کیا یہ ورلڈ کپ والی کرکٹ ٹیم ہے؟

کیا یہ ورلڈ کپ والی کرکٹ ٹیم ہے؟
 کیا یہ ورلڈ کپ والی کرکٹ ٹیم ہے؟

  

دوبئی میں کھیلے جانے والے ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میچ میں آسٹریلیا نے 216رنز کا آسان ہدف تسلی سے حاصل کر کے پاکستانی کرکٹ ٹیم کو پانچ وکٹوں سے شکست دے دی ، یوں تین میچوں کی سیریز پہلے ہی دو میچ جیت کر اپنے نام کر لی۔ اس سے پہلے واحد ٹی ٹونٹی بھی آسٹریلیا نے جیتا۔ حالیہ کارکردگی کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ آسٹریلیا تیسرا میچ جیت کر وائٹ واش کرے گا اور پھر ٹیسٹ سیریز کا انجام بھی ایسا ہی ہو گا۔ پاکستان مسلسل چوتھی سیریز ہارا ہے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کی اس بری کارکردی کا الزام جسے بھی دیا جائے اور کوئی بھی جواز پیش کیا جائے، ایک ایسے میچ میں اتنی بری شکست کا جواب نہیں دیا جا سکتا۔ میچ کے حوالے سے بات کرنے سے قبل یہ گزارش کرنا ہے کہ یہ تمام تر ذمہ داری چیف سلیکٹر، منیجر معین خان اور چیف کوچ وقار یونس پر عائد ہوتی ہے جو ٹیم کی کارکردگی کے اصل ذمہ دار ہیں کہ سلیکشن بھی انہی کی مرضی سے ہوئی اور کھلاڑیوں کو نیک و بد بھی یہی سمجھاتے ہیں۔ وقار یونس تو دوسری مرتبہ کوچ کے عہدے پر فائز ہوئے ہیں۔ پہلے دور میں شاہد آفریدی سے تنازعہ ہوا، تب بھی بحیثیت کوچ ان کی کارکردگی متاثر کن نہیں تھی اور وہ واپس آسٹریلیا تشریف لے گئے تھے، جہاں ان کی رہائش ہے۔ اس مرتبہ انہوں نے اپنی بعض شرائط منوا کر اور یہ اعلان کر کے عہدہ سنبھالا کہ ان کی کسی سے کوئی مخاصمت نہیں اور آفریدی سے چشمک پرانی بات ہو گئی ہے۔

خدا لگتی تو یہ ہے کہ جب سے معین خان نے چیف سلیکٹر اور منیجر کے فرائض سنبھالے ہیں، ٹیم کی پرفارمنس گرتی چلی گئی ہے۔ اس بار بھی جو ٹیم منتخب کی گئی اس کے لئے یونس خان سمیت متعدد سینئر کھلاڑی نظر انداز کئے گئے اور انڈر21-19کھیلنے والے دو تین نئے اور نوجوان کھلاڑی شامل کئے گئے، لیکن یہ کیمپ ٹریننگ تک محدود رہے ہیں، ان میں سے کسی کو ٹی ٹونٹی اور پہلا ایک روزہ میچ ہارنے کے بعد بھی موقع نہیں دیا گیا، اگر نوجوانوں کو ورلڈ کپ سے پہلے ہونے والی سیریز میں نہیں آزمایا جائے گا تو ان کے ٹیلنٹ کا کیسے پتہ چلے گا۔

جہاں تک کھیل کا تعلق ہے تو اس پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کریں گے،مگر اس سے پہلے یہ حقیقت واضح کر دیں کہ وقار یونس ایک ہونہار کھلاڑی عمر اکمل کو درست کرنے کی بجائے اس کا کیرئیر ختم کرنے کے در پے ہیں اور اسے شدید قسم کے دباﺅ میں رکھا ہوا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ کبھی وقار یونس کی عمر اکمل کے بھائی کامران اکمل سے کوئی ٹھنڈی میٹھی ہو گئی ہو، عمر اکمل نے پہلے ایک روزہ میچ میں مشکل حالات میں 46رنز کی اننگ کھیل لی تھی، لیکن اس میچ میںکہ پہلی جوڑی نے 120رنز کا سٹینڈ دیا، وہ پانچ رنز ہی بنا سکے۔ آخر کیوں؟.... دباﺅ میں اچھی اننگ کھیلنے کے بعد اوپر معقول سکور والی اننگ میں ایسا کیوں نہ کر سکے تو قارئین کرام! آپ میں سے جو کرکٹ کے شائق ہیں اور جنہوں نے ٹی وی پر میچ دیکھا ہے، انہوں نے یہ بھی دیکھا ہو گا کہ باری آنے سے قبل عمر اکمل چیف کوچ وقار یونس کے پاس حاضر تھے۔ وقار یونس سخت گیر، تناﺅ والے چہرے کے ساتھ اسے کچھ ہدایات دے رہے تھے اور وہ سرجھکا کر جی جی کرتے نظر آ رہے تھے، ایسے میں ایک نوٹ کرنے والی بات یہ تھی کہ عمر اکمل کا رنگ پھیکا پڑا ہوا تھا اور وہ اپنی انگلی کا ناخن دانتوں سے توڑ رہے تھے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق یہ ذہنی دباﺅ کے باعث ہوتا ہے اور اس وقت عمر اکمل پر کیا دباﺅ ہو سکتا تھا ماسوا اس امر کے کہ وقار یونس اسے ٹھیک پرفارم کرنے کا کہہ رہے ہوں اور ساتھ ہی یہ بھی بتانے کی کوشش کر رہے ہوں کہ وہ (عمر اکمل) اچھا نہ کھیلے تو انہیں ٹیم سے باہر بٹھا دیا جائے گا، پھر وہ واپس کھیلنے والی الیون کا حصہ نہیں بن پائیں گے۔ ہم نے تو یہ سین دیکھتے ہی یقین کر لیا تھا کہ عمر اکمل اس میچ میں کچھ نہیں کر سکے گا کہ چیف کوچ کے دباﺅ کی وجہ سے وہ کھیل پر پوری توجہ مرکوز نہیں کر سکے گا اور ایسا ہی ہوا، قارئین! آپ وہ ویڈیو کلپس پھر سے دیکھیں، جب عمر اکمل آﺅٹ ہو کر واپس آ رہا تھا تو اس کے چہرے پر کیسے تاثرات تھے۔ وہ غم میں ڈوبا نظر آیا کہ چیف کوچ پہلے ہی یہی چاہتے تھے۔

اگر اسے غیر منطقی نہ سمجھا جائے تو شاہد آفریدی کی بات کر لیتے ہیں، وہ بطور کھلاڑی عرصہ دراز سے سکور نہیں کر رہا، حالانکہ اس کی تمام تر شہرت تیز کھیل کر سکور کرنے والے کی ہے، لیکن وہ اول تو دو یا چار سکورکر کے واپس پویلین میں آجانا ہے یا پھر زیادہ سے زیادہ 14 رنز کر سکا ہے۔ اس مسلسل ناکام کھلاڑی کو نہ صرف ٹیم میں رکھا گیا، بلکہ اسے اب ٹی ٹونٹی کا کپتان بھی بنا دیا گیا ہے، وہ تو ایک روزہ میچوں کی کپتانی کے لئے بھی لابنگ کر رہا تھا۔ آفریدی کے سکور نہ کرنے کے باوجود ٹیم میں سلیکشن کا جواز یہ کہہ کر دیا جاتا ہے کہ وہ اچھا فیلڈر ہے اور باﺅلنگ کر کے آﺅٹ بھی کر لیتا ہے، حالانکہ صرف اس بناءپر بھی اس کی پرفارمنس پر سوالیہ نشان ہے کہ وکٹیں بھی کبھی کبھار ہی حاصل کرتا ہے، البتہ فیلڈ میں کپتان کی موجودگی میں کپتان جیسی حرکتیں ضرور کرتا ہے۔ وہ بوم بوم ہے تو کافی ہے ۔

ٹیم مینجمنٹ کی ہنرمندی ملاحظہ فرمائیں کہ انور علی کو باہر بٹھا کر نوجوان رضا کو شامل کیا گیا۔ فاسٹ باﺅلر کی جگہ ایک سپنر شامل ہوا۔ ذرا حکمت عملی ملاحظہ فرمائیں۔ ٹیم میں ذوالفقار بابر اور شاہد آفریدی بھی ہیں جو لیگ سپن ہی کرتے ہیں، اس پر رضا حسن کو کھلایا تو وہ بھی لیگ سپنر ہے، حالانکہ انور علی کو باہر بٹھانا تھا تو اس کی جگہ سہیل تنویر کو کھلانا چاہئے تھا کہ اس اننگ میں احمد شہزاد کے باﺅلنگ کرنے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ بوقت ضرورت اسے استعمال کیا جا سکتا ہے اور وہ بھی لیگ سپنر ہے۔ دوسری طرف ٹیم مینجمنٹ نے اچھی حکمت عملی وضع نہ کی۔ احمد شہزاد اور سرفراز احمد جم کر کھیل رہے تھے۔ غالباً ہدایت ملی اور انہوں نے سکورنگ ریٹ بڑھانے کے لئے تیز کھیلنا شروع کر دیا، یوں دونوں باری باری وکٹیں گنوا بیٹھے، حالانکہ وہ بہتر انداز سے کھیل رہے تھے۔ رنز کی شرح آخری دس اوورز میں تیز کی جانی چاہئے تھی۔ اس وقت تک یہ دونوں حضرات قریباً 5رنز فی اوور کی شرح سے سکور کر رہے تھے۔

آسٹریلیا والے مختلف باﺅلر آزماتے اور ان کو تیز کھیلنے پر آمادہ کرتے رہے۔ ان کی حکمت عملی کامیاب رہی اور وہ ان دونوں کو بھی آﺅٹ کرنے میں کامیاب ہو گئے، پھر دباﺅ سے باہر نہ نکلنے دیا اور کوئی بھی کھلاڑی اس سے نہ نکل پایا اور آﺅٹ بھی ہوتے رہے۔ توقع 300 سے زائد سکور کی تھی، لیکن صرف 216سکور ہوئے۔چیئرمین شہریار خود وہاں موجود ہیں۔ انہوں نے میچ بھی دیکھا اب وہ خود فیصلہ کر لیں کہ موجودہ مینجمنٹ سود مند ہے یا نہیں؟ بہتر ہے کہ ان کو رخصت کیا جائے اور زیادہ بہتر اور غیر جانبدار قسم کے لوگ لائے جائیں۔ جہاں تک بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور کا تعلق ہے تو وہ بھی نشانوں کی زد میں ہے، ابھی تک اس کی طرف سے کچھ نہیں کیا گیا۔

مزید : کالم