چھلانگ مارچ

چھلانگ مارچ
 چھلانگ مارچ

  



چھلانگ مارچ تو گرگٹ کی طرح رنگ بدل رہا ہے پہلے ہم سمجھ رہے تھے کہ یہ خالص مولانا فضل الرحمان کا شو ہے لیکن جب سے ہمارے بڑے میاں صاحب نے انٹری ماری ہے تو چاروں طرف ان کی انٹریوں کی گھنٹیاں بج رہی ہیں، نواز شریف کی دبنگ انٹری نے چھلانگ مارچ کا رنگ دوبالا کر دیا ہے، اب (ف) اور(ن) مل گئے ہیں یوں یہ چھلانگ مارچ ”فن“ میں تبدیل ہو گیا ہے آپ کہیں گے کہ میں نے اچھے خاصے لانگ مارچ کو چھلانگ مارچ کہہ دیا تو سچی بات یہ ہے کہ موجودہ حالات میں یہ ایک چھلانگ ہے جو اس کمزور سسٹم کو مزید کمزور بنانے میں بہترین ثابت ہو گی۔

بچپن میں اکثر ہم جب کھیل سے باہر ہو جاتے تو کھیڈاں گے نہ کھڈاواں گے وچ پسوڑی پاواں گے کہتے میدان میں چھلانگ لگادیتے تھے۔ عمران خان کے پاس تو چار حلقوں کا رونا تھا مولانا صاحب کا تو رونا ہی ایک حلقہ تھا جہاں سے انہیں ہرا دیا گیا۔ کیا تھا خان صاحب جہاں انہوں نے اپنی کابینہ میں وزارتیں خیرات کی طرح بانٹیں ایک حلقہ اور وزارت مولانا کو بھی بانٹ دیتے، ہٹلر تقریر کر رہا تھا اس نے میز پر مکہ مارتے ہوئے کہا میری ڈکشنری میں نہیں کا لفظ نہیں ہے۔ جلسے میں اپنے سردار بنتا سنگھ بھی تھے انہوں نے اونچی آواز میں کہا ”تے ماما ڈکشنری ویکھ لینی سی۔

ہمارے کپتان کی ڈکشنری میں بھی لفظ نہیں نہیں ہے۔ وہ کبھی بھی نہیں کے انداز میں ہاں کہہ سکتے ہیں۔ ہمارا مشورہ ہے کہ ابھی ”ڈلے بیراں دا کج نئی وگڑیا“، وہ اب بھی مولانا سے بات کر سکتے ہیں انہیں منوا سکتے ہیں اور ہاں لفظ نو مولانا کی ڈکشنری میں بھی نہیں۔ اگر ہمارے عمران خان ”یوٹرن کے بادشاہ ہیں تو مولانا اباؤٹ ٹرن کے شہنشاہ۔ انہیں جب حکم ملا وہ کھڑے پیری ”اسٹینڈ ایٹ ایز“ ہو جائیں گے۔ رہی قوم تو وہ جائے بھاڑ میں اسے وقت جب ڈالر چڑھ رہا ہے۔ بھارت اکڑ رہا ہے، امریکہ بگڑ رہا ہے، مولانا فضل الرحمان دھرنا سب باتوں سے بے پروا، کیکلی کلیر دی پگ میرے ویر دی، کھیل رہے ہیں اور بار بار راولپنڈی کی جانب منہ کر کے کہہ رہے ہیں بھائی بھائی زور دی اور یہیں فیصلہ ہو جاتا ہے کہ پنڈی والے مولانا کو ”جھوٹا“ دینے کے موڈ میں ہیں یا نہیں۔

اگر نہیں تو یاد رکھیں مولانا ایک بار ضرور سوچیں گے کہ ”مینو دھکا کس نے دتا سی۔ کھیلیں جی کھیلیں جی بھر کے کھیلیں، بھوکی مرتی قوم کا کیا ہے، اس کا اس ملک یہ حق ہو تو پوچھے کہ بھائی ہم مر رہے ہیں، مہنگائی جھنگا لالاہ ہوم گاتی پھر رہی ہے۔ نوجوان بے روزگار ہو رہے ہیں۔ وہ ہیروئن اور دوسرے نشوں میں پناہ تلاش کر رہے ہیں۔ خودکشیاں بڑھ رہی ہیں اور سیاستدان اقتدار کی کھینچا تانی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ لکھ لیں میری بات مجھے اس چھلانگ مارچ سے خون کی بو آ رہی ہے۔ مجھے کے پی کے میں بڑا تصادم ہوتا نظر آ رہا ہے۔

لیکن بلی چوہے کے اس کھیل میں بلی بھی بچ جائے گی اور چوہے کو بھی آرام آ جائے گا لیکن غریب دا بال مارا جائے گا۔

گورنر ہاؤس میں تقریب کا ایک فائدہ یہ ہے کہ آپ کو ایک ٹکٹ میں دو دو مزے آتے ہیں، وفاقی وزیر فردوس عاشق اعوان کا لوریوں جیسا خطاب سنا پھر گورنر سرور نے بھی باری لی۔ گورنر ہاؤس ہمارے لئے شروع دن سے کشش رکھتا ہے۔ سناہے اتنے میاں میانوالی میں نہیں جتنے آج کل گورنر ہاؤس میں پائے جاتے ہیں۔ میرے جملے کو کسی ذات پات کے معنی میں نہ لیجئے گا میرا مطلب ہے کہ گورنر ہاؤس میں آج کل خواتین کی تقریبات اس حوالے سے بہت منفرد ہیں کہ ان کے ساتھ ان کے میاں بھی گورنر ہاؤس کی سیر کر لیتے ہیں۔

ڈاکٹر فردوس پہلی مرتبہ تو وفاقی وزیر اطلاعات بنی نہیں ان سے زیادہ اس وزارت کو کوئی نہیں سمجھتا۔ یہی وجہ ہے کہ اتنے جید صحافی بھی ان سے ایک کام کی بات نہ اگلوا سکے۔ مان لیا استاد، اپنا کام آتا ہے۔ ورنہ خان صاحب کی جیب میں جتنے سکے ہیں ہمیں تو کھوٹے ہی لگتے ہیں۔ ایک بادشاہ نے بہت کمزور سا باڈی گارڈ رکھا۔ دوسرے ملک کا بادشاہ ملاقات کے لئے آیا تو گارڈ کو دیکھ کر بہت حیران ہوا۔ اور بادشاہ سے پوچھا اسے کس لئے رکھا ہے بادشاہ بولا ”ایہدی بددعا بہت بری لگدی اے“ میں کئی دنوں سے سوچ رہا تھا کہ اس جنگ کے ماحول میں ہمارا وزیر دفاع پرویز خٹک کہاں ہے اب یقین کریں وزیر اعظم نے ان کی بھارت کو بد دعا دینے کی ڈیوٹی لگائی ہوئی ہے۔

سنا ہے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کو ٹیلی فون پر شاندار کارکردگی پر مبارکباد دی ہے۔ کیوں نہ دیں سرفراز احمد کارکردگی میں وزیر اعلیٰ بزدار سے کسی طرح پیچھے نہیں۔ انہیں شاباش دینی تو بنتی ہے۔ سردار سنتا سنگھ کے دانت میں درد تھا کسی سیانے کہا چائے اور رس کھاؤ۔ سخت چیز سے پرہیز کرو۔ کئی دن سلسلہ چلتا رہا۔ ایک دن سنتا سنگھ نے خالی چائے پی اچانک کیڑا باہر نکلا اور بولا سالیا رس مک گئے نے …… سرکاری پریس ریلیزوں کے چائے رس اپنی جگہ دیکھیں قوم کا کیڑا کب باہر نکلتا ہے۔

ہم نے شہباز شریف کے کیڑے نکالتے تھکتے نہیں تھے۔ لیکن اب وہ بھی ہمیں پیارے لگنے لگے ہیں وہ مردے کے کپڑے اتارتے تھے یہ تو مردے کو ہی لیرولیر کر رہے ہیں، مہنگائی گندگی ہسپتالوں کی حالت زار پولیس کی مہربانیاں امن و امان کی صورتحال پنجاب، سندھ کے پی کے کے لئے مثال بنتا جا رہا ہے۔ خیر ہم بھی فخر سے کہہ سکتے ہیں اگر سندھ میں قائم علی شاہ حکومت قائم کر سکتے ہیں تو حق ہمارے پیارے عثمان بزدار کو بھی ہے۔ سردار جی کی ٹرک سے ٹکر ہو گئی دوست بولا جو ہونا تھا ہو گیا پریشان کیوں ہو۔ سردار سنتا سنگھ بولے یار ٹرک کے پیچھے لکھا تھا۔”فیر ملاں گے۔ ہم کسی سنتا سے کم نہیں ہمارا مقدر بھی ان سے کم نہیں یہاں اٹ پٹو تو سفارشی نکل آتا ہے یہی وجہ ہے ہماری وفاقی اور پنجاب کابینہ ساری کی ساری ”قائم علی شاؤں“سے بھری پڑی ہے۔

مزید : رائے /کالم