فرق ہزاراں کوہاں دا

فرق ہزاراں کوہاں دا
فرق ہزاراں کوہاں دا

  

کھیل بدلا نہ کھیلنے والوں کے انداز بدلے، وہی شہ چالیں ، وہی مہرے ،وہی پیادے ، وہی مات کے شوق میں شہ مات ہونے کے منظر،وقت بدل گیا، مگر کھیل بدلانہ پس پردہ رہ کر کھیلنے والوں کا شوق تماشا بدلا۔

مسلم لیگ کی زرخیزی کو سلام ایک اور مسلم لیگ پیدا ہو گئی ’’ملی مسلم لیگ‘‘ بات یہیں نہیں رکی مذہب کے نام پر ایک اور ٹیم بھی گراؤنڈ میں اتار دی گئی ’’ لبیک یارسول اللہ‘‘ کمال کی دانشوری ہے ، ان کی منطق کو سلام کہ ان گروہوں کو قومی دھارے میں لارہے ہیں جناب تعصب کا شکار گروہ قومی دھارے میں کیسے آ سکتے ہیں اور پوری قوم کی نمائندگی کیسے کریں گے۔

کیاان کی سوچ قومی ہے؟ ان کی تخلیق کسی قومی نظریہ پر ہے ؟ ان کا مشن کون سے قومی نظریہ پر ہے؟؟اس نظام کو کمزور کرنے کے لئے سیاسی ہلچل کے ساتھ کچھ مذہبی گرما گرمی کی بھی ضرورت تھی تا کہ کھیل کو دلچسپ بنایا جائے۔

نپولین بونا پارٹ یاد آگیا۔نپولین نے تاریخ کا گہرا مطالعہ کیا تھاوہ کہتا ہے کسی بھی جمہوری حکومت کو ختم کرنے کے لئے ملک میں افراتفری بہت ضروری ہے ہرشخص ہراساں اور بے یقینی کا شکار ہونا چاہئے،افواہوں کا بازار گرم ہونا چاہئے ،مذہب کو نازک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا پڑتا ہے اور لوگوں کو یقین دلا دیا جائے کہ آئینی حکومت نا اہل ہے‘‘ ہمارے ہاں کیا ہو رہا ہے یہی سب کچھ تو ہو رہا ہے۔

نپولین کی آئیڈیالوجی آج پون صدی بعد پوری طرح آزمائی جارہی ہے ۔ہمارے ٹی وی چیلنلز پر شام ہوتے ہی ریٹائرڈ،مگر انتہائی جوان جذبوں سے بھرپورسول و ملٹری آفیسرز کے جن سے ٹی وی چینلز کی رونقیں آباد ہیں اور ریٹنگ کے اعداد و شمار قائم ہیں اس قوم کو کیا دے رہے ہیں سوائے بے یقینی کے۔دنیا کے کسی عام معمولی عقل و فہم والے انسان سے پوچھ لیں کہ کیا دریا کو الٹا بہایا جا سکتا ہے ، وقت کو پیچھے موڑا جا سکتا ہے تو وہ اس کا جواب نفی میں دے گا، لیکن ریٹائرڈ دانشواروں کا خبطی گروپ روزانہ دریا کو الٹا بہا کر اٹھتا ہے یہ وقت کا پہیا الٹا گھمانے کے کرتب دکھانے میں کمال شعبدہ بازی کے مظاہرے دکھاتے ہیں۔ٹی وی ٹاک شوز سے اِن ریٹائرڈ سرکاری آفیسرز کو ہٹا کر دیکھ لیں تو افرتفری، انتشار، بے یقینی ،مخدوش مستقبل ، نااہل سیاستدانوں اور ایڈونچر کی بجائے آپ کو امن ، سکون ،روشن مستقبل ، امید کی کرنیں اور مہذب معاشرہ کا منظر نظر آئے گا۔

کمپیوٹر گیمز یقیناًبڑی دلچسپ ہوتی ہیں آج کل وہیل گیم کے بڑے چرچے ہیں، لیکن جودلچسپ کھیل ہمارے شام سات سے بارہ بجے والے کھلاڑی ٹی چینلز پر کھیلتے ہیں ان کے مقابلے میں یہ کمپیوٹر گیمز کچھ بھی نہیں ۔اتنے انہماک سے لوگ دیکھنے پر مجبور ہوتے ہیں جیسے اگلے چند لمحوں میں یہ سب کچھ اتھل پتھل کر کے رکھ دیں گے۔

میڈیا کا ہتھیار ہاتھ میں آنے سے اور سیاستدانوں کے پہلے سے زیادہ سمجھدار ہونے سے اسٹیبلشمبٹ نے بھی کچھ داؤ پیچ بدلے ہیں۔ سیاستدانوں کو اعصابی شکست کی بجائے نفسیاتی مار مارنے کے لئے ریٹائرڈ مجاہد فورس کو میدان میں اتارا ہے جو روز سیاستدانوں کا مورال ڈاؤن کرنے کاکام پوری تندہی سے کر رہی ہے۔ ریٹائرڈ مجاہد فورس نے سیاستدانوں کے خلاف چند مخصوص چینلز پربڑے مضبوط مورچے سنبھال رکھے ہیں ۔

