اب سب ججوں کا احتساب ہو گا ، سپریم کورٹ جوڈیشل کونسل ایکٹو ہو چکی ، لاہور ہائیکورٹ سپر وائرزی میں ناکام نظر آتی ہے ، لوگ چیخ چیخ کر مر رہے ہیں ، انصاف نہیں مل رہا کم کیسز کے فیصلے کرنیوالے ججز کیخلاف بھی کارروائی ہو گی : چیف جسٹس

اب سب ججوں کا احتساب ہو گا ، سپریم کورٹ جوڈیشل کونسل ایکٹو ہو چکی ، لاہور ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی/نامہ نگار)چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار نے اپنے آ پ کو احتساب کے لئے پیش کردیا ۔لاہور میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سلور جوبلی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ آج کوئی بھی مجھ سے سوال کرسکتا ہے ، 3ماہ بعد میری ریٹائرمنٹ کے بعد بھی میں اپنے اقدامات کا جواب دینے کے لئے تیار ہوں،مقدموں میں تاخیر کی وجہ عدلیہ کی نااہلی بھی ہے، نااہل عدلیہ اور وکلا ء مل کر سائلین کا اسحتصال کر رہے ہیں،جو تنقید ہو رہی ہے وہ درست ہے میں تسلیم کرتا ہوں۔میں نے جن چیزوں پر ازخود نوٹس لئے ان کا حل تلاش نہیں کرسکا۔عدلیہ کو اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا، میں پہلے اپنے گریبان میں جھانک رہا ہوں،شاید میں اپنے ملک کے لئے وہ کچھ نہیں کر پایا جو کرسکتا تھا،پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ آج اگر یہ ملک نہ ہوتا تو آج میں شاید کسی بینک کا ملازم یا چھوٹا موٹا وکیل ہوتا،میں نے بابا رحمتا کا لفظ استعمال کیا تو لوگوں نے اسے مذاق کے طور پر لیا ،بابا رحمتا انصاف اور معاشرے میں بڑے ہونے کی علامت ہے ۔بابا رحمتہ لوگوں کے فیصلے دیانت داری سے کرتا ہے اور لوگ اس کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں۔بابا رحمتے یعنی عدلیہ کے احترام کے بغیر کوئی معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا۔انہوں نے کہا کہ بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ عدلیہ سمیت سب کی ذمہ داری ہے ۔آئین میں بنیادی حقوق محض دکھاوے کے لئے شامل نہیں کئے گئے ۔اب وہ دور چلا گیا جب لوگ پشت در پشت انصاف کے حصول کے لئے انتظار کرتے تھے ۔ججز کئی کئی دن تک مقدمات کی سماعت نہیں کرتے اور تاریخیں ڈال دی جاتی ہیں،آج لوگوں کو جلد انصاف چاہیے ۔تقریب سے خطاب کرنے والے وکلاء راہنماؤں نے عدلیہ اور سپریم جوڈیشل کونسل کو فعال کرنے پر چیف جسٹس کی ستائش کی ۔پاکستان با رکونسل کے وائس چیئرمین نے کہا کہ وکلاء چیف جسٹس پاکستان اور سپریم کورٹ کے ساتھ ہیں۔چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثارنے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک نصیبوں والوں کو ملتاہے،پاکستان ہمیں کسی نے خیرات میں نہیں دیا،یہ ملک بڑی قربانیوں سے ملا ۔ججوں اوروکلاء کوآج ملک کو لوٹانا ہے۔انہوں نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کے ایک جج پر یومیہ 55ہزار روپے خرچ آتاہے ،کیاجج اس رقم کے حساب سے اپنی ذمہ داریاں پوری کررہے ہیں؟اگر ججز اپنی ذمہ داری پوری نہیں کریں گے تو مقدمات التواء کا شکار کیوں نہیں ہوں گے۔اگر مقدمات التواء کا شکار ہوں گے تو عدلیہ پر اعتماد میں کمی کیوں نہیں ہوں گی،55ہزار روپے یومیہ لینے کے باوجود کام نہ ہوتوسوال اٹھیں گے۔دوسری طرف وکلاء اگر تاریخوں پر تاریخیں لیتے ہیں تو فراہمی انصاف کے راستے کی رکاوٹ بنتے ہیں۔زبانی جمع خرچ کے قانون کو بدلنے کی کوشش نہیں کی گئی،قوانین کوجدید دور کے مطابق ڈھالنا ہو گا،قانون شہادت معاشرے میں انصاف کے آج کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا، کیا آپ اس دور میں جانا چاہتے ہیں جس میں آپ کو انصاف میسر نہ آسکے یا جلد میسر نہ آسکے؟جج قانون کے مطابق فیصلے کرتے ہیں، قوانین کی بھی تجدیدکرنی ہوگی کیوں کہ آج بھی 19 ویں صدی کے قانون شہادت پر گزارا کرنے پر مجبور ہیں اور آج بھی دستاویز پر لکھا ہوتا ہے خاتون پردہ نشین ہے۔انہوں نے کہا کہ جوڈیشل اکیڈمی میں آنے والے ججوں کو سول قوانین کا علم نہیں ہوتا، جدید ذرائع سے استفادہ حاصل کرنا ہوگا۔آج شناخت اور ملکیت جیسے بنیادی حقوق بھی محفوظ نہیں ہیں ،ایک اوورسیز پاکستانی جب مدد مانگنے آتا ہے تو آپ کہتے ہیں سول کورٹ چلے جاؤ۔اب وہ دور چلا گیا جب پشت در پشت لوگ انصاف کے حصول کے لئے انتظار کریں گے۔ایک خاتون کو 61سال بعد انصاف ملا ہے ،قانون کے تحت فراہمی انصاف عدلیہ کی ذمہ داری ہے،سوات میں صرف فراہمی انصاف کا نعرہ لگایا گیااورصوفی محمد نے بغاوت کی،انہوں نے کہا قوانین کو تبدیل کرنا کس کا کام ہے؟عدلیہ کا کام صرف قوانین کی تشریح کرنا ہے،انہوں نے کہا کہ کفر کا معاشرہ تو رہ سکتا ہے لیکن بے انصافی کا نہیں،کیا یہ بے انصافی نہیں کہ فیصلوں میں تاخیر کی جائے،کیا یہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کہ منشا بم جیسے لوگ زمینوں پر قبضے کرلیں ۔پرائیویٹ ہسپتال میں خاتون کا بچہ ایک ماہ کومے میں پڑا رہے اور اس سے ایک کروڑ روپے بل لے لیا جائے ،کیا پرائیویٹ میڈیکل کالجوں میں طلباء سے 34،34لاکھ روپے فیس لینا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں،ہم نے میڈیکل کالجوں سے اضافی رقوم واپس کروائیں ،انصاف میں تاخیر اب ناسور بن چکا ہے، جس بندے کے مقدمے کی تاریخ پڑتی ہے وہ اسی وقت مرجاتا ہے،آج بھی اس جدید دور میں ہم زبانی احکامات مان رہے ہیں،آج بھی دستاویزات پر لکھا ہوتا ہے کہ خاتون پردہ نشین ہے یا مدعی ان پڑھ ہے ،دستخط نہیں کرسکتا،جعلی دستخط کرنا کوئی مشکل کام نہیں،یہ تو میں بھی کرسکتا ہوں۔ہم قوانین میں ترامیم نہیں کررہے ہیں،یہ کس کی ذمہ داری ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ سب نظام جھوٹ پر کھڑا ہے تو اس ملک کا کیا بنے گا،جھوٹ کا نظام اور ملک ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔انہوں نے کہا کہ ایک جج کو پوری ذمہ داری سے ان مقدمات کا فیصلہ کرنا ہوگاجواس کے سامنے لگے ہیں،جج پیڈ ہالیڈیز پر نہیں ہوتے،جب آپ اپنی ذمہ داری پوری نہیں کریں گے تو پھر انصاف میں تاخیر تو ہوگی ،ہمیں جدید وسائل سے استفادہ حاصل کرنا ہو گا،دنیا میں جن قوموں نے ترقی کی ہے ،ان میں چار عناصر مشترک ہیں۔وہاں انصاف اور انسانی حقوق کو اہمیت دی گئی ،عدلیہ کو عزت دی گئی ،عدلیہ کی عزت کے بغیر معاشرے میں اس کا مقام اور بھرم قائم نہیں رہ سکتا، انہوں نے کہا کہ میں پوری ذمہ داری سے کہ سکتا ہوں اس بار کا سب سے پرانا ممبر ہوں،میں7 سال کی عمر سے اپنے والد کے ساتھ بار میں آرہا ہوں،مجھے یاد ہے بار میں ہاتھ سے جھلنے والا پنکھا اور لکڑی کا کولر ہوتا تھا،عدالتوں میں جھوٹ نہیں بولتے تھے ،وکلاء اپنے موکل اور عدالتوں کا احترام کرتے تھے،اس بار کو پنپنے دیکھا ہے، یہاں ایس ایم ظفر سمیت جید وکلا ء کو وکالت کرتے دیکھا ہے ،یہاں عدالتوں میں وکلا ء کو بڑے ادب سے پیش ہوتے دیکھا ہے ،آج کتنے لوگ ہیں جو اپنی عدالت سے پیار کرتے ہیں،پاکستان کی تاریخ میں بے شمار لوگ شہیدہوئے کیا ہم اس ملک کی قدر کر رہے ہیں ،عدلیہ کا ایک مقام ہے ،اس کی عزت کریں ۔انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد سے متعلق قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے سربراہان سے وضاحت طلب کرلی ہے،انہوں نے مزید بتایا کہ اگر لاپتہ افراد ان اداروں کے پاس نہیں ہیں تو پھر کس کے پاس ہیں؟ان اداروں کے سربراہوں سے بیان حلفی طلب کرلیا ہے ،انہوں نے بتایا کہ لاپتہ افراد کے مقدمات کی سماعت کے لئے سپیشل بینچ تشکیل دے دیاہے ،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان بارکونسل کے وائس چیئرمین محمداحسن بھون نے کہا کہ چیف جسٹس پاکستان عدلیہ میں احتساب کے عمل کو فعال کرنے پرمبارکباد کے مستحق ہیں۔وکلاء اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے احتساب کے حوالے سے سپریم جوڈیشل کونسل کی فعالیت کاخیر مقدم کرتے ہیں،ملک بھر کے وکلاء سپریم کورٹ اور چیف جسٹس پاکستان کے ساتھ ہیں۔احسن بھون نے اپنے خطاب میں سپریم کورٹ بار کی سابق صدرعاصمہ جہانگیر کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس نے کہا کہ چیف جسٹس نے جو کام کیا وہ قابل تعریف ہے،نئی ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے منفی اثرات سے بچاؤ کے لئے کل کا انتظار نہیں کیا جا سکتا،ہماری سماجی اقدار تیزی سے زوال پذیر ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ قوانین کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا وقت کی ضرورت ہے،دنیا کو سرمایہ دارانہ نظام نے جکڑ رکھاہے،چھوٹے ممالک کو خودمختاری برقرار رکھنے کے لئے قوانین کواپنے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہو گا۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سینئرقانون دان میاں ظفر اقبال کلانوری نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر اسی رفتار سے مقدمات چلتے رہے تو انہیں نمٹانے میں320سال لگیں گے،اگر مصالحتی انداز سے مقدمات نمٹائیں گے تو جلد زیر التواء مقدمات چند سالوں میں نمٹائے جاسکیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم ماتحت عدالت کے ججوں کو سزاء یا جزا کے طور پر پڑھانے کے لئے جوڈیشل اکیڈمی بھجوانے کی پالیسی کو تسلیم نہیں کرتے۔سیمینار میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس محمد یاور علی،نامزدچیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس انوار الحق اورجسٹس مامون رشید نے بھی شرکت کی ۔

سپریم کورٹ بار

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ،آئی این پی) چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل اب بہت ایکٹو ہے اور احتساب کا عمل شروع ہوچکا ہے ، لاہور ہائیکورٹ اپنی سپروائزری ذمے داریوں میں ناکام نظر آتی ہے،لوگ چیخ چیخ کر مر رہے ہیں اور انصاف نہیں مل رہا، کم کیسز کے فیصلے کرنے والے ججز کے خلاف بھی آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی ہوگی۔ جمعہ کو ہائیکورٹس کی ذیلی عدالتوں سے متعلق سپروائزری کردار کے بارے میں کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ اب سب ججز کا احتساب ہوگا، لوگ چیخ چیخ کر مر رہے ہیں اور انصاف نہیں مل رہا۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے بنچ نمبر ون نے سات ہزار کیس نمٹائے، ججز سے پوچھتے ہیں تو وہ کہتے ہیں 20 کیس نمٹائے۔جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ کم کیسز کے فیصلے کرنے والے ججز کے خلاف بھی آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی ہوگی اور ججز کو چھٹی والے دن کی تنخواہ نہیں ملے گی۔چیف جسٹس نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ اپنی سپروائزری ذمے داریوں میں ناکام نظر آتی ہے، لوگ تڑپ رہے ہیں، بلک رہے ہیں لیکن کسی کو کوئی فکر نہیں، ہائیکورٹس کی نگران کمیٹیاں ان معاملات کو کیوں نہیں دیکھ رہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ہر جج کو گاڑی چاہیے، بنگلہ چاہیے،مالی چاہیے، مراعات چاہئیں، کیا ہم ہائیکورٹ کی نگراں کمیٹیوں کے ججز کو چیمبر میں بلا کر کارکردگی پوچھیں۔چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے سوال کیا اگر کہیں ہائیکورٹ کے سپروائزری کردار سے مطمئن نہیں تو کیا کہیں گے جس پر انہوں نے جواب دیا آپ کے حکم کی تعمیل کریں گے۔چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ فیصلوں میں تاخیر نظامِ اں صاف میں ناسور کی صورت اختیار کر چکی ہے، جس معاشرے میں ناانصافی ہو گی وہ قائم نہیں رہ سکتا۔۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے سندھ میں ہندوؤں کی جائیدادوں پر قبضے کا نوٹس لے لیا۔ترجمان سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق ہندوؤں کی جائیدادوں پر قبضے سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت 18 اکتوبر کو ہوگی۔ترجمان کے مطابق چیف جسٹس نے اس حوالے سے اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل سندھ، وفاقی سیکریٹری مذہبی امور اور سیکریٹری انسانی حقوق کو نوٹسز جاری کردیئے۔ترجمان کے مطابق چیف جسٹس کی جانب سے یہ نوٹس ریٹائرڈ پروفیسر ڈاکٹر بھگوان دیوی کی سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ایک ویڈیو پر لیا گیا ہے۔لاڑکانہ کی رہائشی خاتون نے اپنی ویڈیو میں الزام لگایا تھا کہ سندھ میں جعلی کاغذات پر ہندوؤں کی جائیدادوں پر قبضے ہو رہے ہیں۔ڈاکٹر بھگوان دیوی کا مزید کہنا تھا کہ ہندو خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔انہوں نے اپنی ویڈیو میں چیف جسٹس ثاقب نثار سے نوٹس لینے اور مدد کی اپیل کی تھی۔ سپریم کورٹ نے این آئی سی ایل کیس کی درخواست ناقابل سماعت قراردیتے ہوئے خارج کردی اور درخواست گزار پر 30 ہزار جرمانہ عائد کردیا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم اس ملک کو سفارش کے عذاب سے نجات دلائیں گے،، اب سفارش کرانے کے کلچرکو ختم ہونا چاہیے۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں این آئی سی ایل کیس کی سماعت ہوئی۔عدالت عظمٰی میں سماعت کے آغاز پرچیف جسٹس نے استفسار کیا کہ معاملہ ٹرائل کورٹ میں زیر التوا ہے، پھرایک اوردرخواست کیوں آگئی؟۔سپریم کورٹ میں بتایا گیا کہ درخواست آئی عدالت نے تاثردیا ملزمان کے خلاف کارروائی کی جائے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے کوئی تاثرنہیں دیا۔انہوں نے ریمارکس دیے کہ آپ کے موکل اورآپ کے ذہن میں بلا جواز یہ تاثر آگیا، ہم درخواست گزار کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ اس کی جرات کیسے ہوئی سپریم کورٹ میں ایسی درخواست کی، عدالت نے درخواست گزارکو30 ہزار روپے جرمانے کی رقم ڈیم فنڈ میں دینے کا حکم دے دیا۔انہوں نے ریمارکس دیے کہ ہم اس ملک کو سفارش کے عذاب سے نجات دلائیں گے، اب سفارش کرانے کے کلچرکو ختم ہونا چاہیے۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے درخواست ناقابل سماعت قراردیتے ہوئے خارج کردی۔سپریم کورٹ نے ریلوے اراضی ملکیت سے متعلق کیس میں چاروں صوبائی چیف سیکرٹریز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی‘ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ ریلوے حکام تعاون نہیں کررہے زمین ریلوے کے مقاصد کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ جمعہ کو سپریم کورٹ نے ریلوے اراضی ملکیت سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے چاروں صوبائی چیف سیکرٹریز کو نوٹس جاری کردیئے۔ سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو بھی معاونت کے لئے نوٹس جاری کردیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ریلوے حکام تعاون نہیں کررہے زمین ریلوے کے مقاصد کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔سپریم کورٹ نے میمو گیٹ اسکینڈل سماعت کے لئے مقرر کرتے ہوئے اٹارنی جنرل اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیا۔ جمعہ کو پریم کورٹ نے میمو گیٹ اسکینڈل سماعت کے لئے مقرر کردی۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ جمعرات کو سماعت کرے گا۔ سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیا۔ عدالت نے سیکرٹری خارجہ اور داخلہ کو بھی آئندہ سماعت پر طلب کرلیا۔

چیف جسٹس

مزید : کراچی صفحہ اول