کیا سعودی عرب واقعی سی پیک میں پارٹنر بننے جا رہا ہے اور کتنے بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری کرے گا؟ فواد چوہدری نے بالآخر حقیقت سے پردہ اٹھا، سعودی عرب کے وزیر پیٹرولیم پاکستان کیا کرنے آئیں گے؟ خوشخبری سنا دی

کیا سعودی عرب واقعی سی پیک میں پارٹنر بننے جا رہا ہے اور کتنے بلین ڈالرز کی ...
کیا سعودی عرب واقعی سی پیک میں پارٹنر بننے جا رہا ہے اور کتنے بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری کرے گا؟ فواد چوہدری نے بالآخر حقیقت سے پردہ اٹھا، سعودی عرب کے وزیر پیٹرولیم پاکستان کیا کرنے آئیں گے؟ خوشخبری سنا دی

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ سعودی عرب سی پیک منصوبے میں انویسٹمنٹ پارٹنر بننے جا رہا ہے۔ سعودی عرب کے وزیراعظم پیٹرولیم پاکستان کے دورے پر آ رہے ہیں اور جو بھی سرمایہ کاری ہو گی وہ بلین ڈالرز میں ہی ہو گی۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کے دوران فواد چوہدری سے سوال پوچھا گیا کہ “آپ نے سعودی عرب کے دورہ سے واپس آ کر کہا تھا کہ سعودی عرب پاک چین اقتصادی راہداری میں پاکستان کا سٹریٹجک پارٹنر بنے گا اور 10 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کرے گا، مگر بعد میں دونوں باتوں کی نفی ہو گئی، تو اب کیا صورتحال ہے۔ “

فواد چوہدری نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایک تو مسئلہ یہ ہے کہ ہم انگریزی بول اور سمجھ سکتے ہیں لہٰذا مغربی میڈیا کا پاکستان میں اثرورسوخ بہت ہے جو اس وقت سی پیک اور چین کیساتھ پاکستان کے تعلقات کا دشمن ہے۔ مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ جب حکومت پاکستان کوئی بات کرتی ہے اور اس پر مغربی میڈیا کچھ کہتا ہے تو اسے صحیح سمجھ لیا جاتا ہے لیکن اپنی حکومت کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ مثال کے طور پر اگر آپ دو روز قبل چینی سفیر کا کوئٹہ میں دیا گیا بیان دیکھ لیں تو وہ بالکل وہی بات کر رہے تھے جو بات میں کر رہا تھا۔

مخدوم خسرو بختیار سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا سعودی عرب سی پیک سے متعلق پاکستان اور چین کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹیوں میں بیٹھے گا تو انہوں نے نفی میں جواب دیا تھا کہ سعودی عرب ان کمیٹیوں میں تو نہیں بیٹھے گا البتہ سرمایہ کاری میں ہمارا شراکت دار ہو گا اور یہی بات میں نے بھی کہی تھی، میں نے کہا تھا کہ سعودی عرب ہمارا پارٹنر ہو گا۔ فواد چوہدری نے کہا کہ سٹریٹجک لفظ استعمال کرنے میں بھی ایک مسئلہ ہے کیونکہ جب سٹریٹجک کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس کا مطلب اکنامک سٹریٹجک پارٹنر ہوتا ہے لیکن مغربی ممالک اور بھارت کے علاوہ دیگر یاسے ممالک جو پاکستان کیلئے نیک خواہشات نہیں رکھتے، وہ اس سے سیاسی یا جنگی پہلو نکالتے ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا ہماری نظر میں سی پیک ایک اقتصادی منصوبہ ہے اور اسے بالکل اسی حیثیت سے آگے لے کر جانا چاہتے ہیں اور یہ بھی چاہتے ہیں کہ اس منصوبے میں سرمایہ کاری ہو تاکہ پاکستان کی اقتصادی شاخ مضبوط ہو سکے لیکن اگر ہمارا میڈیا مغربی میڈیا کے مطابق چلے گا تو یہ خطرناک بات ہے اور آخر کار نقصان بھی ریاست کا ہی ہو گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے وزیر پیٹرولیم پاکستان تشریف لا رہے ہیں جو گوادر شہر میں آئل ریفائنری کے منصوبے پر پیش رفت کریں گے اور یہ یقینا بلین ڈالرز کا منصوبہ ہے تاہم ان کے آنے کے بعد ہی سرمایہ کاری کے اصل حجم سے متعلق واضح ہو سکے گا لیکن یہ بات یقینی ہے کہ سرمایہ کاری بلین ڈالرز میں ہی ہو گی۔

مزید : قومی /ڈیلی بائیٹس