عالمی نمبرون بچوں سے ہار گئی

عالمی نمبرون بچوں سے ہار گئی

  

سری لنکن کرکٹ ٹیم دورہ پاکستان مکمل کرکے وطن روانہ ہوگئی۔ لنکن ٹیم کے پرامن طریقے سے کامیاب دورے کو پزیرائی ملی، اور عالمی کرکٹ کے لیے پاکستان کے دروازے کھل گئے، دیگر ملکوں کے بھی پاکستان آکر کرکٹ کھیلنے کے امکانات ہیں۔اس دورے میں سری لنکن ٹیم کو پاکستان میں ایک روزہ سیریز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ، جبکہ ٹی20 سیریز میں سری لنکن ٹیم نے پاکستان کو وائٹ واش کیا۔ٹی ٹوئنٹی سیریز میں سری لنکن کرکٹ ٹیم سے شکست کے بعد قومی کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی نے سر جوڑ کر بیٹھنے لگی، چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ مصباح الحق نے کمیٹی کا اجلاس فیصل آباد میں طلب کرلیا ہے ۔سلیکشن کمیٹی کے رکن کبیر خان نے بتایا کہ قومی ٹیم کی مینجمنٹ تبدیل ہونے سے کھلاڑی خود کو ایڈجسٹ کررہے ہیں، ہوم سیریز ہونے سے بھی کھلاڑیوں پر کافی دبا ﺅتھا وہ طویل عرصے بعد ہوم گراﺅنڈ پر تماشائیوں کے سامنے کھیل رہے تھے لیکن سلیکشن کمیٹی فیصل آباد میں پاکستان کپ کے موقع پر بیٹھ رہی ہے، ہیڈکوچ اور چیرمین سلیکشن کمیٹی مصباح الحق بھی ہونگے تو وہ ساری صورتحال بتائیں گے۔انہوں نے کہا کہ سری لنکا کے خلاف سیریز کے لیے ہم نے پرفارمنس دینے والے کھلاڑیوں کا انتخاب کیا اگر کسی نے بہتر کھیل پیش نہیں کیا تو اگلی سیریز کے لیے اس کے بارے میں سوچا جائے گا پاکستان کپ ان کھلاڑیوں کے لیے آخری موقع ہے جنہوں نے کارکردگی نہیں دکھائی انہوں نے کہا کہ سلیکشن کمیٹی کسی کو کھیلنے سے روک نہیں سکتی ٹیم میں وہی کھیلے گا جو پرفارم کرے گا۔جبکہ سال 2019میںعالمی نمبرون پاکستان کی کارکردگی افعانستان،بحرین،بنگلہ دیش،برمودا،کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، آئرلینڈ، اٹلی اورکینیاسمیت دیگرٹیموں سے بھی کمتررہی،قومی کرکٹ ٹیم نے رواںسال یکم جنوری سے اب تک3ٹیموں کے خلاف 7 ٹی ٹونٹی میچزکھیلے جن میں سے ایک میں کامیابی جبکہ 6 میں شکست کا سامنا رہا۔ گرین شرٹس نے انگلینڈ کے خلاف ایک ٹی ٹونٹی میچ کھیلا اور شکست کھائی ،انگلینڈ کے خلاف پاکستان کی کامیابی کاتناسب صفر فیصد ہے۔ جنوبی افریقہ کے خلاف 3 میچ کھیلے جن میں سے ایک میں کامیابی جبکہ دو میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ،جنوبی افریقہ کے خلاف پاکستان کی کامیابی کا تناسب 33.33 فیصد ہے۔ سری لنکا کے خلاف 3 میچزکھیلے اور تینوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ،سری لنکا کے خلاف پاکستان کی کامیابی کا تناسب صفر فیصد ہے۔ کروڑوں روپے خرچ کرنے، ریکارڈ معاوضہ پر چیئرمین پی سی بی اور چیف سلیکٹر و ہیڈ کوچ لانے کے باوجودپاکستانی کرکٹ مسلسل تنزلی کاشکار ہورہی ہے،قومی کرکٹ ٹیم نے سال 2019 میں یکم جنوری سے اب تک3ٹیموں کے خلاف 7ٹی 20میچ کھیلے جن میں سے ایک میچ جیتا اور 6میچ ہارے پاکستان کی کامیابی کاتناسب 14.28فیصد رہا۔ انگلینڈ کے خلاف ایک ٹی20میچ کھیلا اور ہارا انگلینڈ کے خلاف پاکستان کی کاتناسب صفر فیصد ہے۔ جنوبی افریقہ کے خلاف 3 میچ کھیلے ایک میچ جیتا اور 2 میچ ہارے جنوبی افریقہ کے خلاف پاکستان کی کامیابی کا تناسب 33.33 فیصد ہے۔ سری لنکا کے خلاف 3میچ کھیلے اور تینوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا سری لنکا کے خلاف پاکستان کی کامیابی کا تناسب صفر فیصد ہے۔جبکہ سری لنکا کیخلاف ٹی 20سیریز کے 3میچز میں پاکستانی ٹیم کی جانب سے صرف ایک ہی ففٹی سامنے آئی جب کہ بابر اعظم اور فخرزمان کا بیٹ خاموش رہا۔سری لنکا سے3ٹوئنٹی 20میچز کی سیریز میں پاکستان کی پرفارمنس سپر فلاپ ثابت ہوئی، کوئی بھی کھلاڑی غیرمعمولی کارکردگی پیش نہ کرسکا، 3 میچز میں واحد ففٹی حارث سہیل نے بنائی، آخری میچ میں ملنے والے موقع سے فائدہ اٹھاکر انھوں نے 52رنز بنائے، بابر اعظم توقعات پر پورا نہیں اترسکے، انھوں نے 3 میچز میں 14.33 کی معمولی اوسط سے صرف 43 رنز اسکور کیے۔سرفراز احمد چوتھے نمبر پر خاطر خواہ کارکردگی پیش نہیں کرپائے، البتہ ان کے 3 میچز میں 22.33 کی اوسط سے بنائے گئے 67 رنز دوسرے کھلاڑیوں سے زائد ثابت ہوئے، عماد وسیم نے 19 کی ایوریج سے 57 رنز اسکور کیے۔افتخار احمد نے2 میچز موقع پاکر 42 رنز اتنی ہی اوسط سے اسکور کیے۔ سری لنکا سے ون ڈے سیریز میں بہتر پرفارم کرنے والے اوپنر فخر زمان کو پہلے میچ میں آرام دیا گیا، واپسی پر دوسرے میچ میں انھوں نے 6 رنز بنائے جبکہ تیسرے میں گولڈن ڈک کا شکار ہوئے، ٹیم میں واپس لوٹنے والے احمد شہزاد نے 2 میچز میں 8.50 کی اوسط سے 17 رنز بنائے جبکہ عمر اکمل نے 2 میچز میں ایک رن بنایا۔بولنگ میں محمد عامر نے 3 میچز میں اتنی ہی وکٹیں 30.66 کی اوسط سے 92 رنز دے کر حاصل کیں، محمد حسنین نے 3 وکٹیں 2 میچز میں اڑائیں، عماد وسیم، وہاب ریاض اور شاداب خان نے 2، 2 کھلاڑیوں کو آٹ کیا۔جبکہقومی ٹیم کے بلے باز عمر اکمل نے سابق کپتان اور آل رانڈر شاہد آفریدی کا منفی ریکارڈ اپنے نام کرلیا۔سری لنکا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کے پہلے میچ میں عمر اکمل سری لنکن فاسٹ بولر نوان پردیپ کے ہاتھوں پہلی ہی گیند پر ایل بی ڈبلیو آٹ ہوئے تو انہوں نے ٹی ٹوئنٹی میچز میں کسی بھی پاکستانی بلے باز کا سب سے زیادہ صفر پر آٹ ہونے کا ریکارڈ اپنے نام کرلیا۔عمر اکمل بہت خطرناک کھلاڑی ہے لیکن اپنی ہی ٹیم کیلئے۔عمر اکمل 83 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز میں 9 مرتبہ صفر پر آٹ ہوچکے ہیں۔اس سے قبل قومی ٹیم کے سابق کپتان شاہد خان آفریدی 99 میچز میں 8 مرتبہ بغیر کوئی رنز بنائے پویلین لوٹ جانے کا اعزاز رکھتے تھے۔ عمر اکمل کی 3 سال بعد قومی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹیم میں واپسی ہوئی ہے۔ انہوں نے آخری بار 27 ستمبر 2016 کو ویسٹ انڈیز کے خلاف قومی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کی تھی۔جبکہ دوسری جانب سری لنکا کے ہاتھوں کلین سوئپ کے باوجود پاکستان کا آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں پہلی پوزیشن پر قبضہ برقرار ہے۔گرین شرٹس کے 7935پوائنٹس ہیں،انگلینڈ 4353پوائنٹس کیساتھ دوسرے اور جنوبی افریقہ 4720پوائنٹس کیساتھ تیسرے نمبر پر ہے،اس کے بعد ٹاپ 10میں بھارت چوتھی، آسٹریلیا پانچویں،نیوزی لینڈ چھٹی، سری لنکا ساتویں، افغانستان آٹھویں، ویسٹ انڈیز نویں اور بنگلہ دیش دسویں پوزیشن پر موجود ہے۔بیٹنگ رینکنگ میں بابر اعظم نمبر ون ہیں جبکہ میکسویل دوسرے،کولن منرو تیسرے،آئرون فنچ چوتھے اور حضرت اللہ5ویں نمبر پر موجود ہیں۔پاکستان کے فخر زمان 14ویں ،شعیب ملک34ویں،سرفراز احمد43ویں نمبر پر موجود ہیں۔باﺅلنگ رینکنگ میں افغانستان کے راشد خان پہلے،عمادف وسیم دوسرے،عادل رشید تیسرے،شاداب خان چوتھے،مچل سینٹنر پانچویں نمبر پر موجود ہیں۔پاکستان کے فہیم اشرف17ویں،محمد عامر33ویں نمبر پر موجود ہیں۔آل راﺅنڈرز میں ٹاپ10میں کوئی پاکستانی کھلاڑی موجود نہیں جبکہ میکسویل نمبر ون پر موجود ہیں۔جبکہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈکوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق نے سری لنکا سے ٹی ٹوئنٹی سیریز میں وائٹ واش پر حیرانی کا اظہار کیا ہے۔ٹیم کی شکست کے بعد کپتان سرفراز احمد کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصباح الحق کا کہنا تھا کہ شکست کی ساری ذمہ داری قبول کرتا ہوں لیکن یہ وہی ٹیم ہے جو 4 برس سے کھیل رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں شکست کی وجوہات سوچ رہا ہوں، صرف دس دن میں نمبر ون ٹیم کو کیا ہوگیا، ہمیں بہت کچھ ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے، ایسا کوئی لیگ اسپنر نہیں جس کو ہم نے موقع نہیں دیا ہے، یاسر اور شاداب کے متبادل دستیاب نہیں ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں چیف سلیکٹر کا کہنا تھا کہ جو مسائل سب کو دکھائی دے رہے ہیں، وہی ہمیں بھی نظر آرہے ہیں، ہم پاور پلے میں بھی اچھا نہیں کھیل رہے، سینئر کھلاڑیوں پر بلاوجہ تنقید اچھی چیز نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سمت واضح تھی لیکن کھلاڑیوں سے بری کارکردگی کے حوالے سے جواب طلب کروں گا۔یاد رہے کہ تیسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں سری لنکا نے جیت کیلئے پاکستان کو 148 رنز کا ہدف دیا تھا جس کے جواب میں پاکستان ٹیم 134 رنز بناسکی اور یوں سیریز 0-3 سے سری لنکا کے نام رہی۔پاکستان ٹیم ٹی20 فارمیٹ میں پہلی مرتبہ کوئی سیریز تین صفر سے ہاری ہے۔جبکہسری لنکا کی ٹیم کے کوچ رمیش رنا ئیکے نے کہا ہے کہ پاکستان آکر کھیلنے میں بہت خوشی ہوئی، یہاں سے ملنی والی محبتوں کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔میچ کے بعد سری لنکن کوچ رمیش رتنائیکے اور کپتان داش شناکا نے مشترکا پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے شائقین کرکٹ کا سپورٹ کرنے پر شکریہ ادا کیا۔سری لنکن کوش کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام نے جتنی محبت دی اس کو ہمیشہ یاد رکھیں گے، ہمیں بہترین سیکیورٹی فراہم کی گئی، پاکستان آکر کھیلنے میں بہت خوشی ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری ٹیم نے ٹی ٹونٹی سیریز میں بہترین کرکٹ کھیلی، ہمارے پول میں 30 سے 40 کھلاڑی شامل ہیں، دورہ پاکستان کے لیے ایسے کھلاڑیوں کا انتخاب کیا گیا تھا جو بے خوف ہوکر کرکٹ کھیلیں، نوجوان کھلاڑیوں نے پلان کے مطابق کرکٹ کھیلی اور بہترین کھیل پیش کیا۔سری لنکن ٹیم کے کپتان ڈاسن شاناکا نے سپورٹ کر نے شائقین کرکٹ کا شکریہ ادا کیا اور سیریز میں جیت کا سہرا پوری ٹیم کو دیا۔ ان کا کہنا تھاکہ اتحاد کے ساتھ کھیلنے کے اچھے نتائج نکلے۔یاد رہے کہ سری لنکن ٹیم دس سال کے طویل عرصے کے بعد پاکستان آئی تھی، جہاں دونوں ٹیموں کے مابین تین ون ڈے اور تین ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز کھیلی گئی، پہلا ون ڈے بارش کی وجہ سے نہیں کھیلا جاسکا تھا جبکہ دو میں پاکستان نے فتح اپنے نام کرلی تھی، اسی طرح ٹی ٹوئنٹی سیریز میں سری لنکا نے قومی ٹیم کو وائٹ واش کر کے ٹرافی اپنے نام کی۔جبکہکرکٹ کے میدان میں پاکستان کے لئے ایک اور بڑی خوشخبری، برطانیہ کی سپیشل ٹیم نے 2 روزہ دورہ پاکستان کے دوران انٹرنیشنل میچز کی سیکیورٹی پر اطمینان کا اظہار کر دیا اور اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ ہم چاہتے ہیں کہ انگلش کرکٹ ٹیم بھی پاکستان آئے اور دونوں ٹیموں کے مابین میچز ہوں۔پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی، برطانوی کرکٹ بورڈ اور سیکیورٹی افسران کے ممبران پر مشتمل وفد نے 2 روزہ پاکستان کے دوران سیکیورٹی انتظامات کو سراہا۔ ذرائع کے مطابق برطانوی وفد کو ڈی آئی جی آپریشنز لاہور اشفاق خان سمیت اعلی پولیس افسران اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران نے سیکورٹی انتظامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ برطانوی وفد نے مختلف کنٹرول رومز کا وزٹ بھی کیا جس کے بعد بہترین انتظامات کو سراہا۔برطانوی کرکٹ بورڈ ممبران نے پاکستان کو انٹرنیشنل کھلاڑیوں کے لئے محفوظ قرار دیدیا، ذرائع کے مطابق برطانوی وفد کے بعض ممبران نے کہاکہ لاہور میں سیف سٹی پراجیکٹ کے ساتھ ساتھ دیگر سورسز استعمال کرکے ہر طرح سے مکمل مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق وفد ممبران نے کہا کہ سری لنکن ٹیم کو پاکستان میں زبردست تحفظ فراہم کیا گیا، برطانوی وفد نے گزشتہ روز سری لنکا اور پاکستان کے درمیان میچ کے موقع پر سیکیورٹی انتظامات کا بھی جائزہ لیا۔ برطانوی وفد نے کہا کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کھلاڑی کو ہر طرح سے مکمل سیکیورٹی اور عزت دی جاتی ہے جو کہ بہت اچھا اقدام ہے۔

ٹینس کی تازہ ترین عالمی رینکنگ جاری

 انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن کی طرف سے جاری کردہ ٹینس کی تازی ترین عالمی رینکنگ میں مردوں کے سنگلز مقابلوں میں سربیا کے نامور ٹینس سٹار اور ومبلڈن چائنا اوپن چیمپئن نوویک جوکووچ اور خواتین کے سنگلز مقابلوں میں آسٹریلیا کی ایشلے بارٹی چائنا اوپن میں شکست کے باوجود بدستور پہلے نمبر پر براجمان ہیں۔ہسپانوی ٹینس سٹار رافیل نڈال اور سوئٹزرلینڈ کے راجر فیڈرر بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔ خواتین کھلاڑیوں کے سنگلز مقابلوں میں جمہوریہ چیک کی کارولینا پالیسکووا بالترتیب دوسرے نمبر پر ہیں جبکہ چائنا اوپن کی فاتح جاپان کی ناﺅی اوساکا ایک درجہ ترقی کے بعد تیسرے نمبر پر پہنچ گئیں ہیں اور یوکرائن کی الینا سویٹو لینا ایک درجہ تنزلی کے بعد تیسرے سے چوتھے نمبر پر چلی گئیں ہیں۔آئی ٹی ایف کی طرف سے جاری کردہ مینز رینکنگ میں سربین سٹار چائنا اور ومبلڈن چیمپئن نوویک جوکووچ بدستور پہلے نمبر پر براجمان ہیں۔ سپین کے رافیل نڈال دوسرے اور سوئس سٹار راجر فیڈرر تیسرے نمبر پر ہیں۔ روس کے ڈینیئل مدیدوف چوتھے، آسٹریا کے ڈومینک تھیم پانچویں نمبر پر ہیں، جرمنی کے الیگزینڈر زویرو چھٹے نمبر پر ہیں، یونانی کھلاڑی سٹیفانوس ساتویں نمبر پر ہیں، جاپان کے نیشیکوری آٹھویں نمبر پر بدستور قائم ہیں، روس کے کیرن خچانوف نویں اور ہسپانوی روبرٹو باٹسٹا آگٹ دسویں نمبر پر پیں۔فرانس کے گیل مونفلس گیارہویں، اٹلی کے فابیو فوگنینی بارہویں، اٹلی کے ہی میٹو بریٹینی 13ویں، بیلجیئم کے ڈیوڈ گوفن ایک درجہ ترقی پاکر 15 ویں سے 14ویں، کروشیا کے برونا کورک ایک درجہ تنزلی کے بعد 14ویں سے 15ویں نمبر پر چلے گئے ہیں۔ ارجنٹائن کے ڈیگو سچوارٹزمین 16ویں، امریکہ کے جان اسنر دو درجے ترقی کے بعد 19ویں سے 17 ویں، جنوبی افریقہ کے کیون اینڈرسن 18ویں، کینیڈا کے فیلکس ایگر 20 ویں سے 19ویں اور سوئٹزلینڈ کے سٹین وارینکا ٹاپ 20 میں داخل ہوگئے ہیں وہ 21ویں سے ایک درجہ ترقی پاکر 20 ویں نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔کروشیا کے مارین کلک پانچ درجے ترقی پاکر 30ویں سے 25 نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔ ادھر ویمنز سنگلز میں آسٹریلیا کی ایشلے بارٹی چائنا اوپن میں شکست کے باوجود پہلے، جمہوریہ چیک کی کیرولینا پالیسکووا دوسرے جبکہ چائنا اوپن چیمپئن جاپان کی ناﺅمی اوساکا کی ایک درجہ ترقی ہوئی ہے اور وہ چوتھے سے تیسرے نمبر پر پہنچ گئیں ہیں۔ یوکرائن کی الینا سویٹولینا ایک درجہ تنزلی کے بعد تیسرے سے چوتھے نمبر پر چلی گئیں، کینیڈا کی بیانکا اینڈرسکیو ایک درجہ ترقی پاکر چھٹے سے پانچویں، رومانیہ کی سیمونا ہالپ ایک درجہ تنزلی کے بعد پانچویں سے چھٹے نمبر پر چلی گئیں ہیں۔جمہوریہ چیک کی پیٹرا کویٹوا ساتویں، ہالینڈ کی کیکی بریٹنز آٹھویں، امریکہ کی سرینا ولیمز نویں، سوئٹزرلینڈ کی بلیندا بنکک دسویں نمبر پر برقرار ہیں۔ انگلینڈ کی جوہانا کونٹا 11ویں، امریکا کی سلونی سٹیفنز 12ویں، جرمنی کی انجلیق کربر 13ویں نمبر پر قائم ہیں۔ امریکہ کی سوفیا کینن ایک درجہ ترقی کے بعد 16 ویں سے 15ویں اور بیلا روس کی آریانا سابالینکا دو درجے تنزلی کے بعد 14 ویں سے 16 نمبر پر چلی گئیں ہیں۔کروشیا کی پیٹرا مارٹک 17ویں نمبر پر قائم ہیں۔ جمہوریہ چیک کی مارکیٹا تین درجے ترقی کے بعد 21 سے 18ویں نمبر پر پہنچ گئیں ہیں۔ بیلجیئم کی ایلیسی مارٹینز چار درجے ترقی کے بعد 23 ویں سے 19ویں نمبر پر پہنچ گئیں ہیں۔ امریکہ کی علیسن ریسکی چار درجے ترقی کے بعد 24 ویں سے 20 نمبر پر پہنچ گئیں۔ اسی طرح امریکا کی سابق عالمی چیمپئن اور عالمی نمبر ایک وینس ولیمز کی ترقی ہوئی ہے اور وہ 8 درجے ترقی پاکر 59 ویں سے 51 ویں نمبر پر پہنچ گئیں ہیں۔ 

           نیشنل گیمز کی مشعل واپڈا کے حوالے

33ویں نیشنل گیمز کی مشعل حوالگی کی تقریب واپڈا ہاﺅس میں منعقد ہوئی ۔ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن سے سیکرٹری جنرل خالد محمود نے مشعل چیئرمین واپڈا اور واپڈا سپورٹس بورڈ کے پیٹرن انچیف لیفٹیننٹ جنرل مزمل حسین (ریٹائرڈ) کے حوالے کی۔ نیشنل گیمز کی مشعل پاکستان میں کھیلوں کے فروغ میں واپڈا کی خدمات کے اعتراف میں دی گئی۔واپڈا ہاﺅس میں منعقدہ تقریب میں پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور واپڈا سپورٹس بورڈ کے عہدیداروں کے علاوہ کھلاڑیوں نے شرکت کی۔تقریب سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین واپڈا نے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن ، اس سے وابستہ کھیلوں کی تنظیموں اور اداروں کی محنت اور کوشش کی بدولت پشاور میں 33ویں نیشنل گیمز کامیابی سے منعقد ہوں گی۔ واپڈا پاکستان میں کھلاڑیوں کو روزگار فراہم کرنے والا سب سے بڑا ادارہ ہے ۔ پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں سمیت واپڈا سپورٹس بورڈ کے مختلف یونٹوں میں 2ہزار 200سے زائد کھلاڑیوں او رکوچز کو ملازمت حاصل ہے۔ واپڈا کی مختلف کھیلوں میں مجموعی طور پر 66ٹیمیں ہیں، جن میں مردوں کی 37جبکہ خواتین کی 29ٹیمیں شامل ہیں۔ اس وقت واپڈا کی 30ٹیمیں نیشنل چیمپین جبکہ 22ٹیمیں رنرز اپ ہیں۔واپڈا نے ملک میں کھیلوں کے معیار کو بہتربنانے اور کھلاڑیوں کی فلاح و بہود کے لئے چار سکیمیں بھی متعارف کرائی ہیں جن میں واپڈا سپورٹس انڈاﺅمنٹ فنڈ ، واپڈا اتھلیٹکس کولٹس ، فوکس آن فٹنس اینڈ فیلڈنگ اور ٹی12-کرکٹ شامل ہیں۔

 24 ویں نیشنل بوائز ایج گروپ سوئمنگ چیمپئن شپ جاری

پنجاب سوئمنگ ایسوسی ایشن کے زیراہتمام پنجاب انٹر نیشنل سوئمنگ کمپلیکس میں منعقد ہونے والی 24 ویں نیشنل بوائز ایج گروپ سوئمنگ چیمپئن شپ میںمختلف کیٹیگریز کے مقابلے ہوئے، پہلے روز ہونے والے مقابلوں میں 3قومی ریکارڈز قائم ہوئے، پنجاب کے زین یونس نے انڈر 16 کیٹیگری میں50میٹر فری سٹائل 25.88وقت میں مکمل کیا، پنجاب کے ہی ابراہیم رشید نے انڈر 14 کیٹیگری میں 200میٹر فری سٹائل 2.17.76وقت میں طے کیا، پنجاب کے ہی دانیال غلام بنی نے انڈر 12 کیٹیگری میں 100میٹر بریسٹ سٹروک 1.13.70وقت میں مکمل کیا۔ پہلے روز کے مقابلوں کے نتائج کے مطابق 50 میٹر بیک سٹروک انڈر 16میں پنجاب کے عبداللہ اشفاق نے پہلی، پنجاب ہی کے محمد حسن نے دوسری اور سندھ کے عبداللہ بنگالی نے تیسری پوزیشن لی،100میٹر بریسٹ سٹروک انڈر 14میںپنجاب کے دانیال غلام نبی پہلے، پنجاب ہی کے حمزہ آصف دوسرے اور سندھ کے ریان عدنان علی تیسرے نمبر پر رہے، 4x200میٹر فری سٹائل انڈر 16میں سندھ کے حمزہ ، ذیشان، نجیب اور سمیر نے پہلی ، پنجاب کے عبداللہ، حسن، فیروز اور عدیل نے دوسری جبکہ خیبر پختونخوا کے فارس، طارق، مجتبٰی اور حارث نے تیسری پوزیشن حاصل کی، 50 میٹر فری سٹائل انڈر16میں پنجاب کے زین یونس اور عدیل رزاق نے پہلی ، دوسری، سندھ کے نجیب خرم نے تیسری پوزیشن لی،200میٹرفری سٹائل انڈر 14میں پنجاب کے ابراہیم رشید پہلے، سندھ کے طحہ انور علی دوسرے اور پنجاب کے میکائل فیصل تیسرے نمبر پر رہے،400میٹر فری سٹائل انڈر 16میں سندھ کے ذیشان عباس پہلے، سندھ کے ہی سمیر آصف دوسرے اورپنجاب کے عبداللہ سلمان نے تیسری پوزیشن لی،200میٹر بیک سٹروک انڈر 14میں خیبر پختونخواکے احمد درانی پہلے، سندھ کے سیف خرم دوسرے اور پنجاب کے حمزہ آصف تیسرے نمبر پر رہے، 100میٹر بٹر فلائی انڈر 12میں سندھ کے سید اذلان سہیل نے پہلی، پنجاب کے معید صادق لون نے دوسری اور پنجاب ہی کے سلیمان بابر نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔

  رضوان سینئر کی قیادت میں قومی ہاکی ٹیم کا اعلان 

اولمپکس گیمز میں رسائی راو¿نڈ کیلئے قومی ہاکی ٹیم کا اعلان کردیا گیا ہے، ٹیم میں 19کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے۔ ہالینڈ کے خلاف 26 اور 27 اکتوبر کو ایمسٹر ڈیم میں ہونے والے میچوں کے لئے ٹیم کی قیادترضوان سینئر کے حوالے کی گئی ہے جبکہ عماد بٹ نائب کپتان ہوں گے۔ نیشنل ہاکی اسٹیڈیم میں ہونے والے حتمی ٹرائلز کے بعد چیف سلیکٹر منظور جونیئر نے کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کیا،اس موقع پر صدر پی ایچ ایف بریگیڈیئر (ر) خالد سجاد کھوکھر اور سیکرٹری جنرل محمد آصف باجوہ ، سلیکشن کمیٹی کے ممبران کلیم اللہ ، ایاز محمود ، خالد حمید ، ناصر علی اور وسیم فیروز و دیگرموجود تھے۔ چیف سلیکٹرز نے ٹیم انتظامیہ سے مشاورت کے بعد کھلاڑیوں کا اعلان کیا۔اٹھارہ رکنی ٹیم میں وقار (گول کیپر) ، امجد علی (گول کیپر) ، مبشر علی ، رضوان علی ، ابوبکر محمود ، معین شکیل ، تصورعباس ، اظفر یعقوب ، راشد محمود ، علی شان ، اعجاز احمد ، عمر بھٹہ ، محمد ، رانا سہیل ، رانا وحید ، غضنفر علی ، حماد انجم ،شامل ہیں۔ محمد عرفان سینئر ویزاملنے کی صورت میں 19 ویں کھلاڑی ہوں گے۔پاکستان 22 اور 23 اکتوبر کو جرمنی کے خلاف دو پریکٹس میچ کھیلے گا۔ اس کے بعد 26 اور 27 اکتوبر کو ہالینڈ کے خلاف اولمپک کوالیفائی میچز میں شرکت کے لئے ہالینڈ روانہ ہوں گے۔ ٹیم آفیشلز میں منیجر / ہیڈ کوچ، اولمپئن خواجہ جنید،کوچز میں وسیم احمد ، ظہیر احمد بابر ، اجمل خان لودھی اور سمیر حسین، ویڈیو تجزیہ کار: ندیم لودھی،ڈاکٹر، اسد عباس شاہ،ٹرینر، جیسی ولسن ورک مین شامل ہیں۔

قومی ٹیم ایشین ٹین پن باو¿لنگ چیمپئن شپ میں شرکت کرے گی

 پاکستان ٹین پن باو¿لنگ فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل اعجاز ارحمن نے کہا ہے کہ 7 رکنی قومی ٹیم ایشین ٹین پن باو¿لنگ چیمپئن شپ میں شرکت کرے گی، انہوں نے کہا کہ ایشین ٹین پن باو¿لنگ چیمپئن شپ آئندہ 20 سے 30 اکتوبر تک کویت میں کھیلی جائے گی جس میں 16 ایشیائی ممالک کے مرد اور خواتین کھلاڑی حصہ لیں گے جن میں میزبان کویت ، پاکستان، بھارت، نیوزی لینڈ، فلپائن، ملائیشیا ، قطر، متحدہ عرب امارات، ایران، افغانستان، بحرین، سعودی عرب، چین، ہانگ کانگ، تھائی لینڈ اور مکاﺅ شامل ہیں۔ چیمپئن شپ میں تین مختلف کیٹیگریز کے مقابلے منعقد ہونگے جن میں سنگلز، ڈبلز اور ٹیم ایونٹ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیم سات کھلاڑیوں پر مشتمل ہوگی جن میں محمد صالح، احمر عباس سڈھرا، علی سوریا، امجد محمود، عبداللہ، دنیال شاہ اور ساجد شاہ شامل ہیں۔ ٹیم کے ہمراہ خواجہ احمد بطور منیجر ہونگے۔ قومی ٹیم 19 اکتوبر کو کویت رووانہ ہوگی۔

سید زاہد گیلانی میموریل چیس ٹورنامنٹ 13 اکتوبر کو کھیلا جائے گا

 پاکستان چیس فیڈریشن کے زیراہتمام اور پنجاب چیس ایسوسی ایشن کے تعاون سے سید زاہد گیلانی میموریل چیس ٹورنامنٹ 13 اکتوبر کو لاہور میں کھیلا جائے گا۔ چیف آرگنائزر محمد شفیق نے بتایاکہ ٹورنامنٹ کی تیاریاں زور و شور پر ہیں اور ٹورنامنٹ میں ملک بھر سے کھلاڑی حصہ لیں گے۔ ٹورنامنٹ میں اول پوزیشن حاصل کرنے والے کھلاڑی کےلئے دس ہزار روپے، دوئم آنے والے کو سات ہزار روپے، تیسری پوزیشن حاصل کرنے کھلاڑی کو پانچ ہزار روپے انعام ملیں گے۔ چوتھی پوزیشن کےلئے تین ہزار روپے، پانچویں اور چھٹی پوزیشن کےلئے دو، دو ہزار روپے جبکہ ساتویں سے لے کر بارہویں پوزیشن تک کامیابی حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کو پندرہ، پندرہ سو روپے بطور انعام دیئے جائیں گے۔ پاکستان چیس فیڈریشن کے نائب صدر امین ملک نے بتایاکہ پاکستان چیس فیڈریشن کے زیراہتمام ہر ماہ چیس ٹورنامنٹ باقاعدگی سے منعقد ہو رہا ہے جس سے نوجوان نسل کو سیکھنے کا موقع مل رہا ہے

فیفا کا بیچ سوکر ورلڈ کپ کے شیڈول کا اعلان 

 فیفا نے بیچ سوکر ورلڈ کپ 2019ءکے شیڈول کا اعلان کر دیا ہے، میگا ایونٹ 21 نومبر سے پیراگوئے میں شروع ہوگا۔ فیفا کے مطابق ٹورنامنٹ میں دنیا بھر سے 16 ٹیمیں شرکت کریں گی جنہیں چار گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے، گروپ اے میں پیراگوائے، جاپان، سوئٹزرلینڈ اور امریکا گروپ بی میں یوروگوائے، میکسیکو، اٹلی اور ہیٹی گروپ سی میں بیلاروس، یو اے ای، سینیگال اور روس جبکہ گروپ ڈی میں برازیل، اومان، پرتگال اور نائیجیریا شامل ہے۔ ٹورنامنٹ کا افتتاحی میچ میزبان پیراگوائے اور جاپان کے درمیان کھیلا جائے گا، ہر ٹیم تین گروپ میچ کھیلے گی، ٹورنامنٹ کا فائنل یکم دسمبر کو کھیلا جائے گا۔

آئی سی سی کا مینز ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کوالیفائر ٹورنامنٹ 18 اکتوبر سے شروع ہوگا

 انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے زیر اہتمام مینز ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کوالیفائر ٹورنامنٹ 2019ئ‘ 18 اکتوبر سے 2 نومبر تک متحدہ عرب امارات میں کھیلا جائے گا۔ 2 نومبر تک جاری رہنے والے ایونٹ میں 14 ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی جن میں میزبان یو اے ای، سکاٹ لینڈ، ہالینڈ، سنگاپور، کینیا، آئرلینڈ، ہانگ کانگ، عمان، برمودا، کینیڈا، جرسی، نمیبیا، نائیجیریا اور پاپوا نیوگنی شامل ہیں۔ سکاٹ لینڈ، ہالینڈ، پاپوا نیو گنی، نمیبیا، سنگاپور اور برمودا کو گروپ اے جبکہ یو اے ای، آئرلینڈ، عمان، ہانگ کانگ، کینیڈا، جرسی اور نائیجیریا کو گروپ بی میں رکھا گیا ہے۔ دونوں گروپس سے ٹاپ ٹیمیں سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ براہ راست ورلڈ ٹی ٹونٹی کپ کیلئے بھی کوالیفائی کر لیں گی۔ 18 اکتوبر کو ایونٹ کے ابتدائی روز سکاٹ لینڈ کی ٹیم سنگاپور اور ہالینڈ کی ٹیم کینیا کے خلاف مہم کا آغاز کرے گی، اسی روز دیگر میچز میں ہانگ کانگ کا مقابلہ آئرلینڈ، اومان کا مقابلہ یو اے ای سے ہو گا۔سیمی فائنلز یکم نومبر جبکہ دو ٹاپ ٹیموں کے درمیان فائنل 2 نومبر کو کھیلا جائے گا۔یا د رہے کہ 2015ء میں منعقدہ کوالیفائر ٹورنامنٹ میں سکاٹ لینڈ اور ہالینڈ کی ٹیمیں مشترکہ طور پر فاتح قرار پائی تھیں۔

رگبی ورلڈ کپ، جاپان، نیوزی لینڈ، انگلینڈ اور آسٹریلیاکی ٹیمیں اپنے پولز ٹیبل پر سرفہرست

جاپان، دفاعی چیمپئن نیوزی لینڈ، آسٹریلیا اور انگلینڈ کی ٹیمیں نویں رگبی ورلڈ کپ ٹورنامنٹ میں اپنے پولز ٹیبل پر سرفہرست ہیں۔ رگبی ورلڈ کپ کے سنسنی خیز مقابلوں کا سلسلہ جاپان میں اپنے عروج کو پہنچ چکا ہے۔میگا ایونٹ میں اب تک کھیلے گئے میچز کے بعد جاپان، دفاعی چیمپئن نیوزی لینڈ، آسٹریلیا اور انگلینڈ کی ٹیمیں اپنے پولز میں ٹاپ پوزیشنز حاصل کر رکھی ہیں۔جاپان کی ٹیم پول اے میں 14پوائنٹس کے ساتھ، دفاعی چیمپئن نیوزی لینڈ پول بی میں 14 پوائنٹس کے ساتھ، انگلینڈ کی ٹیم پول سی میں 15 پوائنٹس کے ساتھ جبکہ آسٹریلوی ٹیم پول ڈی میں 11 پوائنٹس کے ساتھ ٹاپ پوزیشن پر ہیں۔ میگا ایونٹ کا ناک آﺅٹ مرحلہ 19 اکتوبر سے شروع ہوگا اور دو فائنلسٹ ٹیموں کے درمیان میگا ایونٹ کا فائنل میچ 2 نومبر کو کھیلا جائے گا۔ 

مزید :

ایڈیشن 1 -