مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن کو گرفتار کرلیا گیا

مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن کو گرفتار کرلیا گیا
مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن کو گرفتار کرلیا گیا

  

لندن(نیوز ڈیسک)شدت پسندی کا الزام مسلمانوں پر لگایا جاتا ہے مگر مغربی ممالک میں آج کل خود مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے، یہ جان کر آپ بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ شدت پسندی اصل میں کیا ہوتی ہے۔ برطانوی شہری ڈیوڈ پرنہام کو دیکھ لیجئے۔ یہ بدبخت بھی اُن جنونیوں میں سے ایک ہے جو مسلمانوں کی جان کے دشمن ہو چکے ہیں اور انہیں ہر طرح سے ایذاءدینے کے درپے ہیں۔ اور اس شیطان صفت شخص کے دل میں مسلمانوں کے خلاف کتنا زہر ہے، یہ جان کر آپ یقیناً حیران رہ جائیں گے۔

نیوز ویب سائٹ Metro.co.uk کے مطابق 35 سالہ ڈیوڈ نے گزشتہ کئی سالوں سے مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا۔ وہ ”پنش اے مسلم ڈے“ کا اہتمام خاص طور پر کرتا تھا، جس کا مقصد لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف کاروائیوں کے لئے ابھارنا ہے۔ وہ اس حوالے سے سارا سال لوگوں کو خط بھیجتا رہتا تھا۔صرف جون 2016ءسے جون 2018ءکے درمیان وہ سینکڑوں افراد کو اس طرح کے خطوط بھیج چکا ہے۔

ڈیوڈ نے مسلمانوں کے قتل پر لوگوں کو اکسایا، کئی اہم مسلم تہواروں اور تقاریب کے موقع پر اس نے خطرناک قسم کی افواہیں پھیلا کر ان تقاریب اور امن عامہ کو درہم برہم کرنے کی کوشش کی اور بے شمار مسلم شہریوں کو دھمکی آمیز خطوط بھی بھیجے۔ وہ اپنے خطوط میں سفید پاﺅڈر بھی ڈالتا تھا، جو تحقیق کاروں کے مطابق خطرناک نہیں تھا، لیکن وہ اسے دھمکی دینے اور خوف پیدا کرنے کے لئے استعمال کررہا تھا۔

اس بدبخت شخص کی جنونیت کا اندازہ کرنا چاہیں تو اس کا ایک خط دیکھ لیں جو اس نے 3 اپریل 2018ءکے روز سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا۔ لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف اکسانے کے لئے اُس نے لکھا ”انہوں (مسلمانوں) نے آپ کو زخم دئیے ہیں۔ انہوں نے آپ کے پیاروں کی جان لی ہے۔ انہوں نے آپ کو دُکھ دیا ہے۔ آپ اس کے متعلق کیا کریں گے؟

کیا آپ عام لوگوں کی ایک بڑی تعداد کی طرح محض ایک بھیڑ ہیں؟ یورپ اور شمالی امریکہ کے سفید فام لوگوں کو انہوں نے صرف نقصان پہنچانے کا عہد کررکھا ہے اور ہماری جمہوریت کا خاتمہ کرکے اپنا نظام لانا چاہتے ہیں۔ آپ اس صورتحال کو بدل سکتے ہیں آپ کے پاس طاقت ہے، آپ ایک بھیڑ مت بنیں۔

آپ کسی مسلمان کے خلاف ایکشن لیں گے تو اس کے آپ کو پوائنٹ ملیں گے۔ کسی مسلمان کو زبان سے برا بھلا کہنے کے 10پوائنٹ ہیں، مسلم خاتون کے سر سے سکارف کھینچنے کے 25 پوائنٹ ہیں، کسی مسلمان کے چہرے پر تیزاب پھینکنے کے 50 پوائنٹ ہیں، کسی مسلمان پر تشدد کرنے کے 100پوائنٹ ہیں، کسی مسلمان کو بجلی لگانے یا اس کی کھال کھینچ دینے کے 250پوائنٹ ہیں، کسی مسلمان کو گاڑی تلے کچل دینے یا اس کے جسم کے ٹکڑے کردینے کے 500 پوائنٹ ہیں، مسجد پر بم سے حملہ کرنے یا آگ لگانے کے 1000 پوائنٹس ہیں۔“

برطانوی سکیورٹی اداروں نے اس جنونی شدت پسند کا سراغ ہینڈ رائٹنگ، فنگر پرنٹ اور ڈی این اے کی مدد سے لگایا، اور جون 2018ءمیں اُسے گرفتار کیا گیا۔ اب اس کے خلاف مقدمے کی کارروائی جاری ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ اسے عبرتناک سزا دی جائے گی۔

مزید : برطانیہ