سرمایہ کاری لانے کیلئے ملک کو معاشی ٹریک پر گامزن کرنا ہوگا‘ بزنس مین پینل

سرمایہ کاری لانے کیلئے ملک کو معاشی ٹریک پر گامزن کرنا ہوگا‘ بزنس مین پینل

لاہور(کامرس رپورٹر)بزنس مین پینل فیڈریشن پاکستان چیمبرز آف کامرس انیڈ انڈسڑی کے نے ملک کی معاشی حالات کے بارے میں اصلاحات اور ترجیحات کرنے کو حوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نئی سرمایہ کاری لانے کے لئے ازحد ضروری ہے کہ ملک پوری طرح سے معاشی ٹریک پر گامزن ہو۔نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کے تحت ملک میں پچاس لاکھ گھر تعمیر ہونے سے کم آمدنی والے محنت کش کاروباری طبقہ کے لئے فائدہ مندہوں گے اور اس پروگرام سے ملکی معیشت میں چڑھاؤ آئے گااور روزگارکے لاکھوں مواقع میسر ہوں گے ۔چےئرمین بزنس مین پینل میاں انجم نثار نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برآمدات میں تسلسل اور لگاتا را ضافہ ملک کے معاشی حالات کو سدھارنے کے لئے ازحد ضروری ہے۔ پچھلی حکومت کے دور میں غیر ذمہ دارنہ اور غیر پیشہ ور افرادکی بدولت آج معیشت کا بیٹرہ غرق ہو گیا ہے۔اسکے لئے حکومت پاکستان کو چاہے کہ ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (نی دی اے پی) اور کمرشلر کونصلرزکی کاکردگی کوموئثر بنائے تاکہ وہ برآمدات میں اضافے کے لیے قابل ذکر کارکردگی دکھاسکیں۔ان دونوں محکوں میں حکومت کے کثیر رقم اور افرادی قوت لگانے کے باوجود حکومت مطلوبہ نتائج حا صل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

ٹی ڈی اے پی کا ادارہ اور کمرشلر قونصلر ز کسی بھی ملک کی معاشی ترقی اور برآمدات بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ان اداروں میں مارکیٹ ریسرچ کے فقدن کے باعث کار کردگی صفر ہے۔ہمیں اپنے معاشی معاملات کو تحقیق کے خطوط پر استوار کرنا ہوگا کیونکہ اس سے نہ صرف عالمی سطح پر تیزی سے بڑھتے چیلنجز کا مقابلہ کیا جاسکے گا بلکہ برآمدات میں کمی، توانائی کے بحران، ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی کم شرح، نقصان دہ قومی اداروں، برین ڈرین، ہنرمند افرادی قوت کی قلت اور کم صنعتی پیداوار جیسے مسائل سے بھی نمٹا جاسکے گا۔میاں انجم نثار نے کہا کہ ہمارے معاشی مسائل کی ایک بڑی وجہ ریسرچ کلچر کا فقدان ہے ، عالمی سطح پر ہونے والی معاشی پیش رفت کے متعلق مستند ڈیٹا نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کی بیرونی تجارت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں، گذشتہ کئی سالوں سے ہمارا برآمدی ہدف پورا نہیں ہوپارہا انہوں نے کہا کہ پاکستان کی برآمدات مخصوص مصنوعات اور مخصوص ممالک تک محدود ہیں جن کی وجہ سے ہم برآمدات بڑھانے کا خواب پورا نہیں کرپائے، ہمیں نئی منڈیوں اور نئی مصنوعات کے متعلق ریسرچ کرنا ہوگی ۔ ترقی یافتہ ممالک ریسرچ کرکے توانائی کی پیداوار کے نئے ذرائع تلاش جبکہ ہم خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہے ہیں۔

مزید : کامرس