’’آئی ایم ایف کے قرضے کی منظوری سے پہلے ہم یہ دیکھیں گے کہ کیا پاکستان۔۔۔‘‘ امریکہ نے عمران خان کی حکومت کو نئی مشکل میں ڈال دیا، ایک اور شرط لگا دی

’’آئی ایم ایف کے قرضے کی منظوری سے پہلے ہم یہ دیکھیں گے کہ کیا پاکستان۔۔۔‘‘ ...
’’آئی ایم ایف کے قرضے کی منظوری سے پہلے ہم یہ دیکھیں گے کہ کیا پاکستان۔۔۔‘‘ امریکہ نے عمران خان کی حکومت کو نئی مشکل میں ڈال دیا، ایک اور شرط لگا دی

  

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ کو جب یقین ہو چکا ہے کہ پاکستان اپنے سعودی عرب جیسے دوستوں کو ٹٹول چکا اور اب اس کے پاس مالی مشکلات پر قابو پانے کے لیے آئی ایم ایف کے سوا کوئی آپشن نہیں بچا تواس نے بھی آئی ایم ایف کے قرض پر شرائط عائدکرکے پاکستانی حکومت کی مشکلات میں اضافہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ڈیلی ڈان کے مطابق امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کی آئی ایم ایف سے قرض کی درخواست کاتمام پہلوؤں سے بغور جائزہ لے رہے ہیں اور پاکستان کے موجودہ قرضوں کی صورتحال بھی ہمارے پیش نظر ہے۔ ان تمام عوامل کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان کے لیے کسی بھی قسم کے ’لون پروگرام‘ کی قدرپیمائی کی جائے گی۔

ہفتہ وارمیڈیا بریفنگ میں امریکی دفترخارجہ کی ترجمان ہیدر ناؤرٹ کا کہنا تھا کہ ’’پاکستان جس مالی مشکل سے دوچار ہے اس کا سبب چینی قرضے ہیں۔ چین سے یہ قرض لیتے ہوئے شاید پاکستان نے سوچا ہو گا کہ انہیں اتارنا مشکل نہیں ہو گا لیکن اب یہ اس کے لیے مشکل ہو چکا ہے۔‘‘ واضح رہے کہ امریکی وزیرخارجہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ پاکستان چینی قرضے اتارنے کے لیے آئی ایم ایف سے قرض لینا چاہتا ہے، جس کی امریکہ اجازت نہیں دے گا۔ دوسری طرف آئی ایم ایف کے چیف اکانومسٹ موریس اوبسٹ فیلڈ بھی گزشتہ دنوں پاکستان کو تلقین کر چکے ہیں کہ وہ چین کی طرف سے لیے جانے والے قرضوں پر نظرثانی کرے اور حد سے زیادہ قرض لینے سے گریز کرے، جن کی واپس ادائیگی اس کے لیے مشکل ہو۔‘‘

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ امریکہ آئی ایم ایف میں سب سے بڑا شراکت دار ہے اور عالمی مالیاتی ادارے کے تمام بڑے فیصلوں میں 16.52فیصد ووٹنگ رائٹس اس کے پاس ہیں۔ جاپان 6.15فیصد ووٹنگ رائٹس کے ساتھ دوسرا اور چین 6.09فیصد ووٹنگ رائٹس کے ساتھ تیسرا بڑا شراکت دار ہے۔ آئی ایم میں بھارت کے پاس 2.64فیصد اور پاکستان کے پاس صرف 0.43فیصد ووٹنگ رائٹس ہیں۔

مزید : بین الاقوامی