شانگلہ میں کمسن ڈرائیوروں کیخلاف کریک ڈاؤن کا آغاز

شانگلہ میں کمسن ڈرائیوروں کیخلاف کریک ڈاؤن کا آغاز

الپوری(ڈسٹرکٹ رپورٹر)شانگلہ پولیس نے نان رجسٹرڈ و بغیر نمبر پلیٹ موٹر سائیکلوں اور خصوصاًکمسن ڈرائیوروں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے، اس ضمن میں بڑے پیمانے پر کاروائی کے دوران 137موٹر سائیکلیں جبکہ بغیر ہلمٹ، ڈرائیونگ لائیسنس ڈرائیوران سے گاڑیاں تحویل میں لیکر مختلف تھانہ جات میں بند کر دئے گئے ہیں۔ ٹریفک پولیس شانگلہ بھی مہم کیلئے مختلف شاہروں پر چوکس ہو گئے ،ٹی ایس ائی بخت زیب خان کے مطابق جمعے کے روز ضلع کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر افسران بالا کی ہدایت پر ٹریفک پولیس نے بھی جاری کریک ڈاؤن میں پیش پیش رہیں۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر شانگلہ رسول شاہ کی طرف سے تحفظ عامہ کے پیش نظر جاری کردہ ہدایات کے مطابق ضلع بھر میں چلنے والی نان رجسٹرڈ اور بغیر نمبر پلیٹ موٹر سائیکلوں اور کمسن بچوں کی موٹر سائیکل و گاڑی چلانے پر قانون کے مطابق عائد پابندی پر سخت عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے اور اس ضمن میں شانگلہ بھر کے مختلف تھانوں کے ایس ایچ او ز اور ٹریفک پولیس نے ضلع بھر کے مختلف مقامات پر نکہ بندیاں کرتے ہوئے خصوصی کریک ڈاؤن شروع کیا ہے۔ جس کے دوران مختلف تھانوں کم سن ڈرائیوران کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے 137گاڑیوں کو قبضہ میں لیا جا چکا ہے گاڑیاں باقاعدہ طور پر تھانوں میں بند کر دیئے ہیں۔ ضلع شانگلہ کے مختلف شاہراہوں پر کاروائی میں پکڑے گئے موٹرسائیکل سواروں میں 75کمسن ڈرائیورز جبکہ نان رجسٹرڈ اور بغیر نمبر پلیٹ موٹر سائیکلیں چلانے والے 62 دیگر قانون شکن افراد شامل ہیں جنہیں قانون کی رو سے چالان کیا گیا ہے۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر شانگلہ رسول شاہ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ریجن کے مختلف اضلاع میں کم سن ڈرائیوران کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا جا چا ہے۔ کیونکہ کم سن ڈرائیوران کے اس فعل سے نہ صرف ان کے اپنے جان کا خطرہ ہوتاہے بلکہ دیگر راہگیروں کو بھی شدید قسم کے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔کم سن ڈرائیوروں کی مین شاہراوں پر گاڑی چلانا خلاف قانون ہیں اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہو گی۔ کم سن ڈرائیوران کی ڈرائیونگ سے روڈ ایکسڈنٹ کی شرح میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، جس کے روک تھام کے لئے ضروری اقدامات اٹھانا ازحد ضروری ہے۔ ڈی پی او شانگلہ نے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ اپنے کم عمر بچوں کو موٹر سائیکل و دیگر گاڑیوں کے چلانے سے رکیئے۔ ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر