آلودہ پانی سے پیٹ کے امراض!

آلودہ پانی سے پیٹ کے امراض!

  



ڈینگی کی وباء پر ابھی قابو نہیں پایا جا سکا کہ آلودہ پانی نے گیسٹرو سمیت معدے کی دوسری بیماریوں اور گلے کی خرابی کا سلسلہ شروع ہو گیا،سرکاری ہسپتالوں میں ڈینگی کے مریضوں کی بہتات کے باعث پہلے ہی بیڈ نہیں، اس پر یہ سلسلہ شروع ہو گیا،اکثر مریضوں کو ڈرپ کی ضرورت ہوتی ہے۔ڈاکٹر مجبوراً کسی خالی بیڈ پر ایک سے زیادہ مریضوں کو ڈرپ لگانے پر مجبور ہوتے ہیں یا ان کوادویات لکھ کر دیتے اور گھر پر ڈرپ لگوانا تجویز کرتے ہیں۔یوں لوگ دہری پریشانی میں مبتلا ہیں۔ہمارے سٹاف رپورٹر کے مطابق لاہور میں سمادھی گنگارام، کریم پارک اور اکثر پوش کالونیوں سے یہ شکایات ملی ہیں کہ پینے کے لئے پانی میں سیوریج کا پانی مل کر آ رہا ہے، اور یا گندہ پانی ہے، جس سے یہ امراض پھیل رہے ہیں،جن علاقوں میں واسا کے ٹیوب ویلوں پر فلٹریشن پلانٹ لگائے گئے وہ بھی اب پانی صاف نہیں کر پاتے کہ ان کے فلٹر مقررہ وقت سے کہیں زیادہ چل چکے اور تبدیل نہیں کئے گئے،سٹاف رپورٹر کے مطابق واسا کے مطابق اس کے پاس فنڈز کی کمی ہے اس کے باوجود کوشش کر کے فلٹریشن کئے جا رہے ہیں،تاہم تکنیکی طور پر لاہور میں زیر زمین پانی کی سطح گر جانے کی وجہ سے بھی ٹیوب ویل کچھ آلودہ یا معیار سے کم تر پانی مہیا کر رہے ہیں،ان کے نئے بور کی ضرورت ہے۔واسا کی طرف سے جو صفائی دی گئی یہ پہلے بھی دی جاتی رہی ہے اور ہمیشہ یہی کہا جاتا ہے تاہم لازم یہ ہے کہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ ٹیسٹ کرایا جائے، جہاں ضرورت ہو، وہاں نئے بور ہوں اور فلٹروں کی تبدیلی کے لئے فنڈز اسی حساب سے مختص کئے جائیں۔گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے صاف شفاف پانی مہیا کرنے کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے اور وہ ایسا کر بھی رہے ہیں،ان کی توجہ کی بھی ضرورت ہے کہ وہ دیہات کے ساتھ ساتھ بڑے شہروں پر بھی توجہ مبذول کریں۔

مزید : رائے /اداریہ