کھیل تقدیر کے، نوازشریف نے واضح کر دیا!

کھیل تقدیر کے، نوازشریف نے واضح کر دیا!
کھیل تقدیر کے، نوازشریف نے واضح کر دیا!

  



یہ بھی تقدیر ہی کے کھیل ہیں کہ اکثر دیرینہ ضرب المثل پوری ہو جاتی ہے۔ اب ملاحظہ کریں، بزرگوں نے کہا کبڑے کو لات راس آ گئی تو گزشتہ روز نیب کی پھرتیوں نے اس ضرب المثل کو پورا کر دیا اور مسلم لیگ (ن)میں مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کے حوالے سے جو کنفیوژن پایا جا رہا تھا وہ نیب ہی کی مہربانی سے صاف ہو گیا، اندازہ ہے کہ نیب نے سابق وزیراعظم محمد نوازشریف کے خلاف ایک نئے ریفرنس کی تحقیقات یا تفتیش کے لئے ان کو جیل سے اپنی تحویل میں لینے کے لئے جو عجلت دکھائی وہ اس لئے تھی کہ جیل سے خط لکھے جا رہے تھے۔

ہدایات جاری ہو رہی تھیں اور یوں تحریک کی تقویت کا ذریعہ بنا ہوا تھا، اس لئے محمد نوازشریف کو جیل سے نکال کر نیب حوالات لے جانے کا مقصد یہی ہو سکتا ہے کہ ان سوراخوں کو بند کر دیا جائے لیکن یہاں کبڑے کو لات راس آنے والی بات ہو گئی اور سابق وزیراعظم، سزا یافتہ قیدی محمد نوازشریف کو بھرپور موقع مل گیا کہ وہ اپنے پورے جذبات اور تاثرات کے ساتھ مولانا فضل الرحمن کے مقصد کی تائید کر دیں بلکہ اس امر پر بھی اظہار افسوس کریں کہ مولانا نے انتخابات کے بعد اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی جو تجویز دی اس پر عمل کیوں نہ کیا گیا؟ انہوں نے کھل کر کہہ دیا کہ مولانا کے آزادی مارچ میں بھرپور شرکت کی جائے۔ اب آج (ہفتہ) جو اجلاس مسلم لیگ (ن) کی مرکزی مجلس عاملہ کا ہو گا(تب تک یہ کالم چھپنے کے لئے جا چکا ہو گا) اس میں تو یہی طے ہو گا کہ آزادی مارچ میں کس طرح شرکت کی جائے اور اگر دھرنا ہو تو پھر کیا حکمت عملی ہو گی، کیونکہ یہ تو محمدنوازشریف نے طے کر ہی دیا ہے کہ آزادی مارچ ان کا بھی مارچ ہے۔(اندازہ لگائیں کہ مولانا کتنے مطمئن ہوں گے)

سابق وزاعظم اب جسمانی ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں ہیں اور یہ نیب والوں کی صوابدید ہے کہ ان کے ساتھ کسی کی ملاقات ہو یا نہ ہو کہ ایسا کوئی عدالتی حکم تو نہیں، جبکہ اس سے قبل سنٹرل جیل کوٹ لکھپت میں ہفتے میں ایک بار (تعداد محدود کر دینے کے باوجود) رشتہ داروں کو ملنے کی اجازت تھی اور ان میں کیپٹن (ر) صفدر بھی شامل ہیں اور وہ اطمینان سے باہر آ کر ایسی گفتگو کررہے تھے کہ بھائیوں کے درمیان حکمت عملی کے اختلاف کی تائید ہوئی تھی کہ وہ تو کہہ رہے تھے کہ نوازشریف نے اپنے صاحبزادے حسین نواز کو خط لکھ دیا ہے اور اب حسین نواز چچا کو حکمت عملی سے آگاہ کریں گے۔ یہ واضح کنفیوژن اور عدم اعتماد والی بات تھی، جسے نوازشریف نے باہر آتے ہی واضح کر دیا اور یہ کہا کہ انہوں (نوازشریف) نے شہباز شریف کو خط لکھ کر تمام امور سمجھا دیئے ہیں، وہ اس کے مطابق عمل کریں گے، مزید بتایا کہ اس خط کی ایک نقل حسین نواز کو بھی بھیج دی کہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔ یوں عدم اعتماد کے تاثر کو زائل کر دیا۔

اب آج شام جب بڑوں کی میٹنگ ہوگی تو محمد شہبازشریف سمیت اکا دکا ان کے ہم خیال آزادی مارچ کی حمایت اور اس میں شرکت کے فیصلے پر تو مجبور ہوں گے یہ الگ بات ہے کہ وہ اپنے تحفظات کا پھر بھی اظہار کریں کیونکہ محمد شہباز شریف خلائی مخلوق کی حمائت سے زیادہ اس امر سے خوفزدہ ہیں کہ اگر مارچ ناکام ہو گیا تو؟ یوں یہ اندیشہ دور دراز ان کے ارادوں کی راہ میں مزاحم تھا اور شاید اب بھی ہو لیکن مجبوری ہے کہ عمل تو کرنا ہو گا۔ اس سلسلے میں محمد شہبازشریف کی الیکٹرانک میڈیا سے حالیہ گفتگو کا حوالہ ہم اپنی اطلاع اور یقین کی تائید میں دیتے ہیں، اس گفتگو میں وہ کہتے ہیں کہ وہ سیاست چھوڑ سکتے ہیں بڑے بھائی کو نہیں چھوڑ سکتے ایسا کرنا ہوتا تو کم از کم چار بار اس پیشکش کو نہ ٹھکراتے جو ان کو وزیراعظم بنانے کے لئے کی گئی تھی، ہم نے ایک سے زیادہ بار یہ عرض کیا تھا کہ خاندانی روایات اور ایک دوسرے کے ساتھ جڑے مفادات کی وجہ سے شریفوں میں اختلاف اور جدائی نہیں ہوگی اور ایک بار پھر یہ ثابت ہوگیا ہے۔

