وزیراعظم کا اوورسیز پاکستانیوں کیلئے خصوصی پیکیج لانے کا اعلان

وزیراعظم کا اوورسیز پاکستانیوں کیلئے خصوصی پیکیج لانے کا اعلان

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے اوورسیز پاکستانیوں کیلئے خصوصی پیکیج لانے کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے اوور سیز پاکستانیوں کی ترسیلات زر کیلئے خصوصی مراعات دی جائیں گی ، بینکنگ چینل سے رقوم بھیجنے کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں گی، رکاوٹیں دور کرنے سے ترسیلات زر 20ارب ڈالر سے بڑھا کر 40ارب ڈالر تک کی جاسکتی ہیں، حکومت اوورسیز پاکستانیو ں کے اثاثوں اور جائیدادوں کا قبضہ مافیا سے مکمل تحفظ بھی یقینی بنائیگی۔ جمعہ کو سوشل میڈیا پر جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا اوورسیز پا کستا نیوں کے ایک گروہ سے سیر حاصل ملاقات کا موقع ملا۔ ہم بینکنگ چینلز سے ترسیلاتِ زر کی حوصلہ افزائی اور اس راہ میں حائل رکاوٹیں دورکرنے کیلئے پر عزم ہیں ،فلپائن کامیابی سے یہ کارنامہ سرانجام دے چکا ہے۔ اوور سیز پاکستانیوں کی ترسیلات زر کیلئے خصوصی مراعات د ی جائیں گی ، ہم اوورسیز پاکستانیوں کو وطن واپسی کے موقع پر امیگریشن کے حوالے سے درپیش مشکلات کے خاتمے کیلئے بھی خصوصی اقدا ما ت اٹھا رہے ہیں۔ پاکستانی سفارتخانوں کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے تحفظات موثر انداز میں دور کرنے کی واضح ہدایات جاری کر دی ہیں ۔وزیر اعظم کامزیدکہنا تھابیرون ملک پاکستانی مشنز کو پاکستانیوں کے خدشات بہتراندازمیں حل کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔ بعدازاں وزیر اعظم عمران خان نے وزارت خزانہ، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، سٹیٹ بینک پاکستان اور نادرا کو مل بیٹھ کر ای سلوشن کے ذر یعے ترسیلات زر کے طریقہ کار میں حائل رکاوٹوں کو دورکرنے میں قابل عمل منصوبہ تیار کرکے پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا بیرون ملک مقیم پاکستانی ملک کا اثاثہ اور وہ ترسیلات زر کے ذریعے مالی صورتحال کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں،متعلقہ محکمے قانونی چینلز کے ذریعے ترسیلات زر بھیجنے کو آسان بنانے کیلئے فوری طریقہ کار وضع کریں۔یہ ہدایات انہوں نے سمندر پار پاکستانیز اور انسانی وسائل کی ترقی کی وزارت کی بریفنگ کے تناظر میں جمعہ کو وزیراعظم آفس میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں اجلاس کا مقصد بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور محنت کشوں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنا تھا۔اجلاس میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جائیدادوں پر قبضہ سے متعلق سول اور دیوانی مقدمات میں قانونی اصلاحات کا بھی فیصلہ کیا گیا، ان مقدمات کیلئے خصوصی عدالتوں کے قیام پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ محنت کشوں کا تعلق کم آمدن طبقہ سے ہے جو مالی بوجھ کے باعث ملک سے باہر جاتا ہے اور بیرون ملک مشکل صورتحال میں زندگی گزارتا ہے اس لئے ان کو اور پاکستان میں مقیم ان کے اہل خانہ کو تمام ضروری سہولیات اور مراعات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے،اجلاس میں ترسیلات زر پر ٹیکس استثنیٰ سمیت مختلف مراعات اور کئی سماجی بہبود کی سکیموں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلا س میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا ریکارڈ درست رکھنے کیلئے اوورسیز پاکستانیز اور انسانی وسائل کی ترقی کی وزارت کے اداروں اور نادرا کے درمیان رابطہ کاری قائم کی گئی۔ اجلاس میں بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز پاکستانیز اور ایف آئی اے کے درمیان مفت رابطہ کاری شروع کی گئی ہے جو 17 اکتوبر سے فعال ہو گی۔بعدازاں فاٹا سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز کے وفد نے وزیراعظم عمران خان سے پی ایم آفس میں ملاقات کی،اس موقع پروزیر اعظم عمران خان کاکہنا تھا فاٹا انضمام کی تکمیل اور قبائلی علاقہ جات میں دیگر علاقوں کی طرح سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، قبائلی علاقہ جات میں لوکل گورنمنٹ کے نفاذ سے عوام کو صحیح معنوں میں بااختیار بنانے ترقیاتی عمل کو یقینی بنانے میں خاطر خواہ مدد ملے گی، کوشش ہے قبا ئلی علاقوں میں لوکل گورنمنٹ کے نفاذ کو جلد ممکن بنایا جائے، وفد میں سینٹرز سید شبلی فراز، ہدایت اللہ، ہلال الرحمان، اورنگزیب، تاج محمد، سجا د حسین، حاجی مومن خان اور مرزا محمد آفریدی شامل تھے، ملاقات میں قبائلی علاقوں کی مجموعی صورتحال ، فاٹا انضمام، انتظامی امور و دیگر ایشوزپر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔

وزیر اعظم اعلان

Back

مزید : صفحہ اول