آزادی مارچ، نوازشریف اور مولانا فضل الرحمن کے اہداف مختلف ہیں

آزادی مارچ، نوازشریف اور مولانا فضل الرحمن کے اہداف مختلف ہیں
آزادی مارچ، نوازشریف اور مولانا فضل الرحمن کے اہداف مختلف ہیں

  



نوازشریف تو ایک بڑی سیاسی جنگ کے لئے تیار ہیں، کیا مولانا فضل الرحمن بھی اس جنگ کے لئے ثابت قدم رہیں گے؟ مولانا فضل الرحمن کا سیاسی ایجنڈا تو بس اتنا سا ہے کہ عمران خان استعفا دے کر رخصت ہو جائیں اور نئے انتخابات کرائے جائیں، لیکن نوازشریف نے تو اپنا ایجنڈا وہی رکھا ہوا ہے، جو گرفتاری سے پہلے تھا، ووٹ کو عزت دو، کا نعرہ انہوں نے اب بھی لگوایا اور یہ تک کہہ دیا کہ مجھے چاہے گوانتاناموبے کی جیل بھیج دیا جائے،میرا نعرہ یہی رہے گا۔ جب تک اس ملک میں عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والوں کو اختیار نہیں ملتا، ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔ ذلت کی زندگی سے موت بہتر ہے کا نظریہ بھی انہوں نے پیش کیا۔ سو حالات تو ایک بڑی خرابی کی نشاندہی کر رہے ہیں،معاملہ اتنا سادہ نہیں۔

البتہ مولانا فضل الرحمن کی نظر سے دیکھیں تو بہت سادہ ہے۔ وہ بندے اکٹھے کرکے اسلام آباد لے جانا چاہتے ہیں، تاکہ عمران خان کو نکال باہرکر سکیں۔ وہ اس بات سے خوش ہیں کہ نوازشریف نے کھل کران کے آزادی مارچ میں شرکت کا اعلان کر دیا ہے۔ وہ یہ بھول گئے ہیں کہ نوازشریف نے اس سے آگے بھی کچھ کہا ہے اور سیدھا سادہ طبلِ جنگ بھی بجا دیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کو تو شاید اس کا بھی علم نہیں کہ نوازشریف کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر کیا نعرے لگائے گئے، اگر مسلم لیگ (ن) آزادی مارچ میں شامل ہوتی ہے تو کیا یہ نعرے اس میں بھی لگائے جائیں گے،،لگائے گئے تو نتیجہ کیا نکلے گا؟

صرف شہبازشریف کو اس کا علم ہے کہ نوازشریف کا اصل ہدف کیا ہے؟ اسی لئے وہ دور دور ہیں، کیونکہ نوازشریف جس ہدف کے پیچھے ہیں اس کا حصول مشکل ہی نہیں خطرناک بھی ہے، مگر نوازشریف چونکہ اب ایسے سود و زیاں سے بے نیاز ہو چکے ہیں اور مانتے ہیں کہ جو کچھ آج ان کے ساتھ ہو رہاہے، اس سے زیادہ اور کچھ ہو بھی نہیں سکتا، اس لئے ان کے نزدیک اب بات لگی لپٹی نہیں کی جا سکتی، اب تو نعرہ ء مستانہ ہی لگانا پڑے گا۔ اب مسلم لیگ(ن) واضح طور پر دو دھڑے بن چکے ہیں۔ ایک دھڑا نوازشریف کے بیانیے کا حامی ہے، جس میں فوج پر تنقید شرطِ اولین ہیں اور دوسرا دھڑا شہبازشریف کی سوچ کو سپورٹ کر رہا ہے، جس میں سیاسی جنگ حکومت کے خلاف لڑنے کی حکمت عملی پر زور دیا جا رہا ہے، مگر نوازشریف کے نزدیک تو یہ بہت چھوٹی سی جنگ ہے، اس سے ان کے نزدیک کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

زیادہ سے زیادہ حکومت ختم ہو جائے گی، نئے انتخابات ہوں گے، لیکن طاقت کا مرکز عوامی نمائندے نہیں کوئی اور طاقت ہو گی۔ وہ پہلے اس مسئلے کا حل چاہتے ہیں کہ ملک میں اقتدار کس کا حق ہے، ووٹ کے ذریعے منتخب ہونے والوں کا یا ان کا جو ملک پر تسلط جمائے بیٹھے ہیں۔ لگتا تو یہی ہے کہ نوازشریف سے جان چھڑانے کی کوششیں ناکام ہوچکی ہیں۔ ان کی حالیہ رونمائی نے جہاں ان کی بیماری اور چہرے پر جھریوں میں اضافے کی کہانی سنائی وہیں وہ ایک ایسے ضدی انسان کی شکل میں بھی سامنے آئے جو اب تختہ یا تختہ کی سوچ کا اسیر ہو چکا ہے۔ ان کے لئے تو مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ اور دھرنا ایک نعمتِ غیر مترقبہ ہے، جس کے ذریعے انہیں جیل میں ہی بیٹھ کے اسٹیبلشمنٹ سے بھرپور لڑائی کا موقع مل رہا ہے، مگر ان کے اس بیانیے نے مولانا فضل الرحمن کے لئے مشکلات بڑھا دی ہیں، وہ کہتے آئے ہیں کہ ان کی لڑائی فوج یا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ نہیں مگر نوازشریف کے حکم سے مسلم لیگ(ن) کی ان کے مارچ میں شمولیت اس لڑائی کو ضرور آزادی مارچ میں لے آئے گی۔ کسی کو یہ خوش فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ مسلم لیگ (ن) کے آنے سے مولانا کا یہ آزادی مارچ صرف عمران خان کی رخصتی تک محدود رہے گا، بلکہ اس میں وہ بیانیہ سرچڑھ کے بولے گا جو نوازشریف نے دے رکھا ہے۔

اب یہی وہ پہلو ہے جس سے بہت ڈر لگتا ہے۔ اس کے ذریعے حالات کا رخ کسی اور طرف جا سکتا ہے۔ یہی وہ صورتِ حال ہے، جس سے مسلم لیگ (ن) میں موجود اعتدال پسند لوگ بچنا چاہتے ہیں۔ نوازشریف کی آج بھی مسلم لیگ (ن) پر گرفت بہت مضبوط ہے، کسی کے بس میں نہں کہ ان کا حکم ٹال سکے، حتیٰ کہ شہبازشریف بھی اس حوالے سے سخت دباؤ میں ہوں گے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس سارے عمل میں جمہوریت کی بساط لپیٹے جانے کا سو فیصد احتمال بھی موجود ہے۔ کوئی مانے نہ مانے یہ لڑائی اب خطرناک موڑ کی طرف جا رہی ہے۔ یہ بات کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہی کہ اس اہم موقع پر نوازشریف کو جیل سے باہر آنے کی سہولت کس نے فراہم کی۔ چودھری شوگر ملز کیس میں گرفتاری دھرنے اور مارچ کے بعد بھی ہو سکتی تھی، پھر اس میں عجلت کیوں برتی گئی۔ اگر نوازشریف کوٹ لکھپت جیل میں ہوتے تو ان کی براہِ راست میڈیا کے ذریعے عوام تک رسائی نہ ہو سکتی، ان کے پیغامات ہی باہر آتے اور ایسے پیغامات پر ہمیشہ شکوک و شبہات موجود رہتے ہیں، مگر اچانک انہیں باہر آنے کا موقع فراہم کیا گیا اور انہوں نے اپنا سارا غبار نکال کر باہر رکھ دیا۔

نہ صرف تمام مسلم لیگی کارکنوں اور رہنماؤں کو مولانا فضل الرحمن کے دھرنے میں بھرپور شرکت کی ہدایت کی، بلکہ یہ بھی کہہ دیا کہ ووٹ کو عزت ملنے تک ان کی جنگ جاری رہے گی، چاہے انہیں افریقہ کی کسی جیل میں ہی کیوں نہ بھیج دیا جائے۔ کیپٹن صفدر تو یہ کہہ رہے ہیں کہ نوازشریف سے رابطوں کو منقطع کرنے کے لئے انہیں جیل سے نکال کر نیب کی حراست میں دیا گیا ہے، حالانکہ جب پندرہ دن بعد نوازشریف کو دوبارہ ریمانڈ میں توسیع کے لئے احتساب عدالت لایا جائے گا تو وہ آزادی مارچ سے ایک دن پہلے کی تاریخ ہو گی، گویا نوازشریف پھر ایک نئی ہلہ شیری دینے کے لئے میدان میں موجود ہوں گے۔

نوازشریف کے آزادی مارچ میں شرکت کے دوٹوک اعلان سے پیپلزپارٹی پر بھی اب دباؤ آ گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں شاید پیپلزپارٹی بھی اگر مگر کی صورتِ حال سے نکل آئے اور اس میں شرکت کا اعلان کرے، نوازشریف جو اعلان کر گئے ہیں، اب اس میں تبدیلی کی گنجائش نہیں، شہبازشریف بھی ذاتی وجوہات کی بنا پر اس سے دوری کا اظہار تو کر سکتے ہیں، مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ مسلم لیگ (ن) اس میں شرکت نہیں کرے گی۔ نوازشریف کے اس اعلان سے حکومت کے لئے مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ اس کے بعد ہی وزیراعظم کی طرف سے یہ پیشکش کی گئی ہے کہ مذاکرات کے لئے دروازے کھلے ہیں،تاہم مذاکرات کا کوئی امکان نظر نہیں آتا، مسلم لیگ (ن) تو بالکل ہی مذاکرات کی حامی نہیں، اس کا ایجنڈا تو حکومت کی بجائے کچھ اور ہے، خاص طور پر نوازشریف کی پوری کوشش اور خواہش ہے کہ کسی طرح اسٹیبلشمنٹ کو نیچا دکھا لیا جائے۔ وہ این آر او کا بھی کوئی ارادہ نہیں رکھتے اور انہوں نے کہہ دیا ہے کہ ان پر ایک پیسے کی کرپشن بھی ثابت ہو جائے تو وہ سیاست چھوڑ دیں گے۔

یوں لگتا ہے کہ وہ وقت گزر چکا ہے جب نوازشریف یہ چاہتے تھے کہ انہیں باہر آکر غیر سیاسی زندگی اپنے بچوں کے ساتھ گزارنی چاہیے، اب وہ لڑنے کے موڈ میں ہیں اور فی الوقت انہیں مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ نے ایک بہت اچھا موقع فراہم کیا ہے۔ وہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، اس لئے براہ راست اپنی پارٹی کو حکم جاری کیا ہے کہ وہ کھل کر میدان میں آئے اور اس آزادی مارچ کی آڑ میں ووٹ کو عزت دو کے بیانیے کو ملک کے کونے کونے میں پھیلا دیئے۔ اب دیکھتے ہیں مولانا فضل الرحمن اس محاذ پر کتنے ثابت قدم رہتے ہیں، انہوں نے تو آرمی چیف سے ملاقات کا آپشن بھی کھلا رکھا ہوا ہے۔ اگر نوازشریف کو تنہا کرنے کے لئے دوسری طرف سے یہ آپشن استعمال ہوا تو آزادی مارچ بن کھلے مرجھا تونہیں جائے گا؟

مزید : رائے /کالم