آئی ایم ایف، ہیلمٹ اور چیف جسٹس

آئی ایم ایف، ہیلمٹ اور چیف جسٹس
آئی ایم ایف، ہیلمٹ اور چیف جسٹس

  

لوگ آئی آئی۔۔۔پی ٹی آئی کہنا بھولتے جا رہے ہیں اور اس کے بجائے ان کی زبان پر آئی آئی۔۔۔آئی ایم ایف چڑھتا جا رہا ہے!

مخالفین کو حکومت کے آئی ایم ایف کے پاس جانے پر اس قدر اعتراض نہیں ہے،جس قدر اعتراض حکومت کے ایک اور یوٹرن پر ہے ۔ ان کے نزدیک یہ حکومت کی ناتجربہ کاری کا ایک اورشاہکار ہے ۔ عمران خان نے کبھی خدا کا شکر ادا کیا تھا کہ 2013ء کے انتخابات میں ان کو حکومت نہیں ملی کیونکہ ان کی پارٹی کو ایسا کوئی تجربہ ہی نہ تھا، لیکن اب جبکہ 2018ء میں انہیں وزارتِ عظمیٰ نصیب ہوئی ہے تو بھی صورتِ حال 2013ء والی ہی لگتی ہے،

کیونکہ تب اگر خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت تھی تو اس کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک تھے ، عمران خان نہیں تھے۔ دوسرے الفاظ میں عمران خان 2018ء میں بھی حکومت سازی سے اتنے ہی نابلد ہیں جتنے 2013ء میں تھے ۔ وہ پہلی مرتبہ ملک کے چیف ایگزیکٹو بنے ہیں اِس لئے انہیں حکومت کرنے کا وہ تجربہ بھی نہیں ہے جو پرویز خٹک کو خیبر پختونخوا کی وزارتِ اعلیٰ کرنے سے ہو چکا تھا ۔ اصول کی بات تو یہ تھی کہ پرویز خٹک کو وفاقی سطح پر بھی چیف ایگزیکٹو تعینات کیا جاتا تاکہ وہ سابقہ تجربے کی روشنی میں اسی طرح چوکے چھکے مارتے جس طرح نواز شریف نے وزارت عظمیٰ لینے سے قبل پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ پر فائز رہتے ہوئے ہاتھ صاف کیا تھا۔

آسان شرائط پر قرض کے حوالے سے چین اور سعودی عرب نے پاکستان کو لفٹ نہیں کروائی اور نہ ہی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے ڈالروں کی بارش کی، حالانکہ وزیراعظم عمران خان کے بارے میں سب سے مضبوط تاثر یہی تھا کہ وہ ایک آواز دیں گے اور بیرون ملک مقیم پاکستانی لببیک کہتے ہوئے اپنی کمائی کا رخ حکومت کے خزانے کی طرف کردیں گے، لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پہلے 50دن کی کارکردگی کی بنا پر پی ٹی آئی ضمنی انتخابات میں کیا گل کھلاتی ہے ، خاص طور پر جب ٹی وی اینکرز شور مچارہے ہیں کہ آئندہ آنے والے دِنوں اور مہینوں میں مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہوگی اور بجلی اور گیس کے بل عوام کی جان کے درپے ہوں گے۔

ایک طرف حکومت اپنا موازنہ نون لیگ کی لوٹ مار سے کر رہی ہے تو دوسری جانب عوام مہنگائی کے محاذ پر پی ٹی آئی کا موازنہ نون لیگ کی حکومت سے کر رہی ہے ، حالانکہ اصل موازنہ پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کا بنتا ہے جو 2008ء سے 2013ء کے درمیانی عرصے میں حکومت کے نام پر مرسڈیز گاڑی میں بیٹھی رہی لیکن اسے یہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ گاڑی کی چابی کہاں اور کیسے لگنی ہے اور اب پی ٹی آئی کا یہ عالم ہے کہ یہ لوگ تو گاڑی میں بیٹھ ہی نہیں رہے اور باہر کھڑے ہی اپنی فن ڈرائیونگ کے قصے سنا سنا کر لوگوں کو حیران کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔

ایسے میں اگر آئی ایم ایف نے بھی انکار کردیا تو کیا ہوگا؟۔۔۔اور اگر انکار نہ بھی تو بھی اگر تاخیری حربے اختیار کرنے پر تُل گیا تو کیا ہوگا؟حکومت کو ہمارا مشورہ یہ ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے قبل اس ایشو کو ایک مرتبہ پارلیمنٹ میں ضرور رکھے اور ہر سیاسی جماعت کی آشیر باد لے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کل پی ٹی آئی کو بھی سننا پڑے کہ اس نے آئی ایم ایف کے معاملے پر پارلیمنٹ کو بائی پاس کیا تھا۔

آج کل ٹریفک پولیس والوں نے ہیلمٹ نہ پہننے پر شہریوں کی زندگی اجیرن کی ہوئی ہے اور جو کوئی خالی سر نظرآتا ہے اس کو دو ہزار روپے کا جرمانہ ٹھوک دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر غریب آدمی دو ہزار کا جرمانہ ادا کرنے کے قابل ہوتا تو وہ دو ہزار کا ہیلمٹ نہ خرید لیتا۔ اِس لئے ٹریفک کے محکمہ کے اعلیٰ افسران کو چاہئے کہ جرمانہ کرنے کے بجائے ہر وارڈن کو وافر مقدار میں ہیلمٹ مہیا کر دے جو خالی سر موٹر سائیکل سوار کو پہنا کر سات سو سے ایک ہزار کے بیچ کر چارج کرلے۔یوں دونوں اطراف کا کام بن جائے گا اور منافع خوروں کو غریب عوام کی چھیل اُتارنے سے باز رکھا جا سکے گا۔

ادھر بزم اقبال کے منتظم ریاض چودھری صاحب (جو اخبار ہٰذا میں کالم بھی لکھتے ہیں) چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کو سو موٹو ایکشن لینے کے چٹھی ڈال چکے ہیں اور کہتے ہیں کہ حکومت کی طرف سے فنڈز کی قلت کی وجہ سے نہ صرف بزم اقبال کے تحت علامہ اقبالؒ پر کتب کی اشاعت جمود کی شکار ہے، بلکہ بزم اقبال سے متصل مجوزہ اقبال لائبریری کا قیام بھی ایک خواب بنا ہوا ہے ۔ انہیں واثق امید ہے کہ چیف جسٹس علامہ اقبالؒ کی روح کو شرمندہ نہیں کریں گے اور پہلی فرصت میں ان کی درخواست پر سوموٹو نوٹس لے کر حکومت پنجاب کو ضروری اقدامات کی ہدایات دیں گے۔دیکھئے کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک!

مزید : رائے /کالم