بوسٹن،سائنس نے باتوں کو بھلا دینا ممکن کر دیا

بوسٹن،سائنس نے باتوں کو بھلا دینا ممکن کر دیا
بوسٹن،سائنس نے باتوں کو بھلا دینا ممکن کر دیا

  

بوسٹن ( نیوز ڈیسک ) اکثر اوقات ماجی کی تلخ یادیں ہزار کوششوں کے باوجود ہمارے ذہن سے نہیں نکلتیںاور مسلسل کرب کا باعث بنتی ہیں اور ہم شدت سے چاہتے ہیں کہ کسی طرح انہیں بھول سکیں۔ تاحال تو حقیقت یہی ہے کہ ایسی یادوں کو بھولنا ہمارے اختیار میں نہیں لیکن اب سائنسدانوں نے ایک ایسی ایجاد کر لی ہے کہ جس سے یہ ممکن نظر آتا ہے کہ دماغ سے ناپسندیدہ اور تلخ یادوں کو ایسے صاف کر دیا جائے جیسے وہ کبھی تھی ہی نہیں۔سٹینفرڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے جدید Optogenotics ٹیکنالوجی کی مدد سے اس نظریے کو ثابت کر دیا ہے کہ واقعات اور جگہوں سے متعلق یادیں دماغ کے مخصوص حصے کارٹیکس میں پروسیس ہوتی ہیںاور پھر ہپو کیمپس نامی حصے میں انہیں ری پلے کیا جاتا ہے جس سے سارے واقعات دوبارہ ہماری نظروں کے سامنے آ جاتے ہیں۔سائنسدانوں نے چوہوں کے دماغ میں فائبر آپٹک کیبل لگا کر مخصوص روشنی سے دماغ کے خلیات سے ذخیرہ کی گئی یادوں کو غائب کر دیا۔اس کے بعد تجربات سے ثابت ہو گیا کہ چوہوں میں ماضی کے خوف اور دہشت کے تجربات مکمل طور پر ختم ہو چکے تھے۔ماہرین نے امید ظاہر کی ہے کہ اس طریقہ کو استعمال کر کے انسانی دماغ میں سے بھی ماضی کی تلخ یادوں کو ڈیلیٹ کیا جا سکتا ہے۔

مزید : صفحہ آخر