کچی آبادیوں کو ریگولرائز کرنا ہمارا فرض ہے ،سعید غنی

کچی آبادیوں کو ریگولرائز کرنا ہمارا فرض ہے ،سعید غنی

کراچی(اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات و کچی آبادی سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ صوبے بھر میں کچی آبادیوں کو ریگولرائز کرنے اور ان آبادیوں میں رہنے والوں کو تمام بنیادی سہولیات کی فراہمی ہمارا فرض ہے اور اس سلسلے میں سندھ حکومت مکمل تعاون کرے گی۔ صوبے بھر میں 1997 سے قبل کی تمام کچی آبادیوں کو ریگولرائز کرنے کے لئے تمام ضروری اقدامات کو جلد سے جلد مکمل کیا جائے۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت صوبے بھر میں جاری منصوبوں اور مزید نئے منصوبوں کے حوالے سے پیش رفت کو تیز کیا جائے۔ ہماری اولین ترجیع ہے کہ عوام کو تمام سہولیات کی فراہمی اور انہیں صاف، ستھری اور صحتمندانہ تفریحی سہولیات زیادہ سے زیادہ فراہم کی جائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز سندھ کچی آبادی اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ محکموں کے دو علیحدہ علیحدہ اجلاسوں کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر نے جمعہ کی صبح 9.00 بجے سیکرٹری آفس میں سندھ کچی آبادی کے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں کچی آبادی کے ڈی جی ڈاکٹر اقبال سعید خان نے صوبائی وزیر کو محکمے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اور بتایا کہ صوبے بھر میں 26 ہزار 458 ایکڑ پر 1414 کچی آبادیاں 1997 تک کی سروے تک موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سب سے زیادہ کچی آبادیاں کراچی میں ہیں جن کی تعداد 575 ہے جبکہ حیدرآباد میں 408، میر پورخاص میں84، سکھر میں 91، لاڑکانہ میں 112 اور شہید بینظیر آباد میں ان کی تعداد 144 ہے۔ ان میں سے 1004 نوٹیفائیڈ جبکہ 410 غیر نوٹائیفائیڈ ہیں۔ صوبائی وزیر کو بتایا گیا کہ اسمبلی سے منظوری کے بعد 1997 تک کی کچی آبادیوں کو ریگولائیز کرنے کے لئے سروے کا کام مکمل کرلیا گیا ہے اور کئی کچی آبادیوں کو ریگولائیز بھی کردیا گیا ہے۔ جبکہ دیگر پر کام جاری ہے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر سعید غنی نے ہدایات دی کہ صوبے بھر کی تمام کچی آبادیوں کا مکمل کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا جلد سے جلد مکمل کیا جائے

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر