حلقہ پی پی 201، کانٹے دار مقابلہ

حلقہ پی پی 201، کانٹے دار مقابلہ
حلقہ پی پی 201، کانٹے دار مقابلہ

  

ملک بھر میں 14اکتوبر2018 ء کو ہونے والے ضمنی الیکشن کی وجہ سے ایک بارپھر سیاسی درجہ حرارت تیز ہونے جارہاہے ۔قومی اسمبلی کی 11اورصوبائی اسمبلی کی 26نشستوں پرضمنی انتخابات ہوں گے۔الیکشن2018ء میں قومی اسمبلی کے 2 اور صوبائی اسمبلی کے 7حلقوں میں مختلف وجوہات کی بناء پر انتخابات ملتوی ہوگئے تھے جبکہ عام انتخابات میں ایک سے زائد نشستوں پر منتخب ہونے والے28امیدواروں نے نشستیں چھوڑ دی تھیں۔ان صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں ایک چیچہ وطنی کا حلقہ پی پی 201بھی ہے یہاں پر بھی ضمنی الیکشن ہورہا ہے۔

ہم ماضی میں ہونے والے ضمنی الیکشن پرایک نظرڈالتے ہیں تو تحصیل چیچہ وطنی میں یہ پانچواں ضمنی الیکشن ہے۔ سب سے پہلے 1988ء میں رائے علی نواز خاں کی ناگہانی موت کی وجہ سے خالی ہونے والی صوبائی اسمبلی کی نشست پرضمنی الیکشن ہوا جس میں اُن کے بھائی رائے حسن نواز خاں کامیاب ہوئے۔ دوسری بار 2002ء میں ہونے والے عام انتخابات میں ملت پارٹی کے صدراورسابق صدرپاکستان سردار فاروق احمد خان لغاری نے حلقہ 163کی سیٹ جیت کر چھوڑ دی تھی اوریوں علاقہ میں دوسری بارضمنی الیکشن کے نتیجہ میں چوہدری سعید احمد گجرقومی اسمبلی میں پہنچ گئے۔

2008ء کے عام انتخابات میں این اے 162سے کامیاب ہونے والے سابق ایم این اے چوہدری زاہد اقبال کی دوہری شہریت کی بناء پر خالی ہونے والی نشست پر ضمنی الیکشن عمل میں آیاجس میں وہ پارٹی بدل کرخود ہی اس نشست کوجیتنے میں کامیاب رہے۔ آگے چل کر 2013ء کے عام انتخابات میں این اے 162کی نشست پرکامیاب ہونے والے رائے حسن نواز خان اپنے اثاثے چھپانے کے جرم میں نا اہل ہوگئے تھے۔ اس بار ضمنی الیکشن میں کامیابی کا سہرا چوہدری محمدطفیل کے سر سجا ،اب 2018ء کے عام انتخابات میں حلقہ این اے 149اورپی پی 201سے کامیاب ہونے والے رائے مرتضیٰ اقبال خاں کی جانب سے چھوڑی جانے والی صوبائی اسمبلی کی نشست پر پانچویں بارضمنی الیکشن آج منعقد ہونے جارہاہے۔

تحصیل چیچہ وطنی کے اِ س پانچویں ضمنی الیکشن میں اپنے اپنے حلقہ سے انتخاب میں شکست سے دو چارہونے والے سابق ممبران قومی اسمبلی پیرسید صمصام بخاری اورچوہدری محمدطفیل جٹ آمنے سامنے ہیں اور اپنے مدمقابل پرہرقسم کے سیاسی حربے آزماکرایک دوسرے پربرتری حاصل کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔آج حلقہ پی پی 201میں 2لاکھ 30ہزار 951ووٹرزاپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے جن میں سے 1لاکھ 28ہزار934مردووٹرزجبکہ1لاکھ2ہزار17خواتین ووٹرزہیں۔

عام انتخابات2018ء میں ووٹ کاسٹ ہونے کی شرح 56.17رہی اور پی ٹی آئی کے رائے مرتضیٰ اقبال خاں کو (ن)لیگ کے چوہدری محمدحنیف جٹ پر48766کے مقابلہ میں 66083ووٹ لے کر17297کی برتری حاصل رہی۔

اگرحلقہ کی تازہ ترین صورت حال کاجائزہ لیاجائے تو حلقہ میں سیاسی اکھاڑ،پچھاڑ،انتخابی گہماگہمی،جوڑتوڑاورسرگرمیاں ا ختتام پذیر ہوچکی ہیں چونکہ چیچہ وطنی کی سیاست بھی پنجاب کی روائتی سیاست کی طرح دھڑے بندیوں اوربرادری اِزم اورروحانی گدی نشینوں کے گرد گھومتی ہے مگراب ایک بڑاطبقہ بیداری کی لپیٹ میں آچکاہے جوملکی حالات پرنظرجمائے ہوئے ہے۔پی ٹی آئی کے سیدصمصام بخاری کو پی ٹی آئی کے مقامی سینئر رہنما میجر(ر) غلام سرور،ایم این اے رائے مرتضیٰ اقبال خاں،صوبائی وزیرزراعت ایم پی اے ملک محمدنعمان لنگڑیال کی مکمل حمایت حاصل ہے جبکہ پیپلزپارٹی کے سابق ایم پی اے چوہدری شہزاد سعید چیمہ، معروف روحانی سلسلہ کے پیشوا پیرمنورحسین جماعتی،پیرقادربخش کے گدی نشین اوران کے مریدین کی مضبوط سپورٹ میسر ہے اور اِس کے علاوہ پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان کاتعاون بھی شامل حال ہے جبکہ پیرسید صمصام بخاری کے مریدین اورپی ٹی آئی کے کارکن اور ووٹرز بھی جیت کیلئے سرگرم عمل ہیں۔

دوسری جانب (ن)لیگ کے امیدوار سابق ایم این اے چوہدری محمدطفیل جٹ جو کہ دوبارتحصیل ناظم بھی رہ چکے ہیں انہیں لیگی ایم پی اے رانا ریاض احمد خاں، سابق ایم پی ایز چوہدری محمد حنیف جٹ اورچوہدری محمدارشدجٹ کے علاوہ سابق امیدوار برائے ایم پی اے چوہدری شاہد منیر جٹ اور سابق ممبر قومی اسمبلی چوہدری منیر ازہر سمیت تحصیل بھر کے لیگی دھڑوں کی حمایت کے علاوہ اپنے سابقہ ادوارمیں کروائے گئے ریکارڈ ترقیاتی کاموں کا بھی خاطر خواہ فائدہ حاصل ہوگاہے۔جبکہ انہیں معروف روحانی گدی نشین پیرقطب علی شاہ المعروف علی بابا کی حمایت بھی حاصل ہے اورلیگی امیدوار اپنے فیملی گروپ اور مختلف سیاسی ،سماجی ،تاجر برادری کے دھڑوں کے ساتھ سخت محنت کرتے رہے ہیں ۔

بادی النظرمیں پی ٹی آئی کے مضبوط سیاسی دھڑے اورمرکزوپنجاب میں حکومتوں کی وجہ سے عوام کا جھکاؤ حکومتی امیدوارکی طرف ہوسکتاہے اگرماضی کی روایات کوسامنے رکھا جائے تو پی ٹی آئی کا پلڑہ بھاری نظرآتاہے کیونکہ ضمنی الیکشن میں اکثر حکومتی امیدوار ہی کامیاب ہوتے رہے ہیں۔

پی پی 201کے ضمنی الیکشن کانتیجہ عام انتخابات کے نتیجہ سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہوگااگرفرق ہوگا توٹرن آؤٹ 50فیصد سے کم ہوسکتاہے جس کی بناء پر شرح تناسب میں بھی اسی حساب سے فرق پڑیگا الیکشن لڑنے کی مہارت میں (ن)لیگ کو پی ٹی آئی پرقدرے برتری حاصل ہے اسی طرح آج جو پارٹی ووٹرزکوزیادہ سے زیادہ پولنگ اسٹیشن تک لانے میں کامیاب ہوگی۔10سے 15ہزارووٹ پراثر انداز ہوسکتی ہے خاص طور پر حکومتی پارٹی جیت کے زعم مبتلا ہونے کی وجہ سے تساہل کا شکارہوسکتی ہے لیکن سیاسی جماعتوں کے اعدادوشمار کے حقائق اپنی جگہ ہوتے ہیں مگرسیاست میں کوئی بات بھی حرف آخر نہیں ہوتی۔آج دیکھتے ہیں کہ سیاست اورووٹرزکیارنگ دکھاتے ہیں اہل علاقہ کس کے سرپرفتح کاتاج سجاتے ہیں۔

اس بار کی خوش آئند بات یہ تھی کہ سرکاری مشینری اور دیگر حکومتی وسائل ضمنی الیکشن میں نظر نہیں آئے، جس کی وجہ سے دونوں امیدواروں کویکساں مواقع حاصل رہے ہیں۔ کل دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کا پتہ چل جائے گاکہ ڈالر کی روپے پر برتری ،قرض لینے کی بازگشت، قیمتیں بڑھنے کی نوید،لیگی قیادت کی کرپشن پرگرفتاریاں،معاشی بحران پرتنقیدی طوفان،نئے بلدیاتی انتخابات کی آمد کا مژدہ کس طرح ضمنی الیکشن پر اثر انداز ہوگایا ووٹرز سابقہ حکومتوں کی معاشی بد انتظامی کومدنظررکھتے ہوئے فیصلہ کریں گے۔ضمنی الیکشن201میں مقابلہ کانٹے دار ہوگا،دیکھتے ہیں کہ عوام کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے مقامی امیدوار کو ترجیح دے کر یا پھر باہر سے آنے والے امیدوار کو ووٹ دے کر ،ہار جیت کا فیصلہ آج ہوجائے گا ۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