کلکرنی کے چہرے پر سیاہی ،بھارت سیکولر نہیں متعصب ریاست ہے

کلکرنی کے چہرے پر سیاہی ،بھارت سیکولر نہیں متعصب ریاست ہے

  

کراچی : تجزیہ مبشر میر

بھارت سیکولر نہیں متعصب ریاست ہے ۔جہاں رواداری اور ہم آہنگی کو فروغ ملنا مشکل ہوتاجارہا ہے ۔شیوسینا جیسے متعصبانہ گروپس کی وجہ سے بھارت میں علیحدگی پسندی کا رجحان مزید بڑھے گا ۔پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کی کتاب کی تقریب اجراء کے آرگنائزسر مندیرا کلکرنی کے چہرے پر سیاہی لگادی گئی جو انتہائی قابل مذمت ہے ۔مسٹر کلکرنی ایک فعال شخصیت ہیں ۔کالم نویس بھی ہیں اور میوزک آف دی سپننگ ویل "Music of the spinning wheel"کتاب کے مصنف بھی ہیں ۔وہ پاک بھارت مذاکرات کے زبردست حامی ہیں ۔انہوں نے پاکستانی گلوکار استاد غلام علی کے میوزک کنسرٹ کی بھی حمایت کی تھی ۔انہوں نے 7اکتوبر کو اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ٹویٹ کیا کہ شیوسینا کو پاکستان بھارت ایشوز پر نیشنلزم کا ماسک پہن کر سستی سیاست نہیں کرنی چاہیے ۔ہم قیام امن کی کوششیں کرنے والے بھی محب وطن ہیں ۔انسانی حقوق کمیشن پاکستان کو چاہیے کہ وہ شیوسینا کی بھرپور مذمت کرے اور سرمندیرا کلکرنی کو پاکستان آنے کی دعوت دے ان کے لیے امن ایوارڈ کا اعلان کرے ۔کلکرنی جی مہاتما گاندھی کی عدم تشدد فلاسفی کے حامی ہیں جبکہ بھارت ٹائیلٹ تحریک کے لیے بھی کام کرتے ہیں ۔وہ 19نومبر کو بھارت میں ورلڈ ٹائیلٹ ڈے بھی مناتے ہیں ۔انہوں نے دہلی میں محمداخلاق کے قتل کی بھی مذمت کی تھی جنہیں گائے کا گوشت کھانے کے شبہ میں قتل کیا گیا تھا ۔

مزید :

تجزیہ -