انصاف کی روشنی

انصاف کی روشنی
انصاف کی روشنی

  

ہر عاقل و بالغ محب وطن چاہتا اور پسند کرتا ہے کہ معاشرے میں ظلم و زیادتی کا خاتمہ اور عدل و انصاف کا بول بالا ہو ہر امیر غریب چاہتا ہے کہ اپنے گھر میں بیوی بچوں کے ساتھ سکھ کی نیند سوئے بلا خوف و خطر اٹھے اور اپنے کاروبار یا ملازمت پر جائے۔جو کچھ کمائے اپنے بیوی بچوں کو کھلائے پلائے۔ کسی طرف سے چھینا جھپٹی کا خوف دامن گیر نہ ہو۔ ایسا معاشرہ بہترین منصف کے شاندار اور بے لاگ کردار سے وجود پذیر ہو سکتا ہے۔ایسا منصف جس کی انصاف پسندی دیکھ کر لوگ اس کی طرف کھنچے چلے آئیں۔ ایسا منصف جب ریٹائر ہو تو لوگ مدتوں اسے یاد رکھیں۔ اس کی مثالیں دیں۔ ایسا منصف اس کی عدالت سے تھانیدارانہ کرخت آوازیں سننے میں نہ آئیں۔ایسی آوازیں نہ سنی جائیں جن سے کانوں کو راحت آنکھوں کو ٹھنڈک اور دلوں کو سکون کی بجائے حاضرین و ناظرین پر کپکپی طاری رہے۔ منصف خود نہیں بولتا اس کے فیصلے بولتے ہیں۔ فیصلوں پر عملدرآمد وہ خود نہیں کرتا۔

انتظامیہ ان پر عملدرآمد کراتی ہے۔ماضی قریب میں منصف اعلی نے فیصلے کرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے پر ان پر عملدرآمد کے گہرے نقوش ثبت کرنے اور دیکھنے کی ذمہ داری بھی اپنے ہاتھ میں لینے کی بھرپور کوشش کی بات بات پر ڈانٹا ڈپٹی ان کا آئے روز کا مشغلہ تھا۔ ایسا بھی ہوا کہ جہاں گیا اپنی کرختگی کے احوال چھوڑ آیا۔ملک میں پانی کی قلت کا مسئلہ سامنے آیا تو کالا باغ ڈیم کی طرف ہاتھ اور قدم بڑھایا۔ سیاست دانوں کی مخالفت کا سامنا نہ کر سکا اس کی تعمیر سے ہاتھ کھینچ لیا۔ بعد ازاں ایک نہیں دو ڈیم بنانے کا بیڑا اٹھا لیا۔ پہلا مرحلہ سرمائے کی فراہمی کا تھا۔ حاضر سروس چیف جسٹس تھے۔ جدھر رخ کیا کروڑوں کے عطیات جھولی میں ڈال دیئے گئے اندرون ملک کے کاروباری طبقہ اور صاحب خیر حضرات کے علاوہ بیرون ملک بھی شاندار پذیرائی ملی۔امید ہو چلی تھی کہ بہت جلد ڈیموں کی تعمیر کا کام شروع ہو جائے گا۔ بلند بانگ دعووں اور خوشگوار نعروں کی صداوں میں ڈیم مکمل ہونے سے توانائی میں وطن عزیز خود کفالت سے بھی آگے نکل جائے گا۔

ریٹائر ہوتے ہی سارے دعوے اور سارے نعرے جھاگ کی طرح بیٹھ گئے۔ ڈیموں کے محاذ پر خاموشی چھا گئی۔ عطیات لینے والا رہا اور نہ ہی عطیات دینے کی خبریں اخبارات کی زینت بنیں۔ایسے لگا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد صاحب انصاف زیادہ وقت بیرون ملک گزارتے ہیں۔ سوال پیدا ہونے لگا ہے کہ خطیر رقوم کے عطیات کا کیا بنا۔ڈیموں کی تعمیر کب شروع ہوگی اور کب تکمیل ہوگی۔سابق چیف جسٹس نے شعور کی ساری زندگی انصاف کا علم بلند رکھنے میں گزاری اس لئے اپنے اوپر کرپشن بد عنوانی یا ڈیم فنڈ میں معمولی ہیرا پھیری کا حرف ہرگز نہیں لگنے دیں گے۔ان سے گزارش ہے کہ اٹھیں۔ وعدوں اور اعلانات کی تازگی بحال کریں۔ ڈیموں کی تعمیر کا جلد افتتاح کرائیں۔اگر ایسا نہ ہوا تو اعتبار و اعتماد کے چشمے خشک اور امیدوں کی کلیاں بن کھلے مرجھا جائیں گی۔ عطیات دینے کی زمین بنجر اور عظیم مقاصد کے کار خیر بے آبرو رہ جائیں گے۔

معاشرے میں انصاف تک پہنچنے کا معاون و مددگار ادارہ نیب ہے۔ اپنی تحقیق و تفتیش سے الزام اور جرم کا فرق نمایاں کرتا ہے۔ نیب کا سربراہ اعلی عدلیہ کا ریٹائرڈ معزز رکن ہے۔ حزب اقتدار اور حزب اختلاف نے پوری چھان بین کے بعد متفقہ طور پر اسے چنا اور تعینات کرایا تھا۔ کہا جا سکتا ہے کہ ان کے سروس ریکارڈ میں خلاف عدل کوئی بات نہیں ملی۔ان کی ذات بارے امید پیدا ہوئی کہ تحقیق و تفتیش کا عمل صاف و شفاف اور حتی الامکان مختصر ہوگا کسی کی بے توقیری کے لئے مہینوں پر محیط ریمانڈ پر ریمانڈ نہیں دیا جائے گا۔ انصاف کی روشنی پھیلے گی اور ظلم و زیادتی کا اندھیرا دور ہو جائے گا۔ نیب چیف کا اجلا کردار اپنی جگہ بجا،لیکن اس حقیقت سے انکار کی مجال نہیں کہ نیب افسرا ن اور مجموعی طور پر ادارے بارے شکایات ضرور پیدا ہوئی ہیں۔یہ نیب افسران تھے جو ملک کی مایہ ناز کاروباری شخصیات کو بلاوجہ طلب کرتے اور واپس کرتے رہے۔

نیب افسران ہی تھے جن کے عمل بارے کاروباری طبقہ کو آرمی چیف سے شکایات کرنا پڑیں۔نیب افسران ہی تھے جن کے بارے میں بتایا گیا کہ کاروباری سرگرمیوں پر شدید منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔نیب افسران ہی تھے جن کے بارے چیئرمین نیب کو پریس کانفرنس کرنا اور صفائی دینا پڑی۔ اعلان کرنا پڑا کہ آئندہ نیب افسرا ن کسی کاروباری شخص کو فون کریں گے اور نہ ہی بلائیں گے۔ کہنا پڑا آئندہ ٹیکس معاملات نیب نہیں لے گا بلکہ ایف بی آر کو بھجوائے جائیں گے۔ نیب کے ہاں بات صرف کاروباری شخصیات کی بے توقیری کی نہیں بلکہ سیاست کی آڑ میں معزز و محترم خواتین بارے میں بھی ناخوشگوار سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ بے توقیری ہی تو ہے کہ انہیں ریمانڈ پر ریمانڈ کے ذریعے ہفتوں نہیں مہینوں طلب کیا جا رہا ہے۔ ملتا ملاتا کچھ نہیں۔ اپنی غلطی تسلیم کرنے اور انہیں با عزت رہا کرنے کی بجائے ایسی خواتین کو سی کلاس میں مناسب دری پنکھا اور دوسری ضروریات زندگی سے محروم کرکے کسی کی تسکین کا سامان کیا جاتا ہے۔

یہ سب کچھ صاحبان عدل و انصاف کی موجودگی میں ہو رہا ہے۔ یہ سب کچھ مملکت خدادا د پاکستان میں ہو رہا ہے جس کی بنیادوں میں معصوم خون کام آیا تھا۔ جو کلمہ طیبہ کی طاقت و صداقت سے وجود پذیر ہوا تھا۔ایسا ملک ہے جس کی اپنی مشرقی روایا ت ہیں۔ جہاں احلاقی قدروں کی پاسداری و لحاظ کیا جاتا ہے۔ جہاں خواتین کی تعظیم و تکریم کو مقدم سمجھا جاتا ہے۔جناب چیئرمین نیب سے درخواست ہے کہ دھیان کریں جب ہم آپ سب نہیں ہوں گے لوگ کن الفاظ کے ساتھ یاد کریں گے۔ ضرور خیال کریں بعض نیب افسران کے مفاد پرستانہ رویوں کی آبیاری کا ذریعہ ہرگز نہ بننے دیا جائے۔ساری زندگی آپ نے انصاف سے محبت کی۔ انصاف کی روشنی عام کی۔اب بھی انصاف کی روشنی عام کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں۔

مزید :

رائے -کالم -