ڈی ایچ کیو ہسپتال وہاڑی 10کروڑ کا نادہند ہ ، بجٹ ختم انتہائی اہم میڈیسن کی سپلائی بند ، مریضوں کا احتجاج

ڈی ایچ کیو ہسپتال وہاڑی 10کروڑ کا نادہند ہ ، بجٹ ختم انتہائی اہم میڈیسن کی ...

وہاڑی(بیورو رپورٹ+نمائندہ خصوصی ) انتظامی طور پر صوبہ بھر میں پہلے نمبر پر آنیوالا ڈی ایچ کیو ہسپتال 10 کروڑ کا ڈیفالٹر ہوگیا(بقیہ نمبر69صفحہ12پر )

موجودہ سال کا بجٹ نہ ہونے کے برابر کنٹریکٹرز نے کتے کاٹنے ، سانپ کاٹنے اور روڈ ایکسیڈنٹ میں لگنے والے ضروری انجکشن اور جنرل سٹور آئٹم کی سپلائی روک دی۔ حکومت پنجاب دو سال سے 125بیڈ کا فنڈ اور عملہ دیکر 450 بیڈ کا کام لے رہی ہے جس کی وجہ سے مشکلات میں اضافہ ہواہے تفصیل کے مطابق صوبہ بھر میں پہلے نمبر پر آنیوالا ڈی ایچ کیو ہسپتال 10کروڑ کا ڈیفالٹر ہو چکا ہے اور موجودہ سال 19۔2018 کے لئے پنجاب گورنمنٹ فنانس ڈیپارٹمنٹ نے سابقہ بلوں کی ادائیگی کے لیے ہسپتال کو کوئی اضافی گرانٹ نہیں جاری کی اور موجودہ سال کیلئے مختص فنڈ بھی نہ ہونے کے برابر جس کی وجہ سے سنٹرل اور لوکل کنٹریکٹرز کی تمام ادائیگیاں روک دی گئیں بلوں کی ادائیگیاں نہ ہونے اور فنڈز کی کمی کے باعث کنٹریکٹرز نے ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں استعمال ہونے والی انتہائی ضروری ادویات کتے کے کاٹنے ،سانپ کاٹنے اور روڈ ایکسیڈنٹ میں مریض کو لگنے والے ضروری انجکشن اور دیگر جنرل سٹور آیٹم کے تمام اہم سامان کی سپلائی بھی روک دی اس کے علاوہ ہسپتال کے دیگر تمام وارڈز میں بھی مفت ملنے والی ادویات کا سلسلہ مکمل طور پر بند ہوچکا ہے۔ آپریشن تھیٹر میں بھی استعمال ہونیوالا تمام سامان مریض بازار سے خود خرید کر لاتے ہیں جس کی وجہ سرکاری ہسپتال میں مریضوں کو اپنا علاج کروانے کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کرنا ہے ہسپتال کی موجودہ صورت حال پر جب میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر فاروق احمد سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ عرصہ دو سال سے گورنمنٹ آف پنجاب فنانس ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ہسپتال کی اپ گریڈیشن ہونے کے باوجود 125بیڈ کا بجٹ دے کر محکمہ صحت کی طرف سے 450 بیڈ کا کام لیا جارہا ہے اور ہسپتال میں ابھی تک 125 بیڈ کا ہی عملہ کام کر رہا ہے اور عملے کی قلت کی وجہ سے بھی ہسپتال میں آئے روز لڑائی جھگڑے معمول بن چکے ہیں۔ ڈی ایچ کیو ہسپتال کی بہتری کیلئے دن رات محنت کی ہے ہسپتال کے پاس اتنا فنڈ نہیں ہے کہ جن سے تمام کنٹریکٹرز کو بلوں کی ادائیگی کر دی جائے ۔کنٹریکٹرز کے مجھ سے پہلے ایم ایس صاحبان کے دور واجبات ابھی تک بقایا ہیں ان واجبات کی کلیرنس کا مطالبہ بھی کنٹریکٹرز اب مجھ سے کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کرپشن کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا میرے پاس تو ہسپتال چلانے کیلئے فنڈ نہیں اور آپ کرپشن کی بات کررہے ہو۔ کچھ لوگ میرے خلاف نیب اور محکمہ انٹی کرپشن کو من گھڑہت، بے بنیاد اور جھوٹی درخواستیں دیکر بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اپنے دور کی خریداری کا تمام ریکارڈ نیب ٹیم ملتان کو دے چکا ہوں میں نے وزیر اعلیٰ پنجاب، صوبائی وزیر صحت، مشیر صحت اور سیکرٹری ہیلتھ کے مشن کے مطابق عوام کی خدمت جاری رکھنی ہے۔

نادہندہ

مزید : ملتان صفحہ آخر