حکومتی فلمی صنعت کی بحالی کیلئے جنگی بنیادوں پر اقدامات کرے : شوبز شخصیات

حکومتی فلمی صنعت کی بحالی کیلئے جنگی بنیادوں پر اقدامات کرے : شوبز شخصیات

لاہور(فلم رپورٹر)شوبز کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کو فلمی صنعت کی بحالی کے لئے جنگی بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے ۔ہمیں وزیر اعظم عمران خان سے بہت امیدیں وابستہ ہیں۔سید نور،میلوڈی کوئین آف ایشیاء پرائڈ آف پرفارمنس شاہدہ منی،صائمہ نور،میگھا،ماہ نور،یار محمد شمسی صابری،سہراب افگن ،ظفر اقبال نیویارکر، عذرا آفتاب،عینی طاہرہ،عائشہ جاوید، میاں راشد فرزند،سدرہ نور،نادیہ علی،شین،سائرہ نسیم،صبا ء کاظمی، ،سٹار میکر جرار رضوی،آغا حیدر،دردانہ رحمان ،ظفر عباس کھچی ،سٹار میکر جرار رضوی ،ملک طارق،مجید ارائیں،طالب حسین،قیصر ثنا ء اللہ خان ،مایا سونو خان،عباس باجوہ،مختار چن،آشا چوہدری،اسد مکھڑا،وقا ص قیدو، ارشدچوہدری،چنگیز اعوان،حسن مراد،حاجی عبد الرزاق،حسن ملک،عتیق الرحمن ،اشعر اصغر،آغا عباس،صائمہ نور،خالد معین بٹ ،مجاہد عباس،ڈائریکٹر ڈاکٹر اجمل ملک،کوریوگرافر راجو سمراٹ،صومیہ خان،حمیرا چنا ،اچھی خان،شبنم چوہدری،محمد سلیم بزمی،سفیان ،انوسنٹ اشفاق،استاد رفیق حسین،فیاض علی خاں،جان ریمبو،ریشم،عمائمہ ملک،عثمان پیرزادہ ،پروڈیوسر شوکت چنگیزی،ظفر عباس کھچی،ڈی او پی راشد عباس،پرویز کلیم اور نجیبہ بی جی نے امید کی ہے کہ فلم انڈسٹری کے لئے موجودہ حکومت مثالی اقدامات کرے گی ۔یار محمد شمسی صابری نے کہا ہے کہ فلم انڈسٹری کی رونقیں بحال کرنا چاہتا ہوں اور اس کیلئے جہاں تک ممکن ہوسکا اپنا کردار ادا کروں گا‘ پاکستان میں ٹیلنٹ نہیں حکمت عملی کی کمی ہے۔ظفر اقبال نیویارکرنے کہا کہ یہی فنکار اور یہی انڈسٹری ہے جس نے بہت بڑی بڑی فلمیں بنائی ہیں اور پاکستانی سینماؤں میں فلمیں لگانے کیلئے ٹائم نہیں ملتا تھا آج اگر ہم مسائل کا شکار ہیں تو ہمیں اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنا ہو گا‘ میں فلم انڈسٹری کی بحالی کیلئے پر امید ہوں۔ ریشم نے کہا ہے کہ کارکردگی کی بنیاد پر کام کرنے پر یقین رکھتی ہوں سفارش یا گروہ بندی کے ذریعے ڈراموں میں اداکاری نہیں کرنا چاہتی۔ ریشم نے کہا کہ ماڈلنگ اپنی جگہ ایک اہم شعبہ ہے مگر یہاں محدود پیمانے پر صلاحیتیں اجاگر کرنے کا موقع ملتا ہے جبکہ ڈراموں کے ذریعے فنکار اپنی فطری صلاحیت کو بخوبی اجاگر کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی وی ڈراموں نے اب فلموں کی جگہ لے لی ہے جن میں مختصر دورانیہ میں وہ سب کچھ بیان ہو جاتا ہے جو فلموں میں ممکن نہیں۔ عمائمہ ملک نے کہا ہے کہ پاکستان میں بہترین رائٹر اور ڈائریکٹر ز کے ساتھ نئے اداکاروں کی باصلاحیت کھیپ موجود ہے جن کو موقع دے کر انڈسٹری میں انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے ۔ماہ نور نے کہا کہ پاکستان میں بہت پیسہ ہے مگر وہ صرف دولت مندوں کے پاس ہے میں نے بالی ووڈ میں کام کیا ہے اور وہاں کے سٹار کے مقابلے میں ہماری انڈسٹری کا ایک سٹار شان ہی کافی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے علم ہے کہ بہت سارے لوگ مجھے پسند نہیں کرتے کیونکہ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ میں بات منہ پر کہنے والی لڑکی ہوں ، مجھ میں بناوٹ نام کی کوئی چیز نہیں میں اپنی اس عادت کو کبھی نہیں بدل سکتی چاہے لوگ اسے میری خوبی کہہ لیں یا خامی ۔

گلوکار انور رفیع نے کہا ہے کہ جب تک فلم انڈسٹری کے حالات بہتر نہیں ہوں گے اس کے اثرات میوزک انڈسٹری پر بھی پڑتے رہیں گے پاکستان کے گلوکاروں کو نہ صرف ہمسایہ ملک بلکہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی بے حد پسند کیا جاتا ہے ۔ انور رفیع نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ فلم انڈسٹری کے حالات سے گلوکاروں بھی متاثر ہوئے ہیں ۔ ملک میں امن و امان کی صورتحال کی وجہ سے گلوکار میوزک البم بنانے میں بھی محتاط ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پوری قوم کی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو اپنے حفظ و امان میں رکھے ۔ظفر عباس کھچی نے کہا ہے کہ فلم انڈسٹری سے وابستہ تمام لوگ محنت کر رہے ہیں آنے والے دنوں میں فلم انڈسٹری پاؤں پر کھڑی ہوجائے گی ۔ ریمبو نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں آج کل فلم انڈسٹری مشکلات کا شکار ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ پچھلے کچھ عرصے سے تمام فنکار محنت کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور خصوصا نئی فلمیں بنائی جا رہی ہیں یقیناًآنے والے دنوں میں پاکستان فلم انڈسٹری نہ صرف مضبوط ہو گی بلکہ پہلے کی طرح فلمی اسٹوڈیوز میں بھی رونق آئے گی ۔سینئر اداکار نعمان اعجاز نے کہا ہے کہ پاکستان میں اداکاری سمیت ہر شعبہ زندگی میں بڑا ٹیلنٹ موجود ہے۔صرف موقع ملنے کی ضرورت ہے ٹیلنٹ خود کو منوا لیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی ڈرامہ انڈسٹری جس ترقی کے راستے پر گامزن ہے، میری دلی خواہش ہے کہ لاہور ڈرامہ انڈسٹری بھی اسی طرح فروغ پائے۔ نئے اداکاروں کو سیکھنے کے لئے کوئی پلیٹ فارم میسر نہیں۔ وہ سینیئراداکاروں کو دیکھ کر سیکھتے ہیں۔یار محمد شمسی صابری نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ میں کسی معیاری اسٹیج ڈرامے میں کام کروں مگر بد قسمتی سے اب اسٹیج ڈرامہ اپنی اصل شناخت کھوچکا ہے۔ اگر مجھے کسی سنجیدہ اور فیملی اسٹیج ڈرامے کے لئے پیشکش کی گئی تو میں ضرور کام کرنا چاہوں گامگر اچھل کود والے ڈرامے میرے بس سے باہر ہیں۔سہراب افگن نے کہا ہے کہ پاکستان میں نئے موضوعات پر فلمیں بنانا بہت مشکل ہو چکا ہے اگر روایت سے ہٹ کر فلمیں بنائی جائیں تو انہیں کوئی پسند ہی نہیں کرتا ۔مسعود بٹ نے کہاکہ پاکستان میں فلم بین بھی روایت پسند ہیں جس کی وجہ سے کسی بھی نئے موضوع پر فلم بنانا مشکل ہو جاتا ہے اب فلمیں کہانی سے زیادہ بزنس کے پیش نظر رکھ کر بنائی جاتی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ماضی کے فلم میکر ز میں جوش جنون ہوتا تھا لیکن آج کل ایسا نہیں ہے ہر کوئی پیسے کے پیچھے بھاگ رہا ہے یہی وجہ ہے کہ فلم انڈسٹری آگے بڑھنے کے بجائے اسی جگہ گھومتی ہے ۔

مزید : کلچر