پاکستان اور بھارت کی حکومتیں بات چیت سے تمام مسائل حل کریں ، اسفندیار ولی

پاکستان اور بھارت کی حکومتیں بات چیت سے تمام مسائل حل کریں ، اسفندیار ولی


چارسدہ ( آئی این پی ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے پاکستان اور بھارت کی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ بات چیت سے تمام مسائل حل کیے جائیں ، محاذ آرائی کی وجہ سے دونوں ممالک کا دفاع پر بے تحاشہ خرچہ آرہا ہے ، یہی پیسہ دونوں ملک اپنی ترقی پر خرچ کریں تو سالوں میں ملایشیا اور دبئی کو پیچھے چھوڑدینگے ، وزیر ستان اپریشن کو منطقی انجام تک پہنچانا لازمی ہے ، افعانستان میں قیام پذیر پاکستانی آئی ڈی پیز کو بھارت پاکستان کے خلاف کرنے کی وہ غلطی نہیں کرے گا جو پاکستان نے 1983میں افغان جہاد کے نام پر کی تھی ، سوات اور وزیر ستان اپریشن کا کوئی موازنہ نہیں سوات میں مقامی شمالی وزیر ستان میں عرب ، ازبک اور تاجک دہشت گرد موجود تھے، تحریک انصاف گھنٹوں کے حساب سے ڈیڈ لائن دیتی رہی ، ملکی تاریخ میں پہلی بار جرنیل نے خود واضح کیا کہ سیاسی معاملات میں فوج کوئی مداخلت نہیں کرے گی ، نواز شریف صحیح وقت پر فیصلے نہیں کررہے ، وہ اتوار کو سعادت آباد اتمانزئی میں پیپلز پارٹی چارسدہ کے صدر تیمور خٹک اور ان کے ساتھیوں کی عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت کے حوالے سے منعقدہ جلسہ سے خطاب کے بعد میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ دنیا پختونوں کو انتہا پسند اور دہشت گر د سمجھتے تھے مگر ملالہ یوسفزئی نے امن نوبل انعام حاصل کر کے دنیا پر ثابت کر دیا کہ پختون ترقی پسند اور قوم پرست قوم ہیں۔ اللہ کے کرم سے دنیا میں کہیں نہ کہیں ایک کرن اٹھتی ہے جس کی روشنی اور تپش پوری دنیا میں محسوس کی جاسکتی ہے ۔ ملک کی سیاسی صورتحال کے حوالے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ تحریک انصاف گھنٹوں کے حساب سے ڈیڈ لائن دیتی رہی وہ تھرڈ ایمپائر کی خوش فہمی میں انگلی اٹھانے کا انتظا ر کرتے رہے مگر پاکستان کے تاریخ میں پہلی بار جرنیل نے ٹی وی پر آکر واضح کیا کہ سیاسی معاملات میں فوج کوئی مداخلت نہیں کرے گی جس کے بعد تحریک انصاف نے تھرڈ ایمپائر پر خاموشی اختیار کر لی ۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ اے این پی نواز شریف کا دفاع نہیں بلکہ آئین اور پارلیمنٹ کی لڑائی لڑ رہی ہے۔ اگر کوئی نواز شریف کو آئینی طریقے سے ہٹانا چاہتے ہیں تو اے این پی مخالفت نہیں کرے گی ۔ اگر کوئی نواز شریف کی کمپنٹی پر پستول رکھ کر ہٹانا چاہے اور آئین کے خلاف ورزی کرے تو ہمارا ہاتھ ان کے گریباں پر ہو گا ۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد پاکستان کے آئین میں مڈٹرم کاکوئی تصور نہیں یہ اختیار صرف میاں نواز شریف کو حاصل ہے کہ صدر مملکت کو اسمبلی توڑنے کی ایڈوائس بھیجیں ۔ اسفندیار ولی خان نے افغانستان سے نیٹو اور امریکی افواج کے انخلا کے حوالے سے کہا کہ موٹر وے کے راستے امریکی افواج اور ساز و سامان کا انخلا جاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فوج دعویٰ کر رہی ہے کہ شمالی وزیر ستان کے 90فی صد علاقہ کلےئر ہو چکا ہے اگر ان کا دعویٰ درست ہے تو آئی ڈی پی پیز کو باعزت طریقے سے واپس بھیجنا چاہیے مگر حقیقت دیکھا جائے تو ں اپریشن کی وجہ سے لوگوں کے گھر بار ملیامیٹ ہو چکے ہیں ایسے حالات میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان کیلئے متبادل انتظامات کئے جائے ۔

اسفند یار

مزید : صفحہ آخر