پائیدار ترقی کے لئے امن و امان کی اہمیت

پائیدار ترقی کے لئے امن و امان کی اہمیت
 پائیدار ترقی کے لئے امن و امان کی اہمیت

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

’’اس وقت دنیا میں معاشی جنگ کا نیا مرحلہ شروع ہو چکا ہے، امریکی صدرٹرمپ کے صدارت کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے گلوبل ورلڈ کا نعرہ بہت مقبول تھا، لیکن صدر ٹرمپ نے سب سے پہلے امریکہ کا نعرہ لگا کر دنیا کو پیغام دیا کہ ہم سب سے پہلے امریکہ کے معاشی مفادات کا تحفظ کریں گے، چنانچہ اسی نعرے کے بعد باقی دنیا نے بھی نئے سرے سے اپنے معاشی مفادات کو مدِ نظر رکھ کر پالیسیاں ترتیب دینی شروع کردیں۔ ویسے بھی ڈبلیو ٹی او اجازت دیتا ہے کہ ہر ملک اپنی انڈسٹری اور بزنس کو محفوظ بنانے کے لئے مناسب ضابطے وضع کرسکتا ہے‘‘۔

ان خیالات کا اظہار یونائٹیڈ بزنس گروپ کے چیئرمین اور بزنس لیڈر افتخار علی ملک نے کراچی میں اپنی نوعیت کی پہلی تقریب کے اختتام پر خصوصی گفتگو میں کیا، آئی ایس پی آر اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس میں ہونے والی اس تقریب کا پروگرام تو پہلے ترتیب دیا گیا تھا، لیکن اس دن بارش کی وجہ سے اس تقریب کو ملتوی کردیا گیا اور دوروز پہلے اس کا انعقاد کراچی گولف کلب کے کنونشن سینٹر میں کیا گیا، جس میں فوج کی اعلیٰ ترین قیادت کے ساتھ پاکستان کے چوٹی کے بزنس مین، بزنس لیڈرز اور ہم عہدیدار اور ماہرین معاشیات موجود تھے۔ کی نوٹ خطاب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کیا اورسب سے اہم نکتہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی اور معیشت کا گہرا تعلق ہے، ملک کی پائیدار ترقی کے لئے امن و امان کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔


ماہرین معاشیات میں سے ڈاکٹر اشفاق حسن، سٹیٹ بینک کے سابق سربراہ ڈاکٹر عشرت حسین ماہر معاشیات ڈاکٹر سلیمان شاہ وغیرہ نے بہت مدلل انداز میں پاکستان کی موجودہ معیشت کا تجزیہ کیا۔ بزنس لیڈر افتخار علی ملک نے تقریر کرتے ہوئے چند تجاویز پیش کیں۔ زراعت کے شعبہ میں ترقی کرنے کے لئے بہت ضروری ہے کہ فی ایکٹر پیداوار میں اضافہ کیا جائے۔ ہائی برڈ ٹیکنالوجی کی مدد سے پاکستان اپنی زرعی پیداوار میں اضافہ کرے۔

معاشی ترقی کے اہداف حاصل کرنے کے لئے بہت ضروری ہے کہ ہر شعبہ میں ریسرچ سے فائدہ اٹھایا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کی زمین میں ہر قسم کی فصل اگانے کی صلاحیت رکھی ہے،ہمیشہ اس نعمت خداوندی سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہئے، سی پیک منصوبے کی افادیت سے کسی کو انکار نہیں ہے اور یہ منصوبہ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں ہے، بلکہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے درست کہا ہے کہ اس منصوبے سے پورے خطے کو فائدے حاصل ہوں گے، ایس ایم ای کے فروغ سے پاکستان اپنی معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے کے ساتھ ساتھ پائیدار معاشی اہداف بھی حاصل کرسکتا ہے۔ ایکسپورٹ میں اضافے کے لئے خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔


ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سربراہ ایس ایم منیر نے بہت جرأت مندانہ تقریر کی اور آج کل کی معاشی صورت حال کی اصل تصویر پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ہمیں پی آئی اے اور سٹیل مل سے حکومت کی جان چھڑانے کے لئے کچھ نہ کچھ ضرور کرنا پڑے گا، کیونکہ آج کی خبر کے مطابق پی آئی اے کا خسارہ چار ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے اور پاکستان سٹیل مل کے ملازمین مل بند ہونے کے باوجود ایک ارب کی تنخواہیں باقاعدگی سے حاصل کررہے ہیں، جس کا سارا بوجھ قومی خزانے پر پڑتا ہے، ورنہ دوسری حالت میں یہی رقوم قوم کی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر لگائی جا سکتی ہیں، ایکسپورٹ میں اضافہ مشکل نہیں ہے، لیکن ریفنڈ کی رقوم واپس نہ ملنے کی وجہ سے ہماری ایکسپورٹ متاثر ہو رہی ہے،فیصل آباد کو پاکستان کا مانچسٹر کہا جاتا ہے، لیکن چند معاشی پالیسیوں کی اصلاح نہ ہونے کی وجہ سے فیصل آباد انڈسٹری کا قبرستان بن رہا ہے، ایکسپورٹ بڑھانے کے لئے ضروری ہے کہ ریفنڈ کی رقوم جلد از جلد ادا کی جائیں۔


افتخار علی ملک نے پوری تقریب کا تجزیہ کرتے ہوئے بتایا کہ پہلی مرتبہ عسکری قیادت اور صنعت و تجارت کے درمیان انتہائی خوشگوار حالات میں مکالمہ ہوا ہے، میری خواہش ہے کہ خصوصاً سی پیک کے حوالے سے اس مکالمے کو جاری رہنا چاہئے اور مختلف چیمبرز میں بھی اس موضوع پر سیمینارز کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ سیکیورٹی یعنی امن و امان کا معیشت سے بہت گہرا رشتہ ہے، صرف کراچی کی مثال کو دیکھیں۔

پہلے جرائم پیشہ عناصر کی وجہ سے کراچی کے بزنس عذاب میں مبتلا تھے، لیکن فوج کے جرأت مندانہ آپریشن کی وجہ سے جرائم پیشہ عناصر کے قدم اکھڑ چکے ہیں، جو کراچی اندھیروں میں ڈوب چکا تھا اور معاشی سرگرمیوں پر جمود طاری ہوچکا تھا، اب اس شہر کراچی کی رونقیں لوٹ آئی ہیں اور کراچی ایک بار پھر روشنیوں کا شہر بن چکا ہے، اس کارنامے پر فوج زبردست شاباش کی مستحق ہے۔

آج بھی اپنی تقریر میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے سی پیک کا ذکر کرتے ہوئے بہت حوصلہ افزا باتیں کیں اور بزنس کمیونٹی کو بتایا کہ سی پیک سے پاکستان کی معیشت میں خوشگوار تبدیلیاں آئیں گی، اب نئی انڈسٹری اور نئی سرمایہ کاری کرنے والوں کو گبھرانے کی ضرورت نہیں ہے۔

امن و امان کی وجہ سے کاروباری حالات نارمل ہوچکے ہیں۔ ابھی چند روز پہلے یونائٹڈ بزنس گروپ نے بھی اسی موضوع پر اپنی کورکمیٹی کا اجلاس میاں محمد ادریس کی سربراہی میں منعقد کیا تھا، اس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان میں معیشت کو صحیح راستے پر گامزن رکھنے اور ایکسپورٹ میں اضافہ کرنے کے لئے جلد از جلد سفارشات تیار کی جائیں، کیونکہ ملک میں امن و امان کی صورت حال تسلی بخش ہے، اس لئے ہم چند انقلابی اقدام کر کے پاکستان کی معیشت کو مزید خراب ہونے سے بچاسکتے ہیں اور اسے بلندی کی طرف لے کر جاسکتے ہیں۔

مزید :

کالم -