جمعیت علماء اسلام (ف) کے مولانا فضل الرحمن بڑے خوش قسمت ہیں کہ کپتان شاید زندگی میں پہلی مرتبہ اپنی ہٹ یا ضد سے ایک قدم پیچھے ہٹے ہیں اور انہوں نے مولانا کے ساتھ مذاکرات کی آپشن کھولنے کا ذکر کر دیا ہے اگرچہ یہاں بھی اگر مگر ہے کہ وہ کہتے ہیں، اگر کوئی مذاکرات کرنا چاہتا ہے تو ان کے دروازے کھلے ہیں، یہاں وہ اپنے سخت گیر موقف سے بہت معمولی پیچھے ہٹے ہیں، تاہم سیاست میں یہ بھی بہت ہوتا ہے اور اب اگر کوئی درد دل والا کوشش کرے تو شاید بات چیت ہو سکے، لیکن ایسا کون ہے جسے اتنا دکھ ہو اور وہ دونوں طرف بات کی اہلیت بھی رکھتا ہو، شاید کوئی ہو ہی جائے۔

اب ذرا بات کرتے ہیں، تجربہ کار، سیاست دان، سجادہ نشین وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی کہ وہ اس دشت کی سیاحی میں بہت وقت گزار چکے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) سے سفر شروع کرکے پیپلزپارٹی سے ہوتے ہوئے اب انصاف کے ساتھ ہیں اور اپنی ذاتی حیثیت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن کس کے اشارے پر یہ کر رہے ہیں، اسے دیکھنا چاہیے، ان کی مراد یہ ہے کہ پردے کے پیچھے کون ہے؟ہم عرض کریں گے حضور! آپ خود تجربہ کار ہیں اور وفاداریاں بدلتے رہے ہیں، اس لئے آپ کو تو بہت زیادہ تجربہ ہے کہ پردے کے پیچھے کون اور کس کا اشارہ ہو سکتا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ ایسے اشاروں کے مقاصد کا علم ہمیں نہ ہو، ممکن ہے کہ یہ بھی ایک ایسی حکمت عملی ہو جس کے ذریعے آپ اور آپ کے انصافیوں کو پانچ سال پورے کرنے کا موقع دینا ہو کہ شہبازشریف کے خدشے کے مطابق اگر آزادی مارچ ناکام ہو گیا تو پھر کوئی پوچھنے والا نہیں ہو گا، سب کچھ وہی ہو گا جو کپتان کے دل میں ہے، لیکن اس کے آثار نظر نہیں آتے، اگر کچھ بھی نہ ہوا تو کم از کم اپنی ضد پر قائم محترم کو اپنے رویے میں تبدیلی لانا ہو گی کہ بلاول بھٹو نے اپنے انداز میں اپنے طور پر بھی تحریک شروع کر دی اور طریقہ کار اور حکمت عملی ان کی اپنی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے بلاول کی تعریف کر دی ہے کہ انہوں نے دھرنے میں شرکت سے انکار کر دیا، بھولے بادشاہو! بلاول نے یہ بھی تو کہا کہ جب دھرنا ہو گا تو پھر فیصلہ بھی کر لیں گے فی الحال ضرورت نہیں کہ ہم دھرنے کے خلاف ہیں، تو جناب حالات کا تقاضا واقعی یہ ہے کہ مذاکرات ہوں، کپتان نے درست کہا لیکن اب تھوڑا اور آگے بڑھیں،کسی کے کندھے پر بوجھ ڈالیں کہ وہ راہ ہموار کرے کہ اسی میں بہتری ہے۔

آج یہی عرض کرنا تھا۔ قارئین! آپ کی توجہ ایک نئے سلسلے کی طرف دلا کر بات ختم کرتے ہیں۔ لندن کی عدالت نے ایم کیو ایم کے بانی کے خلاف اشتعال انگیزی کے الزام کو بادی النظر میں درست قرار دے کر ان کے خلاف فرد جرم بھی عائد کر دی اور یکم نومبر سے مقدمہ کی سماعت شروع کر دی جائے گی۔ یہ بہت بڑی جوہری تبدیلی ہے۔ حالات اور کروٹ لیں گے۔ یہاں متحدہ والوں نے حکومت پر عدم اطمینان ظاہر کرکے اپنے مطالبات پر زور دیا ہے۔وزیراعظم سے ملیں گے۔ یہ کیسی اچھی ٹائمنگ ہے؟

مزید : رائے /کالم