منگولوں کا نظریہ بڑا کمال کا تھا چینگیز خان نے کہا تھا ’’ جنگ میں دو قوتیں کارفرما ہوتی ہیں فزیکل فورس اور مورال فورس اگرچہ فزیکل فورس زیادہ طاقتور ہوتی ہے، لیکن مورال فورس فزیکل فورس کے لئے آکسیجن کا کام کرتی ہے مورال فورس ختم ہو جائے تو فزیکل فورس خود بخود شکست مان لیتی ہے۔‘‘ دفاعی تجزیہ کاری تو ان ریٹائرڈ دانشوروں کی سمجھ میں آتی ہے، مگر سیاسی معاملا ت پر ان کی طبع آزمائی کی داد دینا پڑتی ہے بڑے حوصلے کی بات ہے جس چیز کا آپ کو بالکل تجربہ نہ ہو اس پر بھی آپ پوری سنجیدگی سے دانشوری کے موتی بکھیرتے ہیں۔کسی بھی معاشرے کو بے یقینی کا شکار کرکے منزل سے دور کرنا ہو تو ایسے لوگوں کو مختلف عوامی فورمز پر لگا دیں جن کو اپنے اپنے فورم کی الف ب کا بھی علم نہ ہو۔

اکبر کے نو رتن آج زندہ ہوتے تو ان لوگوں کی دانشوری دیکھ کردنگ رہ جاتے۔

نواز شریف تیسری بار اقتدار سے نکال دئیے گئے۔ان کے بعد اس کے پارٹی وررکرز کا مورال ڈاؤن کرنے کے لئے روز نئی افواہوں کے ذریعے پارٹی کو کمزور کرنے کا کھیل شروع ہوگیا۔نواز شریف نے جی ٹی روڈ پر نکل کر اپنے کارکنوں کا مورال گرنے سے بچا لیا۔نفسیاتی جنگ نواز شریف جیت گیا، لیکن اس جنگ کو کسی مقام پر روکنا لازم ہے نہیں تو اداروں میں ٹکراؤ سے کھیل تمام ہو جائے گا ۔نواز شریف کو کھیل کا فیصلہ باہر بیٹھے کھلاڑیوں کی خواہش پر نہیں ہونے دینا چاہئے۔ اس میں ہی ان کی اور اس نظام کی بقا ہے۔

آج کل آمریت کے گن کانے والے بھی میدان میں اتر چکے اور وہی بے سرا راگ الاپنے لگے۔جمہوریت کی بجائے آمریت کی تعریفیں کرنے والے کیا یہ بتائیں گے کہ آمر آکر کن فرشتوں کے ذریعے یہ نظام چلائے گا۔چار مارشل لا لگے ثابت یہی ہوا کہ مسائل پہلے سے مزید گھمبیر ہوجاتے ہیں اور پولٹیکل سسٹم رکنے سے نظام مزید کرپٹ ہو جاتا ہے۔

نا اہل و نکمے لوگوں کو اوپر آنے کا موقعہ ملتا ہے اور جینوئن سیاسی کارکنوں کا راستہ رک جاتا ہے۔ آمریت کی نرسری سے مصنوعی سیاستدان اگنے لگتے ہیں اور سارا سیاسی نظام کمزور ہوتا ہے۔بار بار جمہوری ڈھانچہ ٹوٹنے سے پولیٹیکل پارٹیز کو نیا خون نہ مل سکا ا ن کی جگہ چند خاندانوں کی اجارہ داری ہو گئی۔کیا اس سوال کا جواب مارشل لا کے خواہش مند یہ بقراط دے سکتے ہیں کہ چند مخصوص خاندانوں کو کس نے ا س ملک کی سیاست پر مسلط ہونے کا موقعہ دیا۔

کس نے کنونشن لیگ، مجلس شوری، مسلم لیگ (ق) جیسے ڈرامے رچا کر مختلف علاقوں سے وڈیروں، جاگیرداروں، صنعت کاروں اور گدی نشینوں کو اقتدار کی لت لگائی اور مڈل کلاس طبقہ کے راستے میں دولت و طاقت کی ایک منحوس دیوار کھڑی کی، جس سے عام لوگ اس نظام سے متنفر ہوگئے، کیونکہ ان کے لئے اس میں آگے بڑھنے کے کوئی مواقع موجود نہیں ہیں۔

خدارا جمہوریت کو چلنے دیں ،جمہوریت چلے گی تو پارٹیاں اپنے اندر جمہور ی طریقے اپنانے پر مجبور ہوں گی۔آمریت اور ایسی ہی کوئی قومی حکومت کسی بھی طرح منتخب حکومت کا نعم البدل نہیں ہو سکتی۔آمریت اور قومی حکومت سے آئینی و جمہوری حکومت ہزار درجہ بہتر ہے۔ بظاہرآ مریت اور جمہوری حکومت دونوں حکومتیں، لیکن جب ان کا تجزیہ کیا جائے تو وہی فرق نظر آتا ہے جو بقول میاں محمد بخش

کچ وی منکا ، لعل وی منکا ، اکو رنگ

جد صرافاں اگے جاواں ،فرق ہزارں کوہاں دا

مزید : کالم