امریکا میکسیکو سرحد پر ہزاروں خاندان الگ ہوئے: ایمنسٹی انٹرنیشنل

امریکا میکسیکو سرحد پر ہزاروں خاندان الگ ہوئے: ایمنسٹی انٹرنیشنل
امریکا میکسیکو سرحد پر ہزاروں خاندان الگ ہوئے: ایمنسٹی انٹرنیشنل

  

نیویارک(این این آئی)ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہاہے کہ امریکی حکومت نے میکسیکو کی سرحد پر تارکین وطن کے خلاف سخت پالیسی کے نتیجے میں گزشتہ4 ماہ کے عرصے میں 6 ہزار سے زائد تارک وطن افراد ان کے خاندانوں سے علیحدہ کیے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق انسانی حقوق کی سرگرم تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے امریکی پناہ گزینوں کی پالیسی کے حوالے سے ایک رپورٹ میں بتایا کہ امریکا اور میکسیکو کی سرحدوں پر پناہ گزینوں کو غیر قانونی طریقے سے روکا جا رہا ہے، انہیں غیر اعلانیہ مدت تک زیر حراست رکھا جا رہا ہے اور انہیں طبی سہولیات بھی فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔ایمنسٹی کے مطابق امریکی حکومت کی سخت پالیسی کی وجہ سے ملک میں داخل ہونے والے ہزاروں غیر قانونی تارکین وطن خاندانوں کو علیحدہ کر دیا گیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا پناہ گزین مخالف پالیسی پر عمل درآمد کرنا امریکی آئین اور بین الااقوامی قوانین کی واضح خلاف ورزی ہے۔امریکا میں تعینات ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ڈائریکٹر اریکا گوئیرا روزاس نے امریکی کانگریس اور ملکی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے میکسیکو کی سرحد پر پناہ کے متلاشی افراد کے خلاف گھناؤنی کارروائیوں کی غیر جانبدار تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔

روزاس کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ ایک منصوبے کے تحت میکسیکو کی سرحد پر غیر قانونی تارکین وطن کو سزائیں دینے کے لیے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کر رہی ہے۔مستقبل میں ایسی کارروائیوں کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ غیر جانبدار تفتیش کے ذریعے حکومت کو جواب دہ ٹھرایا جائے۔ ڈائریکٹر ایمنسٹی انٹرنیشنل امریکا نے مزید کہا کہ سن 2017 سے 2018 کے دوران تقریبا 8 ہزار خاندانوں کے ارکان ایک دوسرے سے الگ کر دیے گئے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی