پراجیکٹ ڈاکئر یکٹر کی کرپشن ، داستانیں -------’’پڑھتا جا شرماتا جا‘‘

پراجیکٹ ڈاکئر یکٹر کی کرپشن ، داستانیں -------’’پڑھتا جا شرماتا جا‘‘

ملتان ( سپیشل رپورٹر) بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی میں قوائد کے برعکس تعینات ہونے والے پراجیکٹ ڈائریکٹر ملک رفیق ہمڑ کی جانب سے کرپشن کی کمائی سے خریدی گئی کروڑوں روپے کی نامی و بے نامی جائیدادوں بارے انکشاف ہوا(بقیہ نمبر14صفحہ12پر )

ہے ۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ این ایچ اے سے کرپشن کی بنیاد پر نکالے جانے کے بعد سیاسی اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے پراجیکٹ ڈائریکٹر ملک رفیق ہمڑ نے قوائد کے برعکس بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی میں نوکری حاصل کی اور کچھ ہی عرصہ میں اسی ساسی اثرورسوخ کو استعمال کرتے ہوئے الیکٹرانکس انجینئر ہونے کے باوجود سول انجینئرنگ کی حامل پراجیکٹ ڈائریکٹر کی آسامی پرتعیناتی حاصل کرلی اور کرپشن کا دور دورہ شروع کردیا ۔پراجیکٹ ڈائریکٹر بننے کے بعد مذکورہ پراجیکٹ ڈائریکٹر نے بچ ولاز میں ایک کنال رقبہ پرواقع ولا نمبر 27 جس کی مالیت اس وقت ایک کروڑ 70لاکھ روپے ادا کی گئی خریدا جو تاحال موجود ہے جس میں اس کی "خاص دوست "جسے اب و ہ بطور دوسری بیوی ظاہر کرتاہے عابدہ پروین نامی خاتون رہائش پذیر ہے۔اسی طرح حال ہی میں موصوف نے مذکورہ خاتون کے نام سے ملک کے سب سے مہنگے تفریحی مقام نتھیا گلی کے قریب تقریباً 15کروڑ مالیت کا ریزارٹ بھی خریداہے ۔بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی میں مذکورہ پرکشش سیٹ پر تعیناتی کے دوران ملک رفیق ہمڑ کے جانب سے والد ملک نبی بخش ہمڑ کے نام سے مظفر گڑھ کے علاقے سلطان کالونی کے قریب دو مربعے زرعی اراضی خریدے جانے کا بھی انکشاف ہوا ہے جبکہ اس کے علاوہ ملتان کے مضافاتی علاقوں حامد پور کنورہ ،بستی تالاب اور موضع سلطان پور ہمڑ میں خاندان کے دیگر افراد کے نام پر خریدی گئی بے نامی جائیدادیں اس کے علاوہ ہیں ۔اس ضمن میں عوامی وسماجی اور بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے سنجیدہ حلقوں نے نئے پاکستان کے ارباب اختیار ،چیئرمین نیب ،ایف بی آر اور چانسلر ووائس چانسلر بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی سے مذکورہ پراجیکٹ ڈائریکٹر کیخلاف فوری طور پر تحقیقا ت اور سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔

ملک رفیق ہمڑ

مزید : ملتان صفحہ آخر