پی ایچ ڈی اساتذہ کو ہتھکڑیاں لگا کر دنیا کو کیا پیغام دیا گیا؟

پی ایچ ڈی اساتذہ کو ہتھکڑیاں لگا کر دنیا کو کیا پیغام دیا گیا؟
پی ایچ ڈی اساتذہ کو ہتھکڑیاں لگا کر دنیا کو کیا پیغام دیا گیا؟

  

تجزیہ :ایثار رانا

اگر ڈاکٹر مجاہد کامران پی ایچ ڈی اور چودھری اکرم پی ایچ ڈی کو تین روز قبل گرفتار کیا جاتاتو بہتر تھا، کیونکہ تین روز قبل پوری دنیا میں اسا تذ ہ کا عالمی دن منایا گیا۔ پوری دنیا کو اس سے زیادہ اچھا پیغام کوئی نہیں ہوسکتا تھا کہ انگوٹھا چھاپ معاشرے کے پی ایچ ڈی اساتذہ کا ہم کس طرح احترام کرتے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران کو خلاف ضابطہ تقرریوں کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ انہیں ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں گھسیٹا گیا۔ اس طرح ان کیساتھ سابق رجسٹراروں کو بھی عدالتوں میں طلب کیا گیا۔ یہ تمام اساتذہ بشمول رجسٹرارز سب پی ایچ ڈی سکالرز ہیں اور ان کی عمریں بھی 70 کے لگ بھگ ہیں، یعنی پوتے، پوتیوں، نواسے، نواسیوں والے ہیں ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے، جس الزام کے تحت ان اساتذہ کو رسوا کیا گیا، اگر وہ الزام کل ثابت نہ ہوسکا تو جو پورے معاشرے میں ان بزرگوں کے منہ پر جو کالک ملی گئی، اس کا ذمہ دار کون ہوگا۔ لگتا ہے نیب اب جلد گنڈیریوں پر زیادہ پانی لگانے اور تربوزوں کو سرخ انجکشن لگانے وا لو ں کو بھی پکڑے گا۔ یہ قانونی ماہرین بتائیں نیب خلاف ضابطہ تقرریوں پر کارروائی کا اختیار بھی رکھتی ہے یا نہیں۔ دوسری بات ہمارے نفسیا تی ماہرین بتائیں گے کہ جس قوم کے تعلیم یافتہ ترین افراد کو محض الزامات پر اس طرح ذلیل کیا جائے، ان اساتذہ سے تعلیم حاصل کرنیوالے طلبہء کا اخلاقی مورال کہاں کھڑا ہوتا ہے۔ تیسری بات سیاسی ماہرین بتا سکتے ہیں کہ کیا پاکستان کا سیاسی نظام اس حد تک شفاف ہوچکا ہے کہ اب تعلیم کلین شروع کیا گیا ہے۔ پانچویں بات کوئی اندر کا بھیدی بتا سکتا ہے کہ کیا حکومت کا دماغی توازن اقتصادی محاذ پر زچ ہو نے کے بعد کہیں ہل تو نہیں گیا۔ یہ کیا فرسٹریشن ہم معاشرے کو دے رہے ہیں، میں بار بار کہہ رہا ہوں وزیراعظم عمران خان کیخلاف سا ز ش ہو رہی ہے، عوام میں ان کے حوالے سے بے چینی بڑھ رہی ہے۔ ایسے اقدامات کئے جا رہے ہیں کہ ان کی مقبولیت کا گراف تیزی سے گر رہا ہے۔ کیا ان کیخلاف کوئی سازش ہو رہی ہے، جو معاشرہ اپنے اساتذہ کی عزت کرنا نہ جانتا ہو مجھے بتائیں وہ اقوام عالم میں کس طرح خود اپنی عزت کرا سکتا ہے۔ سپریم کورٹ اس بات کا حکم دے چکی ہے کہ جب تک کسی پر الزام ثابت نہ ہو اس کی بے توقیری نہ کریں پھر کون اتنا طاقتور ہے کہ وہ کسی کی پروا نہیں کر رہا۔ ججز، جرنلز، سیاستدان، بیوروکریٹس، صحافی، شوگر مافیا، قبضہ گروپس، کک بیکس لینے والے، چائنہ کٹنگ والے سب سزا پاچکے جو پی ایچ ڈی سکالرز کو یوں ذلیل کیا گیا، انہیں خاموشی سے بلا کر تحقیقات کی جاسکتی تھیں۔ ہاں جرم ثابت ہوتا تو چاہے انہیں ان کی یونیورسٹیوں میں پھانسی لگا دی جاتی۔ افسوس ہم ایک زوال پذیر معاشرہ ہیں ،ڈاکٹر مجاہد کامران، چودھری اکرم کی گرفتا ر ی اور بے توقیری ایک معاشرے کی چھوٹے پن کی گھٹیا مثال ہے۔

تجزیہ ایثارانا

مزید : تجزیہ