جرمِ صحافت؟

جرمِ صحافت؟
جرمِ صحافت؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

صحافی ، معاشرے کا ایک لازمی حصہ اور نمائندہ ہیں۔ یہ بھی عام انسانوں کی طرح فرشتے ہوتے ہیں نہ شیطان! انسان، خوبیوں اور خامیوں کا مجموعہ ہوتاہے۔ اچھا، اچھا اور برا ، برا ۔ یہ درست ہے کہ ماقبل آزادی نظریاتی صحافت کا رواج تھا، جو آج کل تجارتی ہو کر رہ گیا ہے، لیکن تجارت فقط صحافت میں تو نہیں درآئی۔ تب تو سیاست بھی خالص نظریاتی تھی ۔ اب اگر صحافت میں کوئی نظریہ باقی نہیں رہ گیا تو سیاست بھی خالی ازکاروبار نہیں۔ سیاسی کاروبار اور کاروباری سیاست !

عہد غلامی میں آزادی کے کتنے متوالے تھے، جو صحافت کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ مولانا محمد علی جوہر، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا ظفر علی خان، مولانا حسرت موہانی اور مولانا مرتضیٰ احمد خان میکش، انہیں بجا طور پر مولاناؤں کی کہکشاں کہنا روا ہے۔ پھر ان کے تربیت یافتگان اور بالواسطہ یا بلاواسطہ فیض اٹھانے والوں کے سلسلہ کا آغاز سید حبیب شاہ، عبدالمجید سالک اور غلام رسول مہر! تیسرے عہد کا ماحصل جناب مرحوم حمید نظامی ہیں۔ الغرض اس کتاب کا آخری باب آغا شورش کاشمیری کو قرار دیا جاسکتا ہے۔ وہ مقصدی و نظریاتی صحافت کے بند ہوتے ہوئے بازار کا آخری چراغ تھے۔

صحافت دراصل سیاست کے قدم بہ قدم چلی ہے۔ قائداعظم ؒ ، نواب بہادر یار جنگ اور سردار عبدالرب نشتر ۔ ہائے وہ کیا لوگ تھے جن کے تصور سے بھی دِل و دماغ روشن ہوتے جاتے ہیں۔ اب ہمیں ایسے ویسوں سے پالا پڑ گیا ۔ چھوٹے قد بڑے لیڈر ۔کچھ بڑے قد کے چھوٹے ہیں ۔ انہیں اگر کرسیوں کے کیڑے کہاجائے تو بھی ناروا نہ ہو گا۔

موجودہ دور میں صحافت کی صنعت کسی بھی ریاست کے ایک ستون کا درجہ پاچکی ہے۔ صحافی معاشرے کی آنکھ ہوتے ہیں۔ یہ بھی اسی مادیت گزیدہ سوسائٹی کا ایک حصہ ہیں۔ لہذا ان کا دامن بھی میلا ہو سکتاہے۔ کیا انہیں نظرانداز کیا جا سکتا ہے یا کیاجانا چاہئے؟

میرا خیال ہے کہ ایسا تصور بھی رجعت پسندانہ ہو گا۔ اہل صحافت نے دیگر طبقات سے زیادہ نہیں تو کم قربانیاں بھی نہیں دیں۔ انہیں جس دور میں دیکھا اور جس ترازو میں بھی تولا گیا ، پورا اترے۔ ایوبی مارشل لاء ہو یا جنرل یحییٰ اور جنرل پرویز مشرف کی کہانی ، ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی جمہوری ملوکیت ہو یا انتظامی ’’خروں‘‘کی خرمستیاں،یہ کسی سے کب پیچھے دیکھے گئے۔

جنرل ضیاء کے دور اور دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں بھی اپنا حصہ بقدر جثہ ڈالا۔میاں نواز شریف کی اشرافیہ اور آصف علی زرداری کے بے نظیر جماعتی و حکومتی عہدیداروں کی کارستانیوں کی نقاب کشائی اور عدالت عظمیٰ کے سربراہ افتخار محمد چودھری کی بحالی کی تحریک میں یہ وطن دوست طبقہ کہاں نہیں پایا گیا؟

واقعہ یہ ہے کہ اہل صحافت نے اپنے فرائض کی انجام دہی میں کچھ وہ قرض بھی ادا کئے ہیں جو ان پر واجب بھی نہیں تھے۔ موجود آسمان صحافت کے ستاروں،میں مجھے ستارہ کہنے کی اجازت دیجئے، محترم مجیب الرحمن شامی، محترم عطاء الحق قاسمی، محترم مقصود بٹ ، محترم حامد میر، محترم واصف ناگی، محترم چودھری خادم حسین ،نوجوان صحافی گوہر رشید بٹ، سلیمان طارق بٹ اور میم سین بٹ مجھے رہ رہ کر یاد آرہے ہیں۔ انہوں نے صحافت کی دہلیز پر اپنی جوانیاں قربان کر دیں ، یہاں تک کہ ان کے بالوں میں چاندی اتر آئی ہے۔ محترم مجیب الرحمن شامی صاحب اپنے کاروان کی خوشی و غمی میں ہمیشہ جزو لازم کے طور پر شریک ہوتے ہیں۔ خوشی کے موسم میں کسی وجہ سے موجود نہ بھی ہوں تو غمی کی رت میں کبھی ناموجود نہیں پائے گئے۔ کچھ عرصہ سے صحافت پر ایک بحران کی سی کیفیت طاری ہے۔ پرچے اور صفحے سمٹ رہے ہیں ۔ مہنگائی نے طوفان برپا کر دیا اور ایسے میں حکومت کی طرف سے اشتہارات کی بندش،ہم قومی نقصان کی طرف جا رہے ہیں اور آنکھ کی بینائی کھو رہے ہیں۔ خدارا اہلِ صحافت کو گناہ بے گناہی کی سزا دی جائے اور نہ ان سے ’’محرمانہ‘‘ جرم کا احتساب لیاجائے!

مزید : رائے /کالم