50لاکھ گھر تعمیر ہو گئے تو ایک کروڑ نوکریاں بھی مل جائیں گی

50لاکھ گھر تعمیر ہو گئے تو ایک کروڑ نوکریاں بھی مل جائیں گی
50لاکھ گھر تعمیر ہو گئے تو ایک کروڑ نوکریاں بھی مل جائیں گی

  

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

لیجئے جناب مسئلہ ہی حل ہوگیا، اب وہ لوگ شرمندہ شرمندہ پھر رہے ہیں، جن کا خیال تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے پانچ سال میں ایک کروڑ نوکریوں اور 50 لاکھ گھروں کا جو وعدہ کر رکھا ہے، اس پر عمل نہیں ہوسکے گا، کیونکہ پانچ سال میں 50 لاکھ گھر تعمیر کرنے کا مطلب ہے کہ ہر سال دس لاکھ گھر بنانے ہوں گے اور ایک کروڑ نوکریوں کا مطلب ہے کہ ہر سال بیس لاکھ نوکریاں دینا پڑیں گی۔ وزیراعظم عمران خان نے 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کے منصوبے کا اعلان کیا تو پہلے ہی دن سوا لاکھ فارم ڈاؤن لوڈ ہوگئے۔ اگر اسی رفتار سے فارم لئے اور واپس جمع کرائے جاتے رہے تو مطلوبہ ہدف بہت جلد پورا ہوجائے گا۔ پہلے مرحلے میں ملک بھر کے سات اضلاع میں یہ سکیم شروع کی جا رہی ہے۔ پھر مرحلہ وار پروگرام کے تحت اسے پھیلا دیا جائے گا۔ رجسٹریشن کے ساتھ 250 روپے فی فارم وصول کئے جائیں گے۔ اس لئے اگر ایک کروڑ لوگوں نے بھی رجسٹریشن کرا لی تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ابتدائی اخراجات کے لئے کتنی خطیر رقم جمع ہو جائے گی۔ جب تک پچاس لاکھ گھر بنیں گے اس وقت تک ان سے 60 لاکھ نوکریاں بھی پیدا ہوں گی۔ حکومت نے ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کر رکھا ہے، باقی ماندہ کا انتظام بھی آسان ہو جائے گا۔ اگرچہ عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف جس کے پاس ہم نے اپنے مالی دکھوں کا علاج کرنے کے لئے رجوع کرچکے ہیں، کا خیال ہے کہ پاکستان کے پاس محدود آپشن ہیں اور اس کے اخراجات انتہا کی حدوں کو چھو رہے ہیں۔ اس لئے غربت کم کرنے اور روزگار کے وسائل پیدا کرنا مشکل ہوگا، لیکن ہمیں آئی ایم ایف سے قرضہ چاہئے، اس کی پند و نصائح سننے کی ہمیں چنداں ضرورت نہیں۔ جب ہم 50 لاکھ گھر بنائیں گے تو اس میں کام آخر پاکستانیوں نے ہی کرنا ہے۔ اتنے گھروں کے لئے 60 لاکھ افراد کو نوکریاں ملنے کا بندوبست ہوگیا تو پھر ملازمت کے نئے مواقع بھی پیدا ہو جائیں گے۔ اس لئے آئی ایم ایف کیسے کہہ سکتا ہے کہ روزگار کے مواقع نہیں ہوں گے۔

جس انداز میں گھروں کے لئے درخواست فارم ڈاؤن لوڈ کئے گئے، ان سے یہ اندازہ تو ضرور ہو جاتا ہے کہ اس منصوبے کی پذیرائی اپنی آخری حدوں کو چھو رہی ہے، لیکن اس جوش و جذبے میں اس وقت کمی آنے کا امکان ہے جب تعمیر شدہ مکانوں کی قیمت اور ادائیگی کا طریق کار سامنے آئے گا، کیونکہ بظاہر یہ قیمتیں ایسی نہیں ہوں گی جس کی ادائیگی وہ لوگ کرسکیں، جن کی ماہانہ آمدنی 20 ہزار روپے ماہوار ہے۔ اس وقت مہنگائی کو جو عالم ہے، اس میں اس آمدنی کے ساتھ تو معقول طریقے سے روزمرہ اخراجات نہیں کئے جاسکتے۔ رقم پس انداز کیسے ہوگی۔ بجلی، گیس، پانی وغیرہ کے اخراجات میں ہی ایک خاندان کی بڑی رقم خرچ ہو جاتی ہے۔ دس بارہ ہزار میں تو ایک کمرہ کرائے پر نہیں ملتا، پھر بچوں کی فیسیں وغیرہ اور دوسرے اخراجات ہیں۔ ایسے میں 20 ہزار روپے کمانے والی گنجی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا، لیکن پھر بھی خوش فہم لوگ اگر چند ماہ تک خوشی و مسرت سے شاد کام ہو لیں تو اس میں آخر خرابی کیا ہے۔ یہ اہم سوال ہے کہ 20 ہزار روپے ماہوار کمانے والا شخص اپنی خواہش کے باوجود اپنی چھت کا تصور کرسکتا ہے یا نہیں، یہ تو اس وقت معلوم ہوگا جب گھروں کی تفصیلات سامنے آئیں گی اور یہ پتہ چلے گا کہ ان کی قیمت کتنی ہے اور کتنے برسوں میں اس کی ادائیگی کرنا ہوگی۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ ایک حکومت کی شروع کی گئی سکیمیں اگلی حکومت آکر ختم کر دیتی ہے یا ان پر کام روک دیا جاتا ہے۔ میاں نواز شریف نے اپنی وزارت عظمیٰ کے دوسرے دور میں وزیراعظم ہاؤسنگ سکیم شروع کی تھی، یہ تعمیرات بھی سرکاری زمین پر ہونی تھیں اور چار پانچ منزلہ فلیٹ تعمیر ہونے تھے، ابھی چند شہروں میں ہی یہ سکیم شروع ہوئی تھی اور کہیں کہیں گرے سٹرکچر مکمل ہونے کے قریب تھا کہ ان کی حکومت کا تختہ جنرل پرویز مشرف نے الٹ دیا اور اس سکیم پر کام رک گیا۔ نئی حکومت کے کار پروازوں کو یہ معلوم کرنے پر لگا دیا گیا کہ اس منصوبے میں کتنی کرپشن ہے اور کیا اسے جاری بھی رکھا جاسکتا ہے یا نہیں۔ غالباً ایک سال تک کام رکا رہا اور معلوم ہوا کہ اس کام میں کوئی خرابی نہیں تو دوبارہ شروع کیا گیا اور آج ہزاروں لوگ ان فلیٹوں میں مقیم ہیں۔ اسی طرح لاہور کے علامہ اقبال ایئر پورٹ پر نواز شریف نے کام شروع کرایا تھا، جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے اس پر بھی کام رکوا دیا اور بہت سی تحقیقات کے بعد دوبارہ شروع کرایا۔ یہ ایئرپورٹ جنرل پرویز مشرف دور میں مکمل ہوا تو انہوں نے کمال فراخ دلی سے اس پراجیکٹ کی تعریف کی اور اس سلسلے میں نواز شریف کے کردار کو سراہا اور یہ تک کہہ گزرے کہ جس کا جو کریڈٹ بنتا ہو وہ اسے دیا جانا چاہئے۔

50 لاکھ گھروں کا منصوبہ ایک میگا پراجیکٹ ہوگا اور اس کے لئے جس قدر سرمائے کی ضرورت ہوگی، اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کہاں سے آئے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے ڈیم فنڈ کے لئے بیرون ملک پاکستانیوں سے امید باندھی تھی کہ وہ فی کس ایک ہزار ڈالر بھیجیں اور جو اتنی رقم نہیں دے سکتے، وہ اپنی استطاعت کے مطابق اس فنڈ میں حصہ لیں۔ ٹھیک طرح سے معلوم نہیں کہ بیرون ملک پاکستانی اس مد میں کتنی رقم بھیج چکے اور یہ کس رفتار سے بھیجی جا رہی ہے، لیکن اندازہ ہے کہ جو توقعات غیر ملکوں میں مقیم پاکستانی باشندوں سے باندھی گئی تھیں، وہ پوری نہیں ہوئیں ورنہ بڑے فخر سے بتایا جاتا کہ انہوں نے اتنے کروڑ یا اتنے ارب ڈالر اس فنڈ کے لئے بھیج دئیے ہیں۔ ان حالات میں 50 لاکھ گھروں کے لئے سرمائے کا حصول خاصا مشکل کام ہوگا۔ اگر اس میں نجی شعبے کو شریک کیا جاتا ہے تو پھر سستے گھروں کو بھول جانا چاہئے، کیونکہ نجی شعبے کے لوگ مہنگے گھر ہی بناسکتے ہیں۔ وہ جتنا سرمایہ لگاتے ہیں، اس سے دو گنا تگنا واپس لینا چاہتے ہیں، ان کے ادارے کاروباری ہیں، خیراتی نہیں۔ اس وقت ملک کے کسی شہر میں دیکھ لیں، آپ کو کسی جگہ کوئی بلڈر ایسا نظر نہیں آئے گا جو سستے گھر بناتا ہو، جن گھروں کو ’’سستے‘‘ کا نام دیا گیا ہے وہ بھی خاصے مہنگے ہیں، بس اتنا ہے کہ اگر وہ کہیں دو ڈھائی کروڑ کا گھر بنا کر فروخت کرتے ہیں تو یہ ایک کروڑ یا کم بیش کا ہوگا اور چونکہ یہ ڈھائی کروڑ روپے والے گھر سے ڈیڑھ کروڑ سستا ہوگا، اس لئے اسے ’’سستے گھر‘‘ کا نام دینے میں مضائقہ نہیں، ایسی ہی صورت حال کے لئے ’’برعکس نہند نام زنگی کافور‘‘ کا محاورہ وجود میں آیا تھا۔ وزیراعظم کے ایک دوست ہیں انیل مسرت، سنا ہے وہ 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اس شعبے میں کرسکتے ہیں، لیکن ان کا بھی ایک کارباری ادارہ ہے جو کاروباری اصولوں کے تحت ہی سرمایہ کاری کرے گا۔ انہوں نے صدر جمی کارٹر کی طرح ’’ہاؤسز فار دی پور‘‘ جیسا کوئی ادارہ نہیں بنا رکھا جس کے تحت وہ غریبوں کے لئے گھر بناتے ہوں۔ وہ اگر عمران خان کی محبت میں اس پراجیکٹ میں کچھ سرمایہ کاری کر بھی دیں گے تو اول تو ان کی خواہش ہوگی کہ وہ زیادہ نہیں تو معقول منافع ضرور کمائیں۔ ایسی صورت میں یہ گھر کم آمدنی والوں کے لئے افورڈ ایبل نہیں رہ جائیں گے اور اگر وہ ’’نہ منافع نہ نقصان‘‘ کی بنیاد پر سرمایہ کاری کریں تو انہیں سرمایہ کار نہیں صاحب خیر کہا جاسکتا ہے، جو اتنی بڑی سرمایہ کاری بغیر کسی لالچ میں پاکستان کے اندر کر دیں۔ ایسی صورت میں ممکن ہے وہ حکومت پاکستان سے کچھ ایسی رعایتیں مانگیں جس سے 20 ارب روپے کی سرمایہ کاری کے منافع سے بے نیاز ہو جائیں۔

50 لاکھ گھر

مزید : تجزیہ