’اس نے مجھے زبردستی شراب پلائی، سو کر اٹھی تو میرے پورے جسم پر نشانات تھے اور۔۔۔‘‘ شاہ رخ خان کے انتہائی قریبی ساتھی پر بھی معروف اداکارہ نے جنسی زیادتی کا الزام لگا دیا

’اس نے مجھے زبردستی شراب پلائی، سو کر اٹھی تو میرے پورے جسم پر نشانات تھے ...
’اس نے مجھے زبردستی شراب پلائی، سو کر اٹھی تو میرے پورے جسم پر نشانات تھے اور۔۔۔‘‘ شاہ رخ خان کے انتہائی قریبی ساتھی پر بھی معروف اداکارہ نے جنسی زیادتی کا الزام لگا دیا

  

ممبئی(مانیٹرنگ ڈیسک) ’می ٹو‘ مہم ہالی ووڈ سے نکل کر بالی ووڈ میں داخل ہو چکی ہے اور آئے روز نئی اداکارہ اپنے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کی وارداتوں کے ساتھ منظرعام پر آ گئی ہے۔ ناناپاٹیکر، الوک ناتھ اور ساجد خان کے بعد اب شاہ رخ خان کے قریبی ساتھی اور ان کی چنئی ایکسپریس اور دل والے سمیت کئی فلموں کے شریک پروڈیوسر کریم مورانی بھی نشانے پر آ گئے ہیں جن پر نئی دہلی سے تعلق رکھنے والی معروف اداکارہ نے جنسی زیادتی کا الزام عائد کر دیا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق اداکارہ نے ٹی وی چینل ’ری پبلک ورلڈ‘ سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ’’میں مورانی فیملی کو جانتی تھی اور 2014ء میں اداکارہ بننے کے لیے نئی دہلی سے ممبئی منتقل ہوئی تھی۔جولائی 2015ء میں کریم مورانی میرے فلیٹ پر آئے۔ ان کے پاس شراب کی ایک بوتل بھی تھی۔ انہوں نے اپنے ساتھ مجھے بھی زبردستی شراب پلائی، جس کے بعد مجھے کوئی ہوش نہ رہا۔ اگلی صبح 4بجے کے قریب میری آنکھ کھلی تو میرا پورا جسم سُن تھا اور میں ذہنی و جسمانی طور پر شدید صدمے کی حالت میں تھی۔ کریم وہاں موجود نہیں تھا۔ میں نے دیکھا کہ میرے پورے جسم پر نشانات پڑے ہوئے تھے۔‘‘

اداکارہ نے مزید بتایا کہ ’’اگلے دن میں نے ہمت کرکے مورانی کو فون کیا اور پوچھا کہ اس نے رات کو میرے ساتھ کیا کیا؟ میں نے اسے کہا کہ میں تمہاری بیوی اور بھائی کو کال کرکے سب کچھ بتا دوں گی۔ میری اس دھمکی پر وہ قہقہے لگا کر ہنسنے لگا۔ مجھے آج تک اس کا وہ قہقہہ نہیں بھولا۔ میری عمر اس وقت 21سال تھی اور میں خود کو بہت بے بس پا رہی تھی۔ اس نے اس رات میری برہنہ تصاویر بھی بنا لی تھیں، جن کی وجہ سے وہ مجھے بعد میں بھی بلیک میل کرتا رہا اور جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا رہا۔ وہ انڈرورلڈ کے لوگوں کے نام لے کر مجھے دھمکیاں دیتا تھا کہ ان کے ذریعے مجھے قتل کرا دے گا۔ بلیک میلنگ کے ذریعے وہ 15ماہ تک مجھے ممبئی اور حیدرآباد میں جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا رہا۔ ایک بار 12ستمبر 2015ء کو اس نے مجھے اپنے گھر بلالیا اور گھروالوں سے چوری مجھے اپنے کمرے میں لے گیا۔ میں اس خوف سے بار بار اس کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا نشانہ بن رہی تھی کہ کہیں وہ میری برہنہ تصاویر وائرل نہ کر دے اور وہ میری فیملی تک نہ پہنچ جائیں۔ اس کی پے درپے جنسی زیادتی کے باعث میں نے کام سے کنارہ کش ہو گئی اور لوگوں سے بات کرنا تک چھوڑ دیا۔ ان مشکل کے دنوں میں کسی نے میری حمایت نہیں کی۔ میرے لیے یہ بات بھی کسی صدمے سے کم نہیں کہ شاہ رخ خان جیسا اداکارہ اب تک ایسے شخص کے ساتھ کام کر رہا ہے جس پر 2جی فراڈ اور جنسی ہراسگی میں ملوث رہ چکا ہے۔‘‘واضح رہے کہ انٹرویو میں اداکارہ نے اپنی شناخت ظاہر نہیں کی۔

مزید : بین الاقوامی /تفریح