گورنر ہاؤس سندھ میں این ایچ اے کے منصوبوں کا جائزہ اجلاس

گورنر ہاؤس سندھ میں این ایچ اے کے منصوبوں کا جائزہ اجلاس

کراچی ( اسٹاف رپورٹر)گورنر سندھ عمران اسماعیل کو صوبہ میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے زیرِ انتظام چلنے والے ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں گورنر ہاؤس میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیر مملکت برائے مواصلات مراد سعید ،وفاقی سیکریٹری برائے مواصلات شعیب احمد صدیقی، کمشنر کراچی صالح احمد فاروقی، پرنسپل سیکریٹری گورنر سندھ خاقان مرتضیٰ، چیئر مین این ایچ اے جواد رفیق ملک ، آ ئی جی موٹر ویز اے ڈی خواجہ کے علاوہ دیگر متعلقہ افسران بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ گورنر سندھ نے کہا کہ صوبہ میں مواصلات کے منصوبوں کی جلد از جلد تکمیل سے عوام کو بہتر سفری سہولیات کی فراہمی میں مدد ملے گی۔ گورنر سندھ نے اتھارٹی کے حکام کو لیاری ایکسپریس وے پر ھیوی ٹریفک چلانے کے امکانات کا جائزہ لے کر رپورٹ دینے کی ہدایت کی تاکہ ٹرکوں اور ٹرالروں کو لیاری ایکسپریس وے کے ذریعہ موٹروے ایم نائن تک پہنچایا جاسکے اور شہر سے ھیوی ٹریفک کے دباؤ کا خاتمہ کیا جاسکے۔ انہوں نے این ایچ اے حکام کو ملیر ایکسپریس وے اور مہران ایکسپریس وے کے منصوبوں کے بارے میں بھی تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تاکہ ان منصوبوں پر بھی جلد از جلد کام کا آغاز کیا جاسکے۔ گورنرسندھ نے کہا کہ موجودہ حکومت عوام کی عملی خدمت پر یقین رکھتی ہے یہی وجہ ہے کہ تمام وفاقی وزراء اپنے محکموں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات کررہے ہیں۔ گورنر سندھ نے این ایچ اے کی جانب سے سکھر ملتان موٹروے کے منصوبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعہ سندھ اور پنجاب کے درمیان رابطہ کو مزید موثر بنایا جاسکے گا۔ انہوں نے انڈس ہائی وے پر کام کی رفتار کو مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔ وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا کہ وزارت مواصلات کو التوا میں پڑے ہوئے ترقیاتی منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کرنے کی واضح ہدایت دے دی گئی ہیں جبکہ نئے منصوبوں کی معیاری اور بروقت تکمیل کے لئے بھی احکامات دئیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مواصلات انتہائی اہم شعبہ ہے کیونکہ اس کے ذریعہ صوبوں کے درمیان رابطہ کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ عوام کو بہترین سفری سہولیات کی فراہمی بھی یقینی بنائی جاسکتی ہے۔ اس موقع پر گورنرسندھ کو بتایا گیا کہ سکھر ملتان موٹر وے کا 75 فی صد کام مکمل کرلیا گیا ہے اس کا 126 کلو میٹر حصہ سندھ جبکہ 266 کلومیٹر پنجاب میں واقع ہے اس کی تکمیل کی تاریخ اگست 2019 ہے جبکہ اس پر لاگت کا تخمینہ 294.53 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ گورنر سندھ کو مزید بتایا گیا کہ سکھر۔ حیدرآباد موٹروے پر اخراجات کا تخمینہ 238 ارب روپے لگایا گیا ہے جبکہ اس کی لمبائی 299 کلومیٹر ہوگی۔ گورنر سندھ کو بتایا گیا کہ این ایچ اے صو بہ میں 450 کلومیٹر طویل موٹر ویز اور ہائی ویز تعمیر کررہی ہے۔ گورنر سندھ کو مزید بتایا گیا کہ مانجھند سے سیہون انڈس ہائی وے پر کام جاری ہے جبکہ جلد رتوڈیرو سے شکار پور والے حصہ پر بھی کام کا آغاز کردیا جائے گا۔ گورنر سندھ کو بتایا کہ وزیر اعظم پاکستان کے وژن کے تحت سڑکوں ، شاہراہوں اور موٹرویز کے اطراف میں شجرکاری بھی کی جارہی ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر