اپوزیشن رہنماؤں کو دھمکیاں ، عمران خان کنٹینر سے اتر کر طرز عمل میں بھی تبدیلی لائیں : جاوید ہاشمی

اپوزیشن رہنماؤں کو دھمکیاں ، عمران خان کنٹینر سے اتر کر طرز عمل میں بھی ...

ملتان(سٹی رپورٹر) سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی کا کہنا ہے کہ عمران خان ابھی تک اسی کنٹیینر سے نیچے نہیں آے جس پر میں انہیں (بقیہ نمبر62صفحہ12پر )

چھوڑ کر آیا تھا،عمران خان کو کنٹینر سے نیچے اتر آنا چاہئے کہ اب وہ اقتدار میں ہیں ،اسلئے اپنے طرز عمل میں بھی تبدیلی لائیں ،تجزیہ نگار اور دانشوریہ کہہ رہے ہیں کہ یہ حکومت سال دو سال تک بھی چلتی دکھائی نہیں دیتی ، حالانکہ جمہوری عمل کو جاری رہنا چاہئے ،اس حکومت کو مکمل عوامی مینڈیٹ حاصل نہیں ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے مزید کہنا تھا کہ حکومت نے معیشت اور سیاست پر اتنے یوٹرن لے چکی ہے کہ یوٹرن لینے کے تمام ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں ،جو کابینہ کم کرنے اور کم سے کم کابینہ بنانے کی بات کرتے تھے وہ صرف دعوے ہی ثابت ہوئے اور ایک بھاری بھرکم کابینہ بنادی گئی ہے اورمیں دعوے سے کہتا ہوں ان کی کابینہ میں مزید اضافہ ہو گا،پی ٹی آئی کو اب یہ کابینہ ملک پر بوجھ کیوں نہیں لگ رہی ۔ عثمان بزدار نہیں علیم خان اصل میں پنجاب کے وزیر اعلی ہے۔ یہ حکومت خود پارلیمنٹ کو تباہ کرنا چا رہی ہے، تحریک انصاف میں ایک بھی تھنک ٹینک نہیں دیکھا،ملک میں اس وقت ان ڈائریکٹ مارشل لاء نافذ ہے اس طرز کی حکومتیں جمہوری نہیں ہواکرتیں ،انہوں نے کہا کہ عام انتخابات سے قبل میاں نواز شریف کو جیل میں ڈال دیا گیا، اب ضمنی الیکشن سے قبل شہباز شیرف کو جیل میں ڈال دیا گیاہے،ضمنی انتخابات کے وقت میں ایک بڑی سیاسی جماعت کے قائد کی گرفتاری کئی سوالات اور ابہام کو جنم دیتی ہے، پی ٹی آئی انتقامی سیاست نہ کرنے کی باتیں کرتی تھی مگر لوگ دیکھ رہے ہیں کہ آخر آئی جی کوہٹایا کیوں جارہا ہے، ضمنی الیکشن سے قبل شہباز شریف کو جیل میں کیوں بھیج دیا گیا ہے لوگ یہ بھی دیکھ رہے ہیں،یہاں بھی وہی کام کیا گیا جو پہلے کیا گیا پارلیمنٹ کے قائد حزب اختلاف کو صاف پانی کی پیشی پر آشیانہ ہاوسنگ سکیم کے لیے گرفتار کیا گیا،، تجزیہ نگاروں نے کہہ دییا ہے کہ یہ پارلیمنٹ دو سال تک بمشکل چلتی دکھائی دے رہی ہے مگر میں یہ کہتا ہوں کہ پارلیمنٹ جیسے بھی بنی ہے اس کو پانچ سال مکمل کرنے چاہیں اور ہرصورت پانچ سال پورے ہونے چاہیں میں جمہوری عمل کو چلتا ہوا دیکھنا چاہتا ہوں ،میں پارلیمنٹ کا محافظ ہوں میں نے پارلیمنٹ کی حفاظت کے لئے قربانیاں دی ہیں،جاوید ہاشمی کا مزید کہنا تھا کہ 12 اکتوبر 1999 میں میاں نواز شریف کی حکومت کو ختم کرکے آئین کو معطل کر دیا گیا تھا، ملک میں قانون کے اور انصاف کے دورخ دکھائی دیتے ہیں جو کہ درست نہیں انصاف ہوتا ہوا دکھائی دینا چاہیئے پسند ناپسندکا انصاف میں کوئی عمل دخل نہیں ہونا چاہیئے نہ ہی ڈکٹیشنز کا ،یہ ایک لمحہ فکریہ کہ آئین کو توڑنے والے مشرف کا محافظ کون ہے؟،، نواز شریف نے مشرف کے مزاج کے خلاف قدم اٹھانے کی کوشش کی۔بارہ اکتوبر کی جگہ اس بار جوڈیشل مارشل لاء لگا دیا گیا ہے،، آج تک ایک بھی جرنیل کو کرپشن کے الزام میں نہیں پکڑا کیا گیاہم یہ کہتے ہیں کہ احتساب سب کا ہونا چاہیئے اور بلاامتیاز ہونا چاہیئے انصاف اور احتساب کے الگ الگ پیمانے نہیں ہونے چاہئیں ۔اسی میں ہی ملک وقوم کا مفاد وابستہ ہے ۔

جاوید ہاشمی

مزید : ملتان صفحہ آخر