حکومت نے سیکرٹری پانی و بجلی کے عہدے پر تجربہ کار انجینئرز رکھنے کا فیصلہ کر لیا

حکومت نے سیکرٹری پانی و بجلی کے عہدے پر تجربہ کار انجینئرز رکھنے کا فیصلہ کر ...
حکومت نے سیکرٹری پانی و بجلی کے عہدے پر تجربہ کار انجینئرز رکھنے کا فیصلہ کر لیا

  

لاہور (ویب ڈیسک ) بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخ اور قابو سے باہر ہونیوالی لوڈشیڈنگ کے بعد وفاقی حکومت نے سیکرٹری پانی و بجلی کے عہدے پر تجربہ کار انجینئرز کو رکھنے کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے، سیکرٹری پانی و بجلی نرگس سیٹھی کی مدت ملازمت دو ماہ بعد ختم ہوجائیگی،وفاقی حکومت نے نرگس سیٹھی کو ریٹائرمنٹ کے بعد کنٹریکٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق لاہور، اسلام آباد، پشاور، ملتان، گوجرانوالہ، حیدر آباد اور فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی میں سیکرٹری نرگس سیٹھی نے اپنی کارکردگی کو بہتر دکھانے کیلئے تمام کمپنیوں میں اووربلنگ کروا دی جس سے ظاہری طور پر ریکوری بڑھ گئی مگر صارفین کی طرف سے اووربلنگ کے معاملے پر خوفناک ردّعمل کے باعث وزیراعظم نواز شریف نے تمام کمپنیوں میں اووربلنگ کے معاملے پر انکوائری کرائی جس کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ لیسکو، فیسکو، حیسکو، میپکو اور گیپکو نے سب سے زیادہ اوور بلنگ کی جبکہ اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی نے قدرے کم اووربلنگ کی۔ مجموعی طور پر ملک کے سبھی صارفین سے 7.5ارب روپے کی اووربلنگ کی گئی جس سے تمام کمپنیوں کے لائن لاسز میں .30 فیصد کمی واقع ہوئی اور ریکوری 90 فیصد سے بڑھ کر 96 فیصد تک ہوگئی ۔ نرگس سیٹھی کے احکامات کے بعد کمپنیوں کی کارکردگی تو بہتر ہوئی مگر صارفین کی اضافی بلوں کے 7.5ارب روپے کے بوجھ نے کمر توڑ دی۔ صورتحال کے پیش نظر نرگس سیٹھی نے قبل از ریٹائرمنٹ چھٹی لے لی جسکے بعد وفاقی حکومت نے تجربہ کار انجینئر کو سیکرٹری پانی و بجلی کے عہدے پر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور نرگس سیٹھی کو سیکرٹری پانی و بجلی پر ریٹائرمنٹ کے بعد توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انجینئر کو بھرتی کرنے کے اس اقدام کا مقصد صارفین کو ریلیف دینا اور بجلی کا بحران کم کرنا ہے۔ اس سے قبل وفاقی حکومت نے وفاقی سیکرٹری قانون ظفر اللہ خاں کو بھرتی کیا ہے جو صرف ایک معروف قانون دان ہیں اور انکا تعلق وکالت سے ہے۔

مزید : بزنس