قادیانیت معاملہ‘ علماء وفد کی شاہ محمود قریشی سے اہم ملاقات

قادیانیت معاملہ‘ علماء وفد کی شاہ محمود قریشی سے اہم ملاقات

  

اسلام آباد/ملتان(سپیشل رپورٹر‘ سٹاف رپورٹر) مولانا محمد حنیف جالندھری کی سربراہی میں تمام مکاتب فکر کے علماء نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات,علماء کرام نے وزیرخارجہ سے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کی طرف سے اقوام متحدہ میں پاکستان کی کردار کشی مہم کا سرکاری طور پردفاع کیا جائے,قادیانیت کا معاملہ 1974 کے بعد صرف ایک مذہبی معاملہ نہیں بلکہ پاکستان کا آئینی معاملہ بھی بن گیا ہے اس لیے پاکستان سرکاری طور پراس کیس کی پیروی کرے,علماء کرام نے وزیر خارجہ کو یاد دلایا کہ(بقیہ نمبر28صفحہ12پر)

1988 میں قادیانیوں نے جھوٹ پر مبنی کیس اقوام متحدہ میں لے جانے کی کوشش کی تھی جسے ضیاء الحق کی جانب سے سرکاری وفد بھیج کر ناکام بنایا گیا,موجودہ وقت کا تقاضہ ہے کہ اس تاریخ کو ایک بار پھر دوہرایا جائے, انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر حکومت کی طرف سے اس معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو یہ پاکستان کے مفاد کے منافی ہوگا‘انٹرنیشنل ہیومن رائٹس نامی ادارے کی طرف سے قادیانی پروپیگنڈے اورجھوٹ پر مبنی رپورٹ تیار کروا کر ایک مرتبہ پھر قادیانی کیس کو اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق میں لے جایا گیا اور بدقسمتی سے کونسل کے اجلاس کے 41 ویں سیشن کے ایجنڈہ آئٹم کے طور پر اسے بحث کے لیے منظور بھی کر لیا گیا ہے جس پر ملک بھر میں سخت اضطراب پایا جاتا ہے اس سلسلے میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے جنرل سیکرٹری اور ممبر اسلامی نظریاتی کونسل مولانا محمد حنیف جالندھری کی سربراہی میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام کے ایک نمائندہ وفد نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کر کے انہیں صورت حال کی سنگینی سے آگاہ کیا وفد میں اہلسنت بریلوی مکتب فکر کے مولانا فاروق خان سعیدی,مولانا قاری عبدالغفار نقشبندی,جمعیت اہلحدیث کے مولانا خالد محمود ندیم اور دیگر علماء بھی شامل تھے-علماء کرام نے وزیر خارجہ کو آگاہ کیا کہ قادیانی مختلف عالمی فورمز پر پاکستان کی کردار کشی اور پاکستان مخالف لابنگ میں مصروف عمل ہیں ان کی حالیہ کوشش بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے-انہوں نے وزیر خارجہ سے کہا کہ قادیانیوں کا معاملہ صرف ایک مذہبی مسئلہ نہیں بلکہ 7 ستمبر 1974ء کے بعد یہ ایک قومی اور آئینی مسئلہ ہے اس لیے اقوام متحدہ میں پاکستان کو سرکاری طور پر اس کیس کی پیروی کرنی ہوگی-علماء کرام نے وزیر خارجہ کو یاد دلایا کہ 1988ء میں بھی قادیانی ایسی کوشش کر چکے جسے جنرل ضیاء الحق کی حکومت نے ناکام بنایا-پاکستان کی طرف سے سرکاری طور پر ایک وفد بھیجا گیا جس نے ممبر ممالک کے نمائندوں سے ملاقات کرکے پاکستانی موقف اور قادیانی پروپیگنڈے سے آگاہ کیا-علماء کرام نے وزیر خارجہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے میں خصوصی دلچسپی لے کر حکومت کے تمام ذمہ داران کو اس کی طرف متوجہ کریں اور مکمل تیاری سے سرکاری طور پر پاکستان کے موقف کا دفاع کیا جائے انہوں نے وزیر خارجہ کے ذریعہ حکومت کو متنبہ کیا کہ اگر حکومت نے اس معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تویہ پاکستان کے مفاد کے منافی ہوگا-اس موقع پر وزیر خارجہ نے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرواء اور اس حوالے سے بھرپور کردار ادا کرنے کا وعدہ کیا-اس موقع پر وفاقی وزیر خارجہ نے جامعہ خیر المدارس اور مولانا خیر محمد جالندھری کے خانوادے سے اپنے دیرینہ اور علاقاء تعلق کی بنا پر سعودی فرماں روا شاہ سلمان کی جانب سے ملنے والا جبہ بھی مولانا جالندھری کو ہدیہ کیا- یاد رہے کہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر اور دیگر حضرات نے باہمی مشاورت سے اس اہم معاملے میں خصوصی کردار ادا کرنے کے لیے مولانا محمد حنیف جالندھری کے نام ایک خصوصی مکتوب ارسال کیا جوعالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماء مولانا اللہ وسایا نے مولانا محمد حنیف جالندھری کی خدمت میں پیش کیا-دریں اثناء مولانا محمد حنیف جالندھری نے ملک بھر کے علماء کرام اوررائے عامہ پر اثرانداز ہونے والے طبقات سے اس حوالے سے شعور و آگاہی مہم شروع کرنے کی اپیل کی.جبکہ پاکستان محفوظ ہاتھوں میں ہے‘ ہماری کامیاب خارجہ پالیسی کی بدولت مسئلہ کشمیر 54سالوں بعد سلامتی کونسل میں زیر بحث آیا۔آج دنیا کے کونے کونے میں نعرہ لگ رہا ہے ”کشمیر بنے گا پاکستا“۔ن نوجوانوں کی بدولت عمران خان وزیراعظم بنے‘تحریک انصاف میں نوجوانو ں کا کردار مثالی ہے۔ نوجوان پیپلز پارٹی اور ن لیگ چھوڑ کر تحریک انصاف میں آئے اور انہی نوجوانو ں کی بدولت ملک میں تبدیلی آئیگی۔ نوجوانوں کی بدولت پنجاب میں تبدیلی کی لہر چلی اور ن لیگ کے اقتدار کا خاتمہ ہوا۔پنجاب میں ایک طویل عرصہ بعد خوش گوار تبدیلی آئی۔ان خیالات وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے سابق وائس چیئر مین یو سی 48 ملک ممتاز بھٹہ،ملک اسلم بھٹہ کی جانب سے دئیے گئے استقبالیہ اور پاکستان ہاؤسنگ سکیم کے افتتاح کے موقع پر کیا۔اس کے علاوہ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ٹمبر مارکیٹ میں کارپٹ روڈ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت بحرانو ں کی صورت میں ملی خزانہ خالی تھا۔ان حالات میں ہمیں مشکل فیصلے کرنے پڑے‘ ڈالر مہنگا ہواتو مہنگائی بھی بڑھی تاہم ملکی معیشت استحکام کی طرف آ رہی ہے۔ چین کے بہت بڑے سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کے خواہش مند ہیں‘سرمایہ کاروں کے لیے ماحول بنا رہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ سرمایہ کار پاکستان میں آئیں‘ ملکی تاریخ میں ایک طویل عرصے بعد عوامی امنگو ں کے مطابق خارجہ پالیسی تشکیل دے رہے ہیں جس میں تمام ملکوں کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات قائم کررہے ہیں۔

قادیانیت معاملہ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -