خواتین کو کس طرح متاثر کرسکتے ہیں؟ دنیا بھر کے مردوں کو یہ سکھانے والے شخص کے ساتھ خود کیا ہوگیا؟ جان کر یقین نہ آئے

خواتین کو کس طرح متاثر کرسکتے ہیں؟ دنیا بھر کے مردوں کو یہ سکھانے والے شخص کے ...
خواتین کو کس طرح متاثر کرسکتے ہیں؟ دنیا بھر کے مردوں کو یہ سکھانے والے شخص کے ساتھ خود کیا ہوگیا؟ جان کر یقین نہ آئے

  

لاس اینجلس(نیوز ڈیسک) امریکی مصنف نیل سٹراس خود کو خواتین کی نفسیات کا چیمپئین سمجھتے ہیں۔ صرف وہی نہیں بلکہ ایک دنیا اُن کے بارے میں ایسا ہی سمجھتی ہے۔ وہ مشہور کتاب ” دی گیم: : پینیٹریٹنگ دی سکریٹ سوسائٹی آف پک اپ آرٹسٹس “ کے مصنف ہیں۔ اس کتاب کا موضوع ہی یہ ہے کہ خواتین کو کس طرح متاثر کیا جائے، اور یہ بھی کہ کامیاب ازدواجی زندگی کس طرح گزاری جائے۔ نیل کی یہ ساری دانائی اپنی جگہ مگر لگتا ہے کہ حقیقی زندگی کتابوں میں بیان کی گئی کہانیوں سے بہت مختلف چیز ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ساری دنیا کو مشورے دینے والے نیل اپنا گھر نہیں بچا پائے۔ بیوی کو ساتھ رکھنے کے لئے ایک عرصے سے جاری اُن کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں، اور دو روز قبل انہوں نے طلاق کے لئے لاس اینجلس کی عدالت میں درخواست دائر کر دی ہے۔

نیل اور مشہور ماڈل انگریڈ ڈیلا او کی شادی 2013 میں ہوئی تھی۔ جب وہ آئے روز ٹی وی پروگراموں میں یہ مشورے دے رہے تھے کہ صنف مخالف کو کس طرح متاثر کیا جا سکتا ہے اور کیسے خواتین کو زندگی بھر اپنا گرویدہ رکھا جا سکتا ہے، تو اُسی دوران اپنی اہلیہ کے ساتھ ان کے تعلقات کشیدہ ہو رہے تھے۔ ان کے قریبی دوستوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنا گھر بچانے کے لئے بہت سنجیدہ تھے، اس کی بہت کوششیں بھی کیں لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ بالآخر وہ طلاق کی درخواست دائر کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

نیل کا کہنا ہے کہ 2013ءمیں جب انہوں نے انگریڈ سے شادی کی تو اس کا واحد مقصد عیش و عشرت کی رنگین زندگی چھوڑ کر ایک صاف ستھری شادی شدہ زندگی گزارنا تھا۔ اس شادی سے ان کے ہاں ایک بیٹے کی پیدائش بھی ہوئی جو تین سال کا ہو چکا ہے۔ ایک پرسکون ازدواجی زندگی کا اُن کا خواب پانچ سال میں کے عرصے میں پوری طرح ٹوٹ کر بکھر گیا ہے۔

واضح رہے کہ صنف مخالف کو متاثر کرنے سے متعلق مفید مشوروں پر مبنی نیل کی کتاب جب شائع ہوئی تو دو سال تک نیویارک ٹائمز بیسٹ سیلر کی فہرست میں شامل رہی اور VH1ٹی وی نے ان کی کتاب پر مبنی ”دی پک اپ آرٹسٹ کے“ نام سے ایک ٹی وی سیریز کا بھی آغاز کیا تھا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس