66سال بعد مسلہ کشمیر حل نہ ہو نا اقوام متحدہ کی ناکامی ہے، بلاول بھٹو زرداری

66سال بعد مسلہ کشمیر حل نہ ہو نا اقوام متحدہ کی ناکامی ہے، بلاول بھٹو زرداری
66سال بعد مسلہ کشمیر حل نہ ہو نا اقوام متحدہ کی ناکامی ہے، بلاول بھٹو زرداری

  

 کراچی( سٹاف رپورٹر+اے این این+این این آئی+ مانیٹرنگ ڈیسک) پیپلز پارٹی کے سرپرست اعلیٰ بلاول بھٹو زرداری نے کہاہے کہ ہم اپنی مشکلات کے خود ذمہ دار ہیں کسی اور کو الزام نہیں دے سکتے، ہم پر آمروں نے حکمرانی کی مگر اب بالغ النظر ہونے کی ضرورت ہے، سرمایہ دارانہ نظام کے تجربات نے ملک کونقصان پہنچایا، نئی نسل جمہوری اورمعاشی طور پر مستحکم پاکستان چاہتی ہے، ہمیں اپنے فیصلوں اوراقدامات کی ذمہ داری لیناہوگی،ایک قوم بن کرآگے بڑھناہوگا، پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہے، ہمیں ان لوگوں سے چھٹکارا پانا ہوگا جو ملک کو زہرآلود کررہے ہیں،ہم سب کو پاکستان کی بیٹی ملالہ یوسفزئی پر فخر ہیں،ہمیںبم کی جگہ کتاب کی ضرورت ہے، مسئلہ کشمیر کے باعث خطے میں امن نہیں، 66سال بعد بھی اس مسئلے کا حل نہ ہونا اقوام متحدہ کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔وہ اتوارکویہاں سندھ اسمبلی میں نیشنل یوتھ پارلیمنٹ سے خطاب کررہے تھے ۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں، ہمیں اپنے نوجوانوں کو مستقبل کا لیڈر بنانے کی ضرورت ہے، انہیں لفظ نوجوان سے اختلاف ہے، نوجوانوں کو کنسرٹس میں بلا کر یا لیپ ٹاپ بانٹ کر بلایا جاتا ہے لیکن اس لئے وہ نوجوانوں سے خطاب نہیں کررہے بلکہ مستقبل کے قائدین سے خطاب کررہے ہیں۔ ان کے نانا ذوالفقارعلی بھٹو نے پاکستان کو ایٹمی ملک بنایا،ان کی والدہ بینظیر بھٹو کو مسلم دنیا میں کسی بھی ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم ہونے کا اعزازحاصل ہے۔ ہم کنسرٹ اور لیپ ٹاپ سے اپنا نام نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ آج خطہ پہلے سے زیادہ غیرمحفوظ ہے اور پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہے، اس صورت حال میں ہمیں ایک قوم بننا ہوگا، ہمیں ان لوگوں سے چھٹکارا پانا ہوگا جو ملک کو زہرآلود کررہے ہیں، غیرریاستی عناصر کا مقصد ہمیشہ سے ہی جنگ ہوتا ہے، یہ کسی بھی ملک کے لئے خطرے کا باعث بنتے ہیں کیونکہ انہیں کوئی ملک قابو نہیں کرسکتا۔ ہم پر آمروں نے حکمرانی کی لیکن ہمیں اب بالغ النظر ہونے کی ضرورت ہے، ہمیں اس بات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینا ہوگا کہ آج ہم کہاں کھڑے ہیں کیونکہ ہماری مشکلات کا ذمہ دار کوئی اور نہیں ہم خود ہیں، ہمارے پاس صرف 2 راستے ہیں، ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم ایک مذہبی اورشدت پسند ملک بنیں یا پھر ہم دنیا میں کامیابی سے چمکتا ہوا ملک بنیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ نسلیں ہتھیاروں سے نہیں تعلیم سے پہچانی جائیں گی،ہمیں بموں کی جگہ کتابیں لینا ہوں گی، ہم سب پاکستان کو بیٹی ملالہ یوسفزئی پر فخر ہیں۔ ہم سب کو پاکستان کی بیٹی ملالہ یوسفزئی پر فخر ہیں،اگر ملالہ تعلیم کے لئے علم جہاد بلند نہ کرتیں تو انہیں دنیا میں کوئی نہ جانتا۔ ہماری نئی نسل جمہوری اورمعاشی طور پر مستحکم پاکستان چاہتی ہے۔ ہماری نسل جمہوری، پرامن، خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان کا مطالبہ کرتی ہے۔ انہوںنے کہا کہ جمہوری پاکستانی ہونے کے ناطے ہمیں یہ کہنا ہوگا کہ ماضی خود کو دہراتا ہے اور تاریخ اپنے آپ کو پھر دہرارہی ہے، ذوالفقارعلی بھٹو اور بے نظیر بھٹو نے مقبوضہ کشمیر پر سفاکانہ قبضے کے خلاف پاکستانیوں اور کشمیریوں کی آواز کودنیا تک پہنچایا، دنیا نے پاکستان کی بات نہیں سنی اسی لئے آج عالمی امن صرف ایک خواب سے زیادہ نہیں۔ آج کشمیر کے مسئلے کے باعث خطے میں امن نہیں، اقوام متحدہ نے کشمیریوں کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے امن قائم کرنے کے لئے کہا تھا، کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہونا اقوام متحدہ کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے،اقوام متحدہ کو اپنی کمزوریوں کا تجزیہ کرنا ہوگا۔ اقوام متحدہ کی جانب سے کمشیر پر قرارداد کی منظوری کو 66 برس سے زائد گزر گئے لیکن اب تک اس پر کوئی عمل نہیں ہوا۔ کشمیری عوام اب بھی اس وعدے پر عمل کے لئے انتظار کررہے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری

مزید : صفحہ اول