غم دوراں، یہ بھی تو ہے؟

غم دوراں، یہ بھی تو ہے؟
غم دوراں، یہ بھی تو ہے؟

  

اللہ ہمارے اِس مُلک کو سلامت رکھے اور ہم عوام کے لئے اپنی رحمت سے حالات کو درست کر دے کہ یہاں تو قوم موسیٰ والا حال نظر آتا ہے، قوم دھڑوں میں تقسیم رب کی نافرمانی پر تلی ہوئی ہے، نعمتیں ہیں، ان سے مستفید بھی ہوتے ہیں،لیکن شکر گزار نہیں ہوتے۔اگرچہ اب تو صورتِ حال کچھ ایسی ہو گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بھی دور ہی سے دیکھا جا سکتا ہے کہ قوتِ خرید ہی ختم ہو کر رہ گئی ہے۔

صبح صبح گھر سے دفتر کے لئے نکلے تو کئی موضوع ذہن میں چکرا رہے تھے،لیکن یہاں پہنچتے پہنچتے کچھ ایسے واقعات پیش آئے کہ دماغ منتشر ہو کر رہ گیا ہے، سمجھ نہیں آ رہا کہ اب کیا لکھیں، ویسے اب تو یہ بھی سوچ پیدا ہوتی ہے کہ سردار جی کے تیسرے تالاب والی تجویز پر ہی عمل کر لیا جائے کہ کبھی نہانے کو بھی جی نہیں چاہتا،لیکن کیا کریں کہ ایسی ذہنی کیفیت میں بھی مسائل ہی نظر آ رہے ہیں، گھر سے باہر آئے تو یوں محسوس ہوا کہ ہم بھارت کے دارالحکومت دلی کے کسی پرانے محلے میں سے گزر رہے ہیں کہ سامنے دو گؤ ماتا نظر آ گئیں،جو کسی بھی قسم کی رکاوٹ اور خوف سے بے نباز چھوٹی سی پارک میں گھس کر گھاس اور پودے صاف کر رہی تھیں،

دیکھ کر رنج ہوا اور وہاں پڑی درخت کی ایک شاخ لے کر ان کو باہر نکالا، اردگرد دیکھا، نظر دوڑائی اور پوچھا کہ کس کی ہیں، کوئی بھی جواب دینے والا نہیں تھا، ان کے مالک نے ان کو کھلا چھوڑ دیا تھا کہ مقدس ہیں، کوئی کچھ نہیں کہے گا۔یہ اس کا روزمرہ کا اصول ہے۔ یہ پھرتی اور پودے اجاڑتی رہتی ہیں ذرا آگے بڑھے تو پندرہ بیس بھینسیں نظر آ گئیں جو خراماں خراماں سڑک پر گوبر پھیلاتی ہماری بستی مصطفےٰ ٹاؤن کی مرکزی گرین بیلٹ کی طرف جا رہی تھیں کہ یہ ان کا روز کا معمول ہے اور کبھی ناغہ نہیں ہوتا کہ یہ گرین بیلٹ ایک آزاد علاقہ ہے اور صرف یہی نہیں،بلکہ ایک دو گھوڑے اور دو تین گدھے بھی ہر روز اسی گرین بیلٹ کا سبزہ کھا رہے ہوتے ہیں، ان کو بھی کوئی پوچھنے والا نہیں اور کوئی سرکاری اہلکار بھی کوئی کارروائی نہیں کرتا، نتیجہ گرین بیلٹ کی بری حالت سے سامنے آ جاتا ہے۔یوں دِل مسوس کر آگے بڑھے کہ دفتر تو چلیں، سپیڈو بس کے سٹاپ تک آئے۔ بس معمول کے مطابق پانچویں یا چھٹے منٹ میں آ گئی اور ہم اس میں سوار ہوئے کہ دفتر پہنچ جائیں،بس مسلم ٹاؤن والے سٹاپ کے قریب آ کر رُک گئی اور مسافروں سے کہا گیا کہ وہ تشریف لے جائیں کہ راستہ بند ہے،بس آگے نہیں جائے گی وجہ معلوم کی تو بتایا گیا کہ کوئی ٹرک اُلٹ گیا تھا وہ ہٹایا نہیں گیا، اس لئے یہ پریشانی تو اٹھانا پڑے گی۔

اللہ اللہ کر کے یہ مسئلہ بھی طے ہوا بس والوں نے آگے جانے سے انکار کیا، مجبوراً نیچے اُترے اور رکشا لے کر دفتر پہنچے۔یہ معمول کی بات ہے ایسا قریباً ہر روز ہوتا ہے اور سرکاری اہلکار اپنے فرائض ادا نہیں کرتے۔ بات یہی ہوتی تو رو دھو کر چُپ ہو جاتے جیسا کہ چلے آ رہے ہیں،لیکن ان کی وجہ سے کئی اور باتیں آ گئیں اور پھر جو بھی داقع پیش آیا وہ حادثہ ہی لگا، آسمان کی طرف نظر ڈالی تو احساس ہوا کہ درجہ حرارت میں کچھ کمی کے باعث دھواں دھواں سا ہے۔ یاد آیا کہ یہ تو ’’سموگ‘‘ والی کیفیت ہے۔ ’’سموگ‘‘ شروع ہو گیا اس کے ساتھ ہی یہ حقیقت بھی سامنے آ گئی کہ ہمارے اپنے علاقے میں مالی حضرات اور کھیتوں والے گوجر ہر روز کوڑا اور درختوں کے پتے اور ٹہنیاں جلا رہے ہیں، تو شہر کے دوسرے علاقوں میں بھی تو ایسا ہی ہو رہا ہو گا۔یوں بھی داروغہ والا سے رنگ روڈ کے ساتھ ساتھ راوی کی طرف چلیں تو بابو صابو انٹر چینج تک بند کے اندر فیکٹریاں ہی نظر آتی ہیں۔اکثر مقامات پر سڑک کے دونوں جانب بھی ہیں یہ فیکٹریاں ہر روز دھوئیں کے بادل چمنیوں سے خارج کرتی ہیں جو فضا میں رک سے جاتے ہیں یوں ہر وقت یہ دھواں پھیلا رہتا ہے۔

یہ بھی یاد آیا کہ گزشتہ دِنوں شعبہ ماحولیات نے بھی کسی کارروائی کا چرچا کیا تھا۔ وہ یہ تھا کہ اینٹوں کے بھٹے تین ماہ کے لئے بند کر دیئے جائیں گے اور فیکٹری والوں کو پابند کیا جائے گا کہ وہ کیمیکل والے پانی اور دھوئیں کی آلودگی کو صاف کرنے کے لئے ٹریٹمنٹ پلانٹ لگائیں۔دوسری صورت میں یہ بند کر دی جائیں گی، لوگوں نے ایک کان سے سُن کر دوسرے کان سے نکال دیا اور محکمہ بھی پریس ریلیز جاری کر کے فرض سے سبکدوش ہو گیا اور اب سب آنے والی جگہ پر ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سرکاری اہلکار کتنے کام چور ہیں اور شہری خود کتنے لاپرواہ ہیں کہ اپنے حصے کا کام بھی خود نہیں کرتے۔ یہ حالات رہے تو یقیناًایک دو روز میں سموگ گہرا ہو کر آلودگی کی چادر تان لے گا اور چھاتی، گلے کے امراض شروع ہو جائیں گے اور پھر ادویات بھی بکیں گی۔ڈاکٹروں کے کلینک بھی مریضوں سے بھرے نظر آئیں گے۔

مزید : رائے /کالم