پنجاب اسمبلی کے اندر پنجابی بولنے پر سے پابندی ختم کی جائے: احمد رضا

پنجاب اسمبلی کے اندر پنجابی بولنے پر سے پابندی ختم کی جائے: احمد رضا
پنجاب اسمبلی کے اندر پنجابی بولنے پر سے پابندی ختم کی جائے: احمد رضا

  

لاہور (سٹاف رپورٹر) پنجابی پرچار اور دوسری پنجابی تنظیموں کی طرف سے پنجابی کو نصاب کاحصہ نہ بنانے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ لاہور پریس کلب کے سامنے کیا گیا۔

مظاہرے کا اہتمام پنجابی پرچار یوتھ ونگ کی طرف سے کیا گیا جس میں پنجابی پرچار، پاکستان پنجابی ادبی بورڈ، کھوج گڑھ، دل دریا پاکستان، سانجھا داہڑا قصور، پنجابی ادبی سنگت، ساڈا پنجاب، سانجھ، لوکائی، بھلیکھا اور دوسری پنجابی تنظیموں کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی اور کالجز کے طلبا و طالبات کی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پنجابی پرچار کے صدر احمد رضا نے مطالبہ کیا کہ پنجاب اسمبلی کے اندر پنجابی بولنے پر سے پابندی ختم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پنجاب کے اندر پہلی جماعت سے پنجابی کو لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جائے۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین صوبوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ صوبائی زبان کے فروغ کے لئے کام کریں۔ پاکستان کے اندر صرف پنجاب وہ واحد صوبہ ہے جہاں اس کی اپنی زبان نہیں پڑھائی جاتی۔ اب پنجاب سرکار کو اس کے پڑھائے جانے کے فوری طور پر اقدامات کرنے چاہئیں۔اس موقع پر پنجابی کے مشہور شاعر بابا نجمی نے کہا کہ پنجابی زبان کے اندر پنجاب کے صوفیوں کا امن پسند کلام پڑھا کر اس خطے کے لوگوں کو پرامن بنایا جائے ، مظاہرے کے بعد پریس کلب لاہور سے پنجاب اسمبلی تک ایک بڑی ریلی بھی نکالی گئی جس کے شرکاء نے پنجابی پڑھائے جانے کی اہمیت پر بینرز او رپلے کارڈزبھی اٹھا رکھے تھے۔ مظاہرین نے ایک ماہ کے اندر اندر قانون سازی کرنے پر زور دیا بصورت دیگر ہم پنجاب اسمبلی کے سامنے اس وقت تک دھرنا دیں گے جب تک یہ مؓطالبہ مان نہیں لیا جاتا۔احتجاجی مظاہرے سے پنجابی شاعرہ طاہرہ سراء ، طارق جٹالہ، افضل سحر اور دیگر پنجابی دانشوروں نے بھی خطاب کیا

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور