عوام نوٹ دیں ،ووٹ دیں ، سپورٹ دیں ، قائداعظم کا پاکستان واپس دونگا :طاہرلقادری

عوام نوٹ دیں ،ووٹ دیں ، سپورٹ دیں ، قائداعظم کا پاکستان واپس دونگا ...

     فیصل آباد(بیورورپورٹ)پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر طاہرالقادری نے عوام سے انقلاب لانے کے لئے سیاسی سپورٹ‘ نوٹ اور ووٹ کی مدد مانگ لی انہوں نے تاریخی جلسہ گاہ دھوبی گھاٹ میں انقلاب کارواں کے پہلے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہ کہ عوام مجھ سے تینوں چیزیں دینے کا وعدہ کریں میں بدلے میںانقلاب دوں گا فیصل آباد کے وکلاءہائی کورٹ بینچ مانگ رہے ہیں ہم اقتدار میں آئے تو فیصل آباد کو صوبہ بنائیں گے اور فیصل آباد میں ہائی کورٹ نہیں سپریم کورٹ کا بینچ بنائیں گے جبکہ ضلع جھنگ چنیوٹ اور ٹوبہ میں ہائی کورٹ کے بینچز کا قیام عمل میں لایا جائے گا اسلام آباد سپریم کورٹ صرف قانون سازی اورحکومتی کام کرے گی جبکہ سرگودھا‘ گوجرانوالہ‘ راولپنڈی‘ ملتان اور سرائیکی بیلٹ کو ان کی مرضی کے مطابق صوبہ بنا کر دیں گے انہوں نے اپنے انقلابی منشور کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار میں آ کر ہر شے کو میڈان پاکستان اور میڈفار پاکستان بنا دیں گے عدالتوں کا نظام درست کریں گے فوجداری مقدمہ کا فیصلہ صرف ایک ماہ میں ہو گا ہائی کورٹ کی اپیل صرف تین ماہ کے اندر جبکہ دیوانی مقدمات صرف چھ ماہ کے اندر نمٹا دیئے جائیںگے یونین کونسل لیول پر کالج قائم کریں گے فیصل آباد کا ٹیکس صرف فیصل آباد پر ہی لگے گا انہوں نے کہا کہ پندرہ ہزار روپے سے کم آمدنی والے گھرانے کو بجلی کا آدھا بل معاف کر دیا جائے گا دو سال کے اندر بجلی کا بحران ختم کر دیں گے کیونکہ ہمارے پاس ہر گھر کو بجلی دینے کیلئے 12منصوبے ہیں جن کا اعلان لاہور والے جلسے میں کریں گےانہوں نے کہا کہ میں ذاتی لالچ یا اقتدار کے لئے میدان سیاست میں نہیں آیا میں تو کینڈا بیٹھ کر 8سال سے قرآن و حدیث کے لئے تحقیقی کام میں مصروف تھا اور مسلمانوں کیلئے اگلے 1000سال کے لئے لٹریچر تیار کر رہا تھا مگر مجھے میرے ضمیر نے جھنجھوڑا کہ اس دھرتی نے تمہیں پیدا کیا ہے پاکستان نے مجھے ڈاکٹر طاہرالقادری بنایا ہے اور ڈاکٹر طاہرالقادری بننے میں فیصل آباد کا بڑا عمل دخل ہے اس کے گورنمنٹ کالج میں دو سال تک زیر تعلیم رہا ہوں اب تن من دھن کی بازی لگانے آیا ہوں میری نہ زرداری سے عداوت ہے نہ نواز شریف سے میری عداوت اس نظام سے ہے جس نے غریب سے نوالہ چھین کر اسے خودکشی اور خودسوزی کرنے پر مجبور کررکھا ہے ڈاکٹر علامہ طاہرالقادری نے حکمرانوں کو چیلنج کیا کہ دنیا کے کسی کونے میں میری پراپرٹی یا کسی بنک میں میرا پیسہ تلاش کر لو اور ثابت کر دو تو مجھے سزائے موت دے دینا میں لٹیرا نہیں ہوں اور نہ ہی لٹیرے اور وڈیرے میری ساتھی ہیں میں ملک کے پیسے سے ملک کو عظیم اور قوم کو عظیم بنانا چاہتا ہوں انہوں نے عوام اور کارکنوں سے کہا کہ کل سے انقلاب اکاﺅنٹ کھل جائیں گے بچے سکول کا جیب خرچ اور بڑے چاہے دس روپے جمع کروائیں آپ کے نوٹوں سے انقلاب آئے گا سیلاب کا تدکرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ ہر تین یا چار سال بعد سیلاب آتا ہے گذشتہ سیلاب کے بعد 57ارب روپے سیلاب کی روک تھام کیلئے رکھے گئے تھے مگر کوئی نہیں جانتا کہ وہ پیسہ کہاں گیا اس سیلاب نے جتنی تباہ کاری کی اس کے ذمہ دار حکمران ہیں کسانوں کو 240ارب روپے کا نقصان ہوا 25لاکھ ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں فیصل آباد‘ جھنگ اور چنیوٹ میں 30ہزار ایکڑ پر دھان کی فصل تباہ ہوئی 70ہزار ایکڑ پر گنا تباہ ہوا 25ہزار ایکڑ پر کاشت کی گئی سبزیاں ضائع ہوئیں متفرق تقریبا بیس لاکھ ایکڑ پر فصلوں کا نقصان ہوا جبکہ 15ہزار مویشی مارے گئے اور 250پولٹری فارم صفحہ ہستی سے مٹ گئے ان سب کے ذمہ دار حکمران ہیںجو اس وقت فی ایکڑ چار ہزار روپے دے رہے ہیں جو کہ کسانوں سے ناانصافی ہے انہوں نے کہا کہ فیصل آباد کے عوام کی پندرہ ہزار ایف آئی آر ایسی ہے جو کاٹی نہیں گئی اور وہ ظلم سہنے پر مجبور ہیں ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے مہنگائی بڑھتی چلی جا رہی ہے اور ملک قرضوں پرچل رہا ہے مگر حکمران عیاشیوں میں مصروف ہیں اگر یہی نظام رہا تو ملک کی کشتی الٹ جائے گی 1970میں پاکستان پر غیر ملکی قرضہ 3.4ارب ڈالر تھا 1980 میں بڑھ کر 9.93ارب ہو گیا پھر 1990میں 20.66اور 2010میں 54.60ہوا اب صورتحال یہ ہے کہ 65.5ارب ڈالر قرضہ ہو چکا ہے 35ارب ڈالر ایسے ہیں جنہیں سرمایہ کاری کہا جا رہا ہے حقیقت یہ ہے کہ قوم 90ارب ڈالرکی مقروض ہے جس خاندان کی آمدن بیس ہزار روپے ماہانہ ہے وہ اپنا گھر نہیں چلا سکتے اقلیتیں اپنے حقوق سے محروم ہیں ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ ہم پرامن پاکستان کی جدوجہد کر رہے ہیں جس میں فرقہ واریت انتہا پسندی کا خاتمہ ہو گاتکفیریت کا قانون بدلا جائے گا اور کوئی کسی کو کافر نہیں کہہ سکے گامیں نے کینڈا میں بیٹھ کر صرف ایک جرم کیا ہے کہ میں نے دس نکاتی ایجنڈا اس قوم کے لیے تیار کیا ہے کہ ہر غریب کو روٹی کپڑا اور مکان ملے اور اس جرم کی سزا مجھے اس طرح دی گئی کہ 17جون کو میرے گھر اور منہاج القرآن مرکز پر خونی حملہ کروایا گیا انہوں نے کہا کہ دھرنا ختم نہیں ہوا وہ اسلام آباد میں جاری ہے اور جلد ہم پورے ملک میں دھرنوں کا بھی اعلان کریں گے انہو ںنے دعوی کیا کہ اس وقت فیصل آباد کے جلسہ میں تین لاکھ سے زائد افراد موجود ہیں حکمران اس جلسہ سے اندازہ کر لیں کہ لاہور میں کیا منظر ہو گا 1970کی تحریک کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کا آغاز بھی فیصل آباد سے ہوا تھا اور ہم نے اپنے انقلابی جلسوں کا آغاز بھی اسی شہر سے کیاہے فیصل آباد نے بتا دیا کہ انقلاب کی پہلی جنگ ہم جیت چکے ہیں فیصل آباد کا فیصلہ پورے پنجاب کا فیصلہ ہےسابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور پاکستان مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری پرویز الہٰی نے کہا کہ لندن پلان کا شوشہ چھوڑنے والوں کو آج بتانا چاہتا ہوں کہ ہاں ہم نے لندن میں بیٹھ کر پلان بنایا تھا شوشہ چھوڑنے والوں نے اسے ساز ش کہا مگر وہ سازش نہیں اتحادیوں کا ایک ایجنڈا تھا عوام کو حقوق دلوانے کا ایجنڈا اور ہم اسی ایجنڈے پر چل رہے ہیں جس سے حکمرانوں کو تکلیف ہوتی ہے ہمارا ایجنڈا عام آدمی کی امیدوں کا محور ہے انہوں نے کہا کہ آج مجھے موقع ملا ہے کہ اہل فیصل آباد سے گلہ کروں میں نے اپنے دور میں 22ارب روپے سے کارڈیالوجی ہسپتال بنایا ‘فیصل آباد میں برن یونٹ بنایا‘ ساڑھے چار سو ایکڑ اراضی پر انڈسٹریل اسٹیٹ بنائی‘ 200ایکڑ پر گارمنٹس سٹی بنایا رنگ روڈ کے منصوبے پر 6ارب روپے سے کام شروع کروایا مگر شہباز شریف اسی منصوبے کی رقم جنگلہ بس کے لئے لاہور لے گئے آج فیصل آباد والے جواب دیں کہ ہم نے خدمت میں کونسی کسر چھوڑی تھی میں شہباز شریف کو مناظرہ کرنے کا چیلنج کرتا ہوں کہ وہ اپنے 15سالہ اقتدار کا میرے پانچ سالہ وزارت اعلیٰ سے موازنہ کر لیں اگر شہباز شریف کو بھگا نہ دیا تو میرا نام بدل دینا انہوں نے نواز شریف پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کو نرنیدر مودی کے خلاف بات کرتے ہوئے غشی کے دورے پڑتے ہیں حکمرانوں کو خدا کا خوف کرنا چاہیے کم از کم شہیدوں کی بات تو کریں جو بارڈر پر بے گناہ مارے جا رہے ہیںانہوں نے کہا کہ اہل فیصل آباد نے ق لیگ سے وفا نہیں کی ہم نے ان کو 100ایکڑ پر انجینئرنگ یونیورسٹی اور جی سی کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دیا جہاں کسی وقت ڈاکٹر طاہرالقادری بھی زیر تعلیم رہے انہوں نے کہا کہ ہم نواز شریف کو وزیر اعظم نہیں مانتے مگر اب وہ پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں تو ان کو یہ بات بتلانا چاہتے ہیں کہ اب دھاندلی کا نظام مزید نہیں چلے گاچیئرمین سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ محمد حامد رضا نے دھوبی گھاٹ فیصل آباد میں عوامی تحریک کے جلسہ عام ‘جلسہ کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رانا ثناءاللہ کہتے تھے کہ جلسے میں ایک ہزار لوگ نہیں ہوں گے اب آ کے دیکھ لیں، کتنے کلومیٹر تک عوام کا سمندر موجود ہے یہ وہ تاریخی گراﺅنڈ ہے جہاں پر جنرل ضیاءنے سرعام پھانسیاں دیںتھیں انشاءاللہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے ذمہ داران کو بھی اسی گراﺅنڈ پر پھانسی دیں گے چیئرمین سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ محمد حامد رضا نے کہا کہ میرے والد صاحبزادہ فضل کریم نے مشکل وقت میں نواز شریف کا ساتھ دیا تھا اور اقتدار کے دنوں میں اقتدار کو ٹھوکر مار کراصولی مﺅقف پر دہشتگردی کے خلاف ڈٹ گئے تھے۔ انہوں نے ڈاکٹر طاہر القادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں فضل کریم کا بیٹا ہوں ، کٹ سکتا ہوں مر سکتا ہوں لیکن ساتھ نہیں چھوڑوں گا۔ ہم شہر محدث اعظم میںڈاکٹر طاہر القادری ، علامہ راجہ ناصر عباس ، چوہدری پرویز الہٰی اور طارق محبوب اور دیگر اتحادیوںکو خوش آمدید کہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جس طرح سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے شہدا ءکا خون حکمرانوں کے سرہے اسی طرح ورکنگ باﺅنڈری لائن پر بھارتی جارحیت کا نشانہ بننے والے 14 پاکستانیوں کا خون بھی نواز شریف اور شہباز شریف کے سر ہے۔ہمارے حکمران بھارتی حکمرانوں کو ساڑھیوں اور آموں کے تحفے بھیجتے ہیں اور بھارتی حکمران ہمیں سیلاب اور لاشیں بھیجتے ہیں اس لئے میں کہتا ہوں کہ انڈیا کا جو یار ہے غدار ہے ۔ مجلس وحدت المسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ظالم نظام کی دشمنی پر کارکنوں کو سلام پیش کرتا ہوں اور کارکنوں کا خون انقلاب ضرور لائے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا دوماہ کی تحریک کو سٹیٹس کو کے حامیوں نے بدنام کیا اور اسٹیٹس کو کے حامی قاتلوں کی حمایت کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں۔ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا دھرنے سے عوام میں بیداری پیدا ہوئی ہے دہشت گرد رسوا ہوئے ہیں اور ہم خون کے آخری قطرے تک اکٹھے رہیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا ظلم کی سیاہ رات مٹنے کو ہے اور اجالے آنے والے ہیں۔

مزید : صفحہ اول