سابق وائس چانسلروں کے ہاتھ میں ہتھکڑیاں

سابق وائس چانسلروں کے ہاتھ میں ہتھکڑیاں

قومی ادارہ احتساب ’’خود مختار‘‘ ادارہ ہے، خود وزیراعظم عمران خان نے کہا یہ ان کا ماتحت ادارہ نہیں۔ وزیر اطلاعات فواد چودھری بھی یہی کہتے ہیں، نیب کے سربراہ جسٹس (ر) جاوید اقبال ہیں، وہ سپریم کورٹ کے جج رہے۔ وہ کہتے ہیں احتساب بیورو کا کسی سیاسی تبدیلی سے کوئی تعلق نہیں، ہم بدعنوانی اور کرپشن کے خلاف نبردآزما ہیں اور یہ خدمت کسی امتیاز کے بغیر سرانجام دیتے رہیں گے، اسی سلسلے میں چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس ثاقب نثار نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے تھے کہ نیب کو تحقیق کرنا ہو تو ضرور کرے لیکن کسی کی عزت نفس مجروح نہ کی جائے۔ اس سلسلے میں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ نیب کے بعض اقدامات سے ایسا ہوا۔ پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران اور یونیورسٹی ہی کے دوسرے پانچ اساتذہ کے ساتھ تو وہ ہو گیا جس کی توقع نہیں کی جاتی نیب نے ڈاکٹر مجاہد کامران کو بیان کے لئے بلایا، پھر اسی یونیورسٹی کے دو سابق رجسٹرار اور تین اساتذہ بھی بلائے گئے بیانات تو شاید اپنی جگہ ہوئے ہوں تاہم پریس ریلیز کے ذریعے بتایا گیا کہ ان کو کرپشن کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔سرگودھا یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم چودھری کو ہتھکڑی لگائی گئی،بلکہ اس کی ٹیلی ویژن پر تشہیر بھی کی گئی،انا للہ وانا الیہ راجعون۔وہ عربی زبان و ادب کے ممتاز اسکالر ہیں اور انہیں بلاشبہ علمی دنیا میں معتبر حیثیت حاصل ہے۔ان کے ساتھ جو یہ رویہ برتا گیا ہے وہ تہذیب و شائستگی کے بالکل برعکس ہے۔ ان پر کرپشن کا نہیں ضابطوں کی خلاف ورزی کا الزام ہے۔ڈاکٹر مجاہد کامران اور ان کے ساتھیوں کے خلاف جو الزام لگا وہ یوں ہے کہ ان حضرات نے خلاف قاعدہ بھرتی کی اور پانچ سو پچاس افراد کو ملازم رکھا۔ اس سلسلے میں یہ بھی بتایا گیا کہ ان کے خلاف تحقیقات ہو رہی تھی اور اب ثبوت مل گئے ہیں، نیب نے ان کے جسمانی ریمانڈ کی بھی درخواست کی۔ بہرحال نیب نے یہ تو ظاہر کر دیا کہ ابھی تحقیقات ثبوتوں کی حد تک مکمل نہیں ہوئی، اب دوران حراست تفتیش کرکے نتائج مرتب کئے جائیں گے۔ ڈاکٹر مجاہد کامران ماہر تعلیم ہیں اور دنیا ان کو جانتی ہے۔ گرفتاری سے براہ راست ان کی شہرت متاثر ہوئی۔ اب سوال یہ کیاجا رہا ہے کہ ایسے فاضل افراد کو تو یوں گرفتار کر لیا جاتا ہے لیکن کئی اہم حضرات ایسے ہیں جن کے خلاف عرصہ سے تحقیقات ہو رہی ہیں ان کو گرفتار نہیں کیا جاتا، معلوم نہیں ان کو گرفتار کرتے وقت نیب کے پر کیوں جلنے لگتے ہیں؟ ایسے صاحب علم اور عالمی شہرت یافتہ ماہر تعلیم کو اس طرح زیر حراست لیا گیا تو بیرونی دنیا میں ہمارا تاثر کیا بنا ہوگا۔ ان سے تفتیش کی جا سکتی تھی یوں بھی ان کے خلاف کیس مالی خورد برد کا نہیں ہے۔اس سے پہلے بہاؤالدین زکر یا یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خواجہ علقمہ کو بھی اسی انداز سے زیرحراست لیا گیا وہ علیل تھے اور ان کو اس دوران دل کا دورہ بھی پڑ گیا تھا، ان حالات میں ایسے کیسوں کے حوالے سے مثبت تاثر نہیں بنتا، ایسے اعلیٰ تعلیم یافتہ حضرات سے عادی مجرموں جیسا سلوک کہاں کا انصاف ہے؟ اور یہ بلاامتیاز بھی نہیں کہلائے گا۔ نیب کو اپنے رویے اور طریق کار میں تبدیلی لانا ہوگی، تبھی حالات سدھرنے میں مدد ملے گی۔

مزید : رائے /اداریہ