”اب آپ کسی کو بھی گالیاں دے سکتے ہیں کیونکہ ۔۔۔ “ یو اے ای نے ایسا قانون متعارف کرادیا کہ غیر ملکیوں کی خوشی کی انتہا نہ رہی

”اب آپ کسی کو بھی گالیاں دے سکتے ہیں کیونکہ ۔۔۔ “ یو اے ای نے ایسا قانون ...
”اب آپ کسی کو بھی گالیاں دے سکتے ہیں کیونکہ ۔۔۔ “ یو اے ای نے ایسا قانون متعارف کرادیا کہ غیر ملکیوں کی خوشی کی انتہا نہ رہی

  

دبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن)متحدہ عرب امارات نے سائبر کرائم کے قوانین میں ترمیم کردی ہے ، نئے قانون کے تحت اب کوئی بھی شخص جو کسی کو آن لائن دھمکی دے گا یا کوئی نان کریمنل سائبر جرم کرے گا اسے ملک بدر نہیں کیا جائے گا ۔

قانون میں ترمیم کا اطلاق ایک کینیڈین شہری کے مقدمے میںدیکھنے میں آیا ہے، شہری پر الزام تھا کہ اس نے اپنے سابق باس کو ای میل پر گالیاں دی ہیں۔ عدالت کی جانب سے 2012 کے قانون کے تحت نہ صرف کینیڈین شہری کو 10 ہزار درہم جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی بلکہ اسے ملک بدر کرنے کا بھی حکم دیا گیا تھا ۔ کینیڈین شہری نے اپنی سزا کے خلاف کورٹ آف اپیل میں درخواست دائر کی تھی جس نے ذیلی عدالت کا فیصلہ معطل کردیا۔

متحدہ عرب امارات میں منظور کیے گئے نئے سائبر قوانین کے تحت کسی کو آن لائن دھمکی یا گالیاں دینے والے شخص کو ملک بدر نہیں کیا جائے گا بلکہ اس پر ایک مخصوص مدت تک کیلئے الیکٹرانک آلات استعمال کرنے پر پابندی لگادی جائے گی ۔ اس سے قبل کسی کو آن لائن دھمکی یا گالی دینے والے شخص کی کم از کم سزا ملک بدری تھی ۔

نئے قانون کے باعث بہت سے غیر ملکی کارکنوں کو ریلیف ملے گا تاہم آن لائن فحاشی پھیلانا، نفرت انگیز بیانات ، جنسی ہراسانی کی دھمکی ، جسم فروشی کی دعوت اور انسانی سمگلنگ کی ویب سائٹس چلانا یہ وہ جرائم ہیں جو کریمنل لا کے زمرے میں آتے ہیں اور ان جرائم میں نہ صرف مجرم کو ملک بدری کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ جیل کی ہوا کھانے کے ساتھ بھاری جرمانہ بھی ادا کرنا پڑے گا۔

مزید : عرب دنیا