’’جو مجھ پر قہقہے لگاتے ہیں‘‘

’’جو مجھ پر قہقہے لگاتے ہیں‘‘
’’جو مجھ پر قہقہے لگاتے ہیں‘‘

  

نہ جانے کیا ہے ؟ احساس ،سچائی یا کہ سایہ جو مجھ سے ہمکلام ہوا چاہتا ہے ’’یہ شاید مجھے نہیں جانتے۔میرے بارے میں طرح طرح کی باتیں پھیلائی جارہی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ میں بول نہیں سکتا،میڈیا کا سامنا کرنے سے ڈرتا ہوں۔ہر گزرتے دن کے ساتھ کہا جارہا ہے کہ میں اپنے عظیم قائد کی توقعات پر پورا نہیں اتر پاؤں گا۔ میرے ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے مجھے مینجمنٹ کا بالکل کوئی تجربہ نہیں وہ یہ بات کرتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ میں پانچ سال تحصیل ناظم بھی رہ چکا ہوں۔مشکل حالات سے لڑنا مجھے اچھی طرح آتا ہے۔ جو لوگ مجھ پر بھونڈے الزامات لگاتے ہیں کہ ’’یہ انگریزی نہیں بول سکتا،اس سے بات نہیں ہوتی‘‘ ان کی اطلاع کے لیے عرض ہے وہ پچھلے دنوں کی سرکاری میٹنگز کے منٹس نکال کر دیکھیں انہیں پتا چلا کہ ورلڈ بینک کے وفد سے میں نے کس زبان میں بات کی تھی۔ میں عام طور پر اپنی زبان میں بات کرنے کو ترجیح دیتا ہوں پھر بھی بتائے دیتا ہوں سرائیکی،بلوچی ،اردو ،پنجابی ،انگریزی یہ ساری زبانیں بول سکتا ہوں۔میرے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں،ایک گستاخ صحافی نے ’’فائلیں نہیں پڑھ سکتے والا سوال بھی اٹھایا ہے‘‘ میں اسے بھی بتانا چاہتا ہوں کہ میں سیاسیات میں ماسٹرز اور لاء گریجویٹ ہوں اس کے ساتھ میں بار کا ممبر بھی ہوں۔ الزام لگایا جاتا ہے کہ مجھے حکمرانی کے آداب نہیں آتے ،غلط بالکل غلط جو یہ باتیں کرتے ہیں وہ سراسر لاعلم ہیں۔ انہیں پتا ہونا چاہیے کہ میں بڑے بڑے ملکوں کے سفیروں سے کیسے ملتا ہوں۔ مجھے کسی قسم کا کوئی احساس کمتری نہیں ہے میں چاہے آنے والی سپر پاور چین کے سفیر سے ملوں یا برطانوی وزیر داخلہ سے ملاقات کروں میری باڈی لینگوئج بالکل ایک باختیار حکمران کی سی ہے۔

ہاں! البتہ میرا جس علاقے سے تعلق ہے وہاں گھر آئے مہمانوں کو تعظیم سے ملا جاتا ہے میں یہ روایت برقرار رکھے ہوئے ہوں۔ میں یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ اتنے بڑے منصب پہ بیٹھنے کے بعد بھی میں نے اپنے علاقے کو فراموش نہیں کیا،میں ہائی لیول کے آفیشلز کو اپنے علاقے کی روایتی چھڑی بھی تحفے کے طور پر دینا نہیں بھولتا،میں نے مزید چھڑیاں منگوانے کا آرڈر بھی دے دیا ہے۔ایک بات اور بتانا چاہتا ہوںآج بھی کسی کی رسائی میرے تک سب سے آسانہے تو وہ میرے علاقے کے لوگوں کی ہے۔ اپنے آبائی علاقے سے محبت کسی نہیں ہوتی سو مجھے بھی ہے۔ یہ بات میرے علم میں ہے کہ میرا سٹاف اس بات سے’’ کمفرٹیبل‘‘ نہیں کہ آئے روز میرے ضلع کے لوگ ملنے آجاتے ہیں ،یہ بے چارے مجھے اس کرسی پر دیکھ کر بہت خوش ہیں۔ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ان جیسا کوئی اس منصب پہ فائز ہوا ہے۔ یہ بڑ ی امیدیں لگا کر میرے پاس آتے ہیں اس دن داؤد کا بیٹا بھی آیا ہوا تھا وہ ایم بی اے کلئیر نہیں کرسکا لیکن نوکری اچھی چاہتا ہے،میں داؤد کو کیسے بھول سکتا یہ دن رات میرے کمپین کرتا رہا ہے۔اسی طرح کتنے ہی لوگ ہیں۔ان لوگوں نے مجھے دس ہزار کی لیڈ دے کر کامیاب کروایا ہے میں ان کا یہ احسان ساری زندگی نہیں بھولوں گا۔ میں ان سے محبت کرتا ہوں یہ مجھ سے محبت کرتے ہیں یہ آتے ہیں اور میرے ساتھ سیلفیاں بنوا کر خوش ہوجاتے ہیں اس سے میرا کیا جاتا ہے۔مجھے سب یاد ہے ،مجھے وہ لمحہ نہیں بھولتا جب عظیم قائد کے گھر کے باہر مجھے روک لیا گیا تو میرے’’محسن‘‘ نے کہلوا کر مجھے اندر بھجوایا آج اسی اینٹری کی مرہون منت میں یہاں تخت پر بیٹھا ہوں۔

مجھے ایوان میں وہ تقریر نہیں بھولتی جب معاویہ اعظم نے کہا اگر پسماندہ علاقے سے تعلق کی بناء پر تاج پہنانا ہی تھا تو اس تاج کا سب سے بڑا حقدار وہ ہے،مجھے اس وقت اس کی یہ بات بالکل اچھی نہیں لگی شاید وہ نہیں جانتا کہ ابھی تک میرے گھر میں بجلی نہیں ہے،ہم سولر سسٹم لگا کر گزارہ کر رہے ہیں،بعض اوقات پانی بھی نہیں آتا،سردیوں میں گیس کے بہت زیادہ مسائل ہیں۔معاویہ نے دوران تقریر میرے نام کی بھی تعریف کی،خدا کا شکر ہے وہ اس معاملے کی زیادہ تفصیل نہیں جانتا ورنہ شاید یہ بھی سارے ایوان کو بتا دیتا۔کبھی کبھار آپ کا نام بھی آپ کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میں خدانخواستہ مرشد کو بھول گیا جن کے بغیریہاں تک کا سفر آسان نہ تھا۔ عظیم قائد کے ویژ ن کے مطابق میں خوشحالی کا دور واپس لاؤں گا،مجھے عظیم قائد نے بھرپور سپورٹ کا یقین دلایا ہے۔وہ میرے ساتھ اتنا تعاون کرتے ہیں کہ میرے سب کام وہ خود کرنا چاہتے ہیں۔میرے قائد نے میڈیا کو بھی بتا دیا ہے کہ انھیں صرف مجھ پہ اعتماد ہے۔

ہاں میں کم گو ہوں یہ میرے بچپن سے عادت ہے۔لیکن میں ان سب کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں جو چہ میگویاں کر رہے ہیں کہ میں ان کو آنے والے دنوں میں’’سرپرائز‘‘ دوں گا۔ میں بات نہ کرنے والی پرسیپشن بھی توڑنے والا ہوں۔ جو سیکرٹری میرے علاوہ کسی اور طاقت ور کو رپورٹ کرتے ہیں ،جو وزرا میری قابلیت پرقہقے لگاتے ہیں میں سب کو جانتا ہوں۔مناسب وقت پر میں ان سب کو جواب دوں گا‘‘ روزانہ یونہی سیکرٹریٹ سے اسمبلی تک کی دوڑ میں اعضا مضمحل ہوجاتے ہیں تو سارے دن کا وہم وخیال مجھ پر حاوی ہوجاتا ہے ۔باتیں گڈ مڈ ہوجاتی ہیں،آج پھر یہی کیفیت ہے،کوئی مجھ کو سنا رہا ہے ،روز میں ایسی باتیں سنتا ہوں،کیا آپ کو بھی ایسا سنائی دیتا ہے۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