’جو خاتون ساڑھے 4 کلو سے زائد وزن کے بچے کو جنم دے، اس کے کینسر کی اس قسم کا شکار ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے‘

’جو خاتون ساڑھے 4 کلو سے زائد وزن کے بچے کو جنم دے، اس کے کینسر کی اس قسم کا ...
’جو خاتون ساڑھے 4 کلو سے زائد وزن کے بچے کو جنم دے، اس کے کینسر کی اس قسم کا شکار ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے‘

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک)جو خواتین ساڑھے 4کلوگرام سے زائد وزن کے بچے کو جنم دیتی ہیں ان کے متعلق سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں ایک خوفناک انکشاف کیا ہے کہ ایسی خواتین کے چھاتی کے کینسر میں مبتلا ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ میل آن لائن کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایسی خواتین کو چھاتی کا کینسر لاحق ہونے کا خطرہ 50فیصد زیادہ ہوتا ہے جو ساڑھے چار کلوگرام سے زائد وزن کے بچے کو جنم دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ جن خواتین کے ہاں قبل از وقت بچے کی پیدائش ہوتی ہے ان کے بھی اس مہلک مرض میں مبتلا ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس تحقیق میں انسٹیٹیوٹ آف کینسر ریسرچ کے سائنسدانوں نے 16سے 102سال کی عمر کی 83ہزار خواتین کے ڈیٹا کا تجزیہ کرکے نتائج مرتب کیے۔ نتائج میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 9سالوں میں 1767خواتین چھاتی کے کینسر میں مبتلا ہوئیں۔ ان میں اکثر خواتین ایسی تھیں جن کے ہاں ساڑھے 4کلوگرام سے زائد وزن کے بچے پیدا ہوئے تھے۔ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ انتھونی سیورڈلو کا کہنا تھا کہ ”اگرچہ اس تحقیق میں زیادہ وزن کے بچے اور چھاتی کے کینسر کے درمیان تعلق کا تعین نہیں ہو سکا تاہم اتنا ہم جانتے ہیں کہ خواتین کا جنسی ہارمون اویسٹروجن چھاتی کے کینسر پر اثرانداز ہوتا ہے اور جن خواتین کے ہاں زیادہ وزن کے بچے پیدا ہوں ان میں دوران حمل اس ہارمون کی مقدارباقی خواتین کی نسبت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ممکنہ طور پر یہی سبب ان میں چھاتی کے کینسر کے امکانات کو بڑھاتا ہے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس