بعض قوتیں پاکستان کو معاشی بحران سے دوچار کر رہی ہیں ،حافظ سعید

بعض قوتیں پاکستان کو معاشی بحران سے دوچار کر رہی ہیں ،حافظ سعید

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر)امیرجماعۃالدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے بعض قوتیں منظم منصوبہ بندی کے تحت پاکستان کو معاشی بحرا ن سے دوچار کر رہی ہیں۔ قوم کو بتایا جائے پاکستان کو مفلوج کرنے کی سازشوں کے پیچھے کون ہے؟۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے سودی قرضے لیکر ملکی مسائل کا حل ممکن نہیں، سوئٹزر لینڈ کے بینکوں میں پڑی لوٹ مار کی دولت واپس لائی جائے۔حکمران بیرونی قوتوں کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی بجائے قوم کو اعتماد میں لیں، مسلم ممالک اور چین سے معاہدے کئے جائیں۔ پاکستان کو مدینہ کی ریاست بنانے کیلئے سود ی معیشت پر مبنی نظام ختم کرنا ہوں گے۔ پاکستانی قوم مشکل وقت میں ہر طرح کی قربانی پیش کرنے کیلئے تیار ہے۔ جامع مسجد القادسیہ میں خطبہ اور نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاسب سے بڑا حربہ معاشی ہتھیار ہے جسے آج مسلمان ملکوں کیخلاف استعما ل کیا جارہا ہے۔ہم تمام مسائل پر قابو پا سکتے ہیں لیکن اس کیلئے عقیدے کی پختگی اور عمل چاہیے۔ وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست بنانے کی بات کی ہے تو وہ اپنے اس عہد کو نبھائیں،وہ سیرت رسول ؐسے رہنمائی لیں کہ جب مدینہ کے محاصرے کئے گئے، مہاجرین کی آبادی بڑھی او ر معاشی حالات تنگ ہوئے توانہوں نے کیا لائحہ عمل اختیار کیا اور اندرونی وبیرونی مسائل کیسے حل کئے؟۔ آج قرآن پاک کی ان سورتوں کو پڑھ کر رہنمائی لینے اور پالیسیاں مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔یہ سوچ درست نہیں کہ آئی ایم ایف سے قرض لئے بغیر ملک نہیں چلایا جاسکتا۔ مشکل وقت میں قربانی دینا پڑتی ہے۔ حکمران سب سے پہلے خود قربانی دیں اور لوگوں کیلئے مثال بن کر قوم میں قربانی والے جذبے پیدا کریں،قوم ملکی سلامتی واستحکام کیلئے بھوک برداشت کرنے کیلئے تیار ہو جائے گی۔یہ کہنا کہ ہم گلوبل سسٹم سے الگ نہیں ہو سکتے سراسر دھوکہ ہے۔ حکمرانوں کو چاہیے وہ سنبھل جائیں ، بیرونی قوتیں وطن عزیز پاکستان کو کسی صورت مضبوط و مستحکم نہیں دیکھنا چاہتیں۔ریاست مدینہ کا ماڈل اللہ نے قرآن میں پیش کیا ہے اور یہ ہماری اسلامی تاریخ کا حصہ ہے۔ضرورت اس امر کی ہے ملک میں قرآن و سنت کا نظام نافذ کیا جائے۔ اسی سے آسمانوں سے رحمتیں و برکتیں نازل ہوں گی اور مسلمانوں کے مسائل حل ہوں گے۔

حافظ سعید

مزید : صفحہ آخر