پاکستان میں ہر پانچواں شخص مسکولوسکیلیٹل ڈس آرڈر کا شکار ہے، ڈاکٹر محمد ہارون

پاکستان میں ہر پانچواں شخص مسکولوسکیلیٹل ڈس آرڈر کا شکار ہے، ڈاکٹر محمد ...

لاہور(پ ر)غیر معیاری اور مضر صحت خوراک کا استعمال، موٹاپا، سگریٹ نوشی اور انسانی جسم کیلئے ضروری ورزش کا نہ کرنا چند ایسی وجوہات میں شامل ہیں جن سے پاکستان میں آرتھرائیٹس کا مرض تیزی سے پھیل رہاہے۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ اینڈ ریسرچ سینٹر (پی کے ایل آئی) کے کنسلٹنٹ رہیوماٹالوجسٹ ڈاکٹرمحمد ہارون نے آرتھرائیٹس کے عالمی دن کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انھوں نے کہا کہ پی کے ایل آئی ملک میں آرتھرائیٹس کے مرض بارے آگہی پھیلانے کیلئے بھرپور کردار ادا رکرنے کا عزم رکھتا ہے تاکہ معاشرے سے اس مرض کا خاتمہ کیا جاسکے جہاں ہر پانچواں شخص مسکولوسکیلیٹل (musculoskeletal) ڈس آرڈر کا شکار ہے۔ ڈاکٹر ہارون نے میڈیا کو بتایا کہ آرتھرائیٹس ایسی بیماری ہے جس سے انسان کے جسم میں موجود جوڑمتاثر ہوتے ہیں۔انھو ں نے اس مرض کی علامات کے بارے بتاتے ہوئے کہا کہ پٹھوں کا کھچاؤ اور جوڑوں میں درد اس مرض کی عمومی علامات ہیں جبکہ جوڑوں کی بیرونی سطح کا سرخی مائل ہوجانا، سوزش، جوڑوں کا گرم محسوس ہونااور متاثرہ جوڑوں کی عمومی حرکت میں کمی واقع ہونا جیسی دیگر علامات بھی ظاہر ہوسکتی ہیں۔

انھوں نے مذید بتایا کہ آرتھرائیٹس کی کچھ اقسام ایسی ہیں جن سے انسانی جسم میں موجود دیگر اعضاء بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ڈاکٹر ہارون نے کہا کہ عام طور پر یہ مرض بتدریج بڑھتا ہے مگر بعض اوقات اچانک شدت اختیار کرجاتا ہے جس سے مریض کا معیار زندگی بیحد متاثر ہوسکتا ہے۔

مزید : کامرس