حکومت کی مدت چار سال کرنے کی تجویز۔۔۔ معاملہ پارلیمنٹ میں لے کر آئیں

حکومت کی مدت چار سال کرنے کی تجویز۔۔۔ معاملہ پارلیمنٹ میں لے کر آئیں


قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ حکومت بحران کے خاتمے کے لئے حکومتی مُدت ایک سال کم کر لے، ہم دیگر قوتوں کو حکومت کو مزید تین سال دینے کے لئے راضی کر لیں گے، پاکستان کو سازش کے تحت چاروں طرف سے گھیرا جا رہا ہے، ہمارے دشمن نہیں چاہتے ایٹمی ملک اقتصادی قوت بھی بنے۔ خورشید شاہ نے کہا وزیراعظم سے استعفا لیا جا سکتا ہے، نہ آئین میں مڈٹرم الیکشن کی گنجائش ،ڈنڈے سے حکومتیں بنتی، گرتی رہیں تو افغانستان سے بُرا حال ہو گا۔

حکومت کی مدت پانچ سال سے کم کر کے چار سال کرنے کی تجویز پہلے بھی پیش کی جا چکی ہے، جب یہ تجویز سامنے آئی تھی تو وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا تھا کہ اگر ملک کی باقی سیاسی قوتیں اس کے لئے رضا مند ہوں تو انہیں حکومت کی مُدت کم کرنے پر کوئی اعتراض نہیں، اس وقت آئینِ پاکستان کے تحت حکومت کی مُدت پانچ سال ہے۔جسے کم کرنے کے لئے آئین میں ترمیم کرنا ہو گی۔2002ء میں جنرل پرویز مشرف کی حفاظتی چھتری تلے ،جو انتخابات ہوئے اور اس کے نتیجے میں جو حکومت بنی اس نے اپنی مُدت پوری کی، 2008ء میں الیکشن ہوئے ،اس کے نتیجے میں بننے والی پیپلزپارٹی کی حکومت نے بھی اپنی مدت پوری کی البتہ اس سے پہلے1985ء سے لے کر1997ء تک بننے والی پانچ حکومتوں میں سے کوئی بھی اپنی مُدت پوری نہ کر سکی۔ان میں جونیجو، بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی حکومتیں شامل تھیں۔1985ء کے انتخابات جنرل ضیاء الحق نے غیر جماعتی بنیادوں پر کرائے تھے۔ اس کے نتیجے میں جو اسمبلی وجود میں آئی اس کے رکن محمد خان جونیجو کو جنرل ضیاء الحق نے وزیراعظم نامزد کیا تھا۔ جونیجو نے وزیراعظم بنتے ہی غیر جماعتی اسمبلی کو جماعتی بنانے کے لئے اقدامات شروع کر دیئے اور حکومت کے حامی منتخب ارکانِ اسمبلی کو مسلم لیگ کی تشکیل پر راضی کیا۔ اگرچہ جونیجو کا انتخاب جنرل ضیاء الحق نے من مرضی سے کیا تھا، لیکن جلد ہی دونوں کے درمیان مختلف امور پر اختلافات نے سر اٹھانا شروع کر دیا۔ روس نے افغانستان سے نکلنے کا یکطرفہ فیصلہ کیا، تو اس سے پہلے جنیوا میں مذاکرات ہوئے۔ وزیراعظم جونیجو نے ان مذاکرات کی حمایت کی اور ان کے نتیجے میں جنیوا معاہدہ ہو گیا، جو ضیاء الحق کو پسند نہیں تھا۔ اُن کا خیال تھا یہ معاہدہ روس کی ضرورت ہے ہماری چنداں ضرورت نہیں۔ روس شکست کھا کر افغانستان سے نکلنے پر مجبور ہے، اس لئے افغانستان میں نئی حکومت کا بھی ساتھ ہی اعلان ہونا چاہیے،جو پاکستان دوست ہو اور مُلک میں قیام امن کے لئے یقینی اقدامات کر سکے، بصورتِ دیگر مُلک میں خانہ جنگی ہو گی اور افغانستان کی متحارب قوتیں آپس میں دست و گریباں ہو جائیں گی، جنیوا معاہدہ تو ہو گیا، لیکن افغانستان میں امن قائم نہیں ہو سکا۔ ضیاء الحق کے اندازے کے مطابق افغانستان میں خانہ جنگی بھی شروع ہو گئی۔ طالبان کا ظہور اِسی خانہ جنگی کے نتیجے میں ہوا تھا اور بالآخر طالبان اقتدار پر بھی قابض ہو گئے، لیکن جنیوا معاہدے کے معاملے پر پاکستان کے صدر اور وزیراعظم کے درمیان جو اختلافات پیدا ہو گئے تھے وہ بالآخر جونیجو حکومت کی برطرفی پر منتج ہوئے۔

آئین کی آٹھویں ترمیم کے تحت صدر نے آئین کے آرٹیکل 58(2) بی کے تحت جو نیجو کی حکومت ختم کر دی، لیکن ڈھائی ماہ بعد ہی خود جنرل ضیاء الحق کے طیارے کو حادثہ پیش آیا اور وہ اپنے بعض ساتھی جرنیلوں اور افسروں کے ساتھ اللہ کو پیارے ہو گئے۔ ان کے بعد 1988ء میں صدر اسحاق خان نے جو انتخابات کرائے وہ سپریم کورٹ کے حکم پر جماعتی بنیادوں پر ہوئے، پیپلزپارٹی کی حکومت بنی، لیکن بے نظیر بھٹو کی یہ حکومت1990ء میں غلام اسحاق خان نے ختم کر دی۔ دوبارہ انتخابات ہوئے، جس کے نتیجے میں میاں نواز شریف پہلی بار وزیراعظم بنے، لیکن اُن کے اور صدر اسحاق خان کے درمیان بھی اختلافات کی خلیج اتنی وسیع ہو گئی کہ صدر نے وزیراعظم کی حکومت برطرف کر دی۔ اس برطرفی کے خلاف سپیکر قومی اسمبلی گوہر ایوب خان نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا، جس نے اسمبلی اور حکومت بحال کر دی، لیکن یہ بحال شدہ حکومت زیادہ دیر تک چل نہ سکی، کیونکہ غلام اسحاق خان نے صوبائی گورنروں اور حکومتوں سے مل کر وفاقی حکومت کو بے دست و پا بنا کر رکھ دیا۔ اپوزیشن لیڈر بے نظیر بھٹو بھی نئے انتخابات کے لئے دباؤ ڈال رہی تھیں۔انہوں نے ایک لانگ مارچ کا اعلان بھی کیا، لیکن عسکری قیادت کی مداخلت سے لانگ مارچ تو نہ ہو سکا البتہ مذاکرات کے ذریعے ایسا راستہ نکالا گیا کہ وزیراعظم کے ساتھ صد رکو بھی استعفے دے کرگھروں کو جانا پڑا، دوبارہ انتخابات کے نتیجے میں بے نظیر بھٹو دوسری بار وزیراعظم بن گئیں، لیکن اب کی بار اُن کے اپنے بنائے ہوئے صدر فاروق احمد خان لغاری نے جنہیں وہ بھائی کہا کرتی تھیں پیپلزپارٹی کی حکومت ختم کر دی۔دوبارہ انتخابات میں نواز شریف دوسری بار وزیراعظم بن گئے۔ انہوں نے وزیراعظم بننے کے بعد پہلی فرصت میں پارلیمنٹ سے تیرھویں ترمیم منظور کرائی جس کے تحت صدر کو حاصل اسمبلی توڑنے کا اختیار ختم ہو گیا۔ اس اقدام سے صدر سے اسمبلی توڑنے کا اختیار تو واپس لے لیا گیا، لیکن غیر سیاسی قوتیں بدستور متحرک رہیں۔12اکتوبر1999ء کو وزیراعظم نواز شریف نے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کو ہٹا دیا جس کے ردعمل میں فوج نے مداخلت کر کے اقتدار سنبھال لیا۔ وزیراعظم نواز شریف گرفتار ہو گئے اور طیارہ ہائی جیکنگ کیس میں سزا یاب ہونے کے بعد ایک سال کے بعد جلا وطن ہو گئے۔

اس ساری تفصیل سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ85ء،88ء،90ء،93ء اور97ء میں بننے والی کوئی بھی اسمبلی اور حکومت اپنی مدت پوری نہ کر سکی۔ اس کی اور بھی متعدد وجوہ ہوں گی، لیکن اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ تشکیلِ حکومت کے کچھ ہی دیر بعد مخالف قوتیں حکومت کے خلاف متحرک ہو جاتی ہیں اور نئے انتخابات کا مطالبہ شروع ہو جاتا ہے۔ اب بھی عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری دو ماہ سے اسلام آباد میں دھرنوں پر بیٹھے ہوئے ہیں اور اب جلسے کر رہے ہیں، جن میں وزیراعظم کے استعفے اورنئے انتخابات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ کسی دوسری جماعت نے وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ نہیں کیا اور پارلیمنٹ کے اندر کی تمام جماعتوں نے وزیراعظم کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا، لیکن اب مختلف حلقوں کی جانب سے مڈٹرم انتخابات کی باز گشت سُنی جانے لگی ہے۔ پنجاب کے سابق گورنر لطیف کھوسہ سمیت کچھ لوگ اگلے سال نئے الیکشن کی بات کر رہے ہیں، حکومتی حلقے البتہ مُدت پوری کرنے کا اعلان کر رہے ہیں۔

ان حالات میں خورشید شاہ کی حکومت کی مُدت چار سال کرنے کی تجویز بھی بالواسطہ طور پر قبل از وقت انتخابات کی حمایت ہی سمجھی جائیگی، کیونکہ اگر یہ تجویز مان لی جائے، تو لامحالہ نئے انتخابات ہی ہوں گے، مگر اس کے لئے آئین میں ترمیم کی ضرورت ہو گی، تاہم اس سے پہلے اس تجویز پر پارلیمنٹ میں کھل کر بحث ہونی چاہئے اور اگر چار سال کی حکومت میں ملک و قوم کے لئے کچھ فوائد نظر آتے ہیں، تو وہ بھی سامنے لانے چاہئیں ہمارے ہاں عام طور پر آئینی ترامیم کو عوام سے چھپ چھپا کر جلدی جلدی اسمبلی سے منظور کرانے کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے اور اگر اسمبلی کی کسی کمیٹی میں کسی معاملے پر بحث ہوتی بھی ہے تو بھی یہ عوام کی نظروں سے اوجھل رہتی ہے، جبکہ اس پر کھلے عام اور سیر حاصل بحث کی ضرورت ہوتی ہے،جس چیز نے بالآخر عوام کی زندگیوں کو منفی یا مثبت طور پر متاثر کرنا ہے۔ اسے عوام سے خفیہ رکھنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ سید خورشید شاہ نے جو تجویز پیش کی ہے اُسے اسمبلی میں لائیں، جس پر کھل کر بحث ہو اور جو بھی فیصلہ ہو اس کے مطابق عمل کر لیا جائے۔ ایسے لگتا ہے کہ پیپلزپارٹی بھی قبل از وقت انتخابات کے راستے پر چلنے کا فیصلہ کر چکی ہے، لیکن اس کے لئے سیدھے سبھاؤ مطالبہ کرنے کی بجائے خورشید شاہ سے ایسی تجویز پیش کرا دی ہے،جو اگر قبول ہوجائے تو اس کے نتیجے میں مقررہ مُدت سے ایک سال پہلے انتخابات ممکن ہو سکیں گے۔ بہرحال جو بھی معاملہ ہے اسے پارلیمنٹ میں لے کر آئیں، تمام سیاسی جماعتیں کھل کر بحث کریں، عوام کو اس کے فوائد سمجھائیں، جلد بازی میں کوئی نیا تجربہ کرنے کی ضرورت نہیں، ویسے دنیا کے بہت سے ملکوں میں حکومت کی مدت چار سال ہے اور چار سال میں حکومتیں چاہیں تو بہت کچھ ڈلیور بھی کر دیتی ہیں۔

مزید : اداریہ