہم کر دیا

    بغداد (آن لائن)امریکی فوج نے طیاروں کی مدد سے اسلامک اسٹیٹ کے جنگجوو¿ں کے خلاف برسرپیکار عراقی افواج کو کھانے پینے کی اشیاء اور اسلحہ فراہم کیا ہے۔ ادھر بغداد میں دو کار بم دھماکے ہوئے، جن میں کم از کم اڑتیس افراد ہلاک ہو گئے ۔ فرا نسیسی نیوز ایجنسی کی امریکی دارالحکومت واشنگٹن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق کولیشن افواج نے یہ کھانے پینے کی اشیاءاور اسلحہ ان عراقی فوجیوں تک پہنچایا، جو جنگجوو¿ں کے خلاف لڑائی کرتے ہوئے مختلف علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ ترسیلات عراق کی سکیورٹی فورسز تک پہنچائی گئی ہیں۔ قبل ازیں اس طرز کی ترسیلات انسانی امداد سے متعلق مشن کے تحت اقلیتی گروپوں کے لیے تھیں۔واشنگٹن حکام کے بقول شمالی عراق میں فوجیوں تک یہ سامان پہنچانے کا اقدام بغداد حکومت کی درخواست پر اٹھایا گیا۔ ہوائی جہازوں کی مدد سے مجموعی طور پر چھتیس پیکٹوں میں 7,328 حلال کھانوں کے پیکٹ اور 2,065 گیلن پانی کے علاوہ ہتھیار بھی فراہم کیے گئے ہیں۔یہ امر اہم ہے کہ عراقی سکیورٹی فورسز کو متعدد محاذوں پر اسلامک اسٹیٹ کے جنگجو خاصا مشکل وقت دے رہے ہیں۔

عراقی فوجیوں کو یہ سامان امریکی وزیر دفاع چک ہیگل کے اس بیان کے بعد پہنچایا گیا، جس میں ہیگل نے عراق میں اور بالخصوص انبار صوبے میں جہادیوں کے خلاف کارروائی کو کافی دشوار قرار دیا تھا۔ انہوں نے یہ بیان کولمبیا کے دورے پر دیا تھا۔ بعد ازاں چک ہیگل نے ہفتے کو اپنے ایک تازہ بیان میں کہا کہ اسلامک اسٹیٹ کے خلاف جاری جنگ ’طویل المدتی‘ ثابت ہو گی۔ ادھر عراقی دارالحکومت میں سلسلہ وار دو کار بم حملوں میں کم از کم اڑتیس افراد کی ہلاکت رپورٹ کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ حملے شیعہ اکثریتی علاقوں میں ہوئے۔ مقامی پولیس کے مطابق پہلا دھماکا بغداد کے شمالی حصے الکاظمیہ میں ہفتے کی رات اس وقت ہوا جب ایک خود کش حملہ آور نے بارود سے لدی گاڑی کو ایک سکیورٹی چک پوائنٹ سے جا ٹکرایا۔ اس دھماکے میں تین پولیس افسروں سمیت تیرہ افراد ہلاک اور اٹھائیس دیگر زخمی ہوئے۔بعد ازاں دوسرے حملے میں شہر کے شمال مغرب میں ش±ولہ نامی ضلعے کو نشانہ بنایا گیا، جس میں سات افراد ہلاک اور اٹھارہ دیگر زخمی ہوئے۔ بغداد کے ہسپتالوں نے ہلاک شدگان کی تصدیق کر دی ہے۔تاحال کسی نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے ۔

مزید : عالمی منظر